امپائر کی انگلی اور جمہوریت کے انگوٹھے

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے واضع الفاظ میں کہا ہے کہ فیصلے عوام ہی نے کرنے ہیں، جمہوریت کے فیصلے جمہور ہی کرے گا، اور امپائیر کی انگلی کے فیصلوں پر یقین ہم نہیں رکھتے مگر کیا کہئے میاں صاحب کرکٹ کے سارے سیغہ جات سیاست کی دنیا پر پورے نہیں اترتے ، اورویسے بھی ہمارے ہاں جمہور انگلی پکڑ کر چلنے کی روش کو بہترین سمجھتا ہے ، کبھی کبھار تونہیں اکثر اوقت جمہوری قیادت نے بھی یہی کیا اور عوام تو یونہی گہرائی میں جانے سے گریزاں رہاکرتی ہے ، جیسے کسی ناتواں بزرگ کو انگلی پکڑ کر سڑک پار کروائی جائے ، ہمارے جمہوری عوام کا بھی یہی رویہ ہے ، یہ ناتواں تو نہیں ہیں مگر یہ ہانکے جانے کی روش پہ چلتے چلتے ناتواںسے بن جاتے ہیں اور پھر اسی امپائیر کی انگلی کی جانب دیکھا کرتے ہیں جس نے کئی بار غلطاپیلوں پر غلط فیصلے کر کے جمہوریت کے گلے میں رسی ڈالی ، گھسیٹا،، اور جانے کیا کیا کچھ نہیں
کیا۔

چلئے یہ تو ہمارے علم میں ہے ہی لیکن ایک عمل احتساب کا بھی ہے جس کے بارے میں بھی سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک آمر کا دیا ہوا نظام ہے جس کا مقصد صرف سیاسی قیادت کے لئے مسائل پیدا کرنا ہے، بحر حال جمہوریت کے سیاہی زدہ انگھوٹھوں میں کئی بار بہ مشکل ہی سہی مگر جا کر تھوڑی سی جان آتی ہے مگر تب ملکی سیاسی قیادت ناگہانیوں کیطرح صاف کر دی جاتی ہے ۔ ، سفید اور سیاہ برادری مل جل کر سیاسی قیادت کا احتسابی عمل شروع کر دیتی ہے تو جمہور میں سیاسی قیادت پر عدم اعتماد کا موسم گرم ہو جاتا ہے، بھر یہ پارہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے، عدم اعتماد کی فضا قام کی جاتی ہے،، اس مقصد کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی ہم نوالہ و ہم پیالہ بنایا جاتا ہے،، وقتی ضرورت ہو جانے کے بعد اسی ہم نوالہ و ہم پیالہ سیاسی جماعت کی الٹی گنتی بھی شروع ہو جاتی ہے،، اس کی سب سے بڑی مثال ازخود ن لیگ ہے جو، ضیائی فکر و نظر کو لئے پروان چڑھی بڑی حد تک اس پر کاربند بھی رہی مگر انیس سو نوے میں میاں نواز شریف نے اپنے ہی لائے ہوئےآرمی چیف کو پرویز مشرف کے خلاف صف آرا ہونا پڑا ،،، گزرتے وقت کے ساتھ معروض بھی بدلتاہے، میاں نواز شریف خود کئی جمہوریت مخالف اقدامات میں پیش پیش پیش رہے جیسا کہ ۱۹۸۸ کااین آر او اور بعد ازاں انیس سو نوے اور انیس سو چھیانوے میں دونوں مرتبہ بینظیر بھٹو حکومت کے خاتمے لے لئے سفید برادری کے دست راس رہے ۔

حالانکہ یہ بات از خود قابل فکر ہے کہ ضیائی آب و ہوا میں جوانی کی سیڑھیاں چرھنے والے میاں نواز شریف کا زاویہ سیاست کیسے بدلا،، لیکن جانے کیاہوا کہ اپنے ہی لائے ہوئےآرمی چیف کو ہٹانے کی تدبیر کی اور جمہوریت پسند ہوگئے، اور تب سے ن لیگ کی الٹی گنتی کا عمل شروع ہوا ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پڑوسی ملک سے سفارتی نرمی کے معمالات پر بھی سفید پوش برادری کے لئے قابل قبول نہیں رہی، بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی 1998ءمیں بس پرسوار ہو کر لاہور تشریف لائے تھے اور انہوں نے مینار پاکستان کی یاترا کر کے پاکستان کی اٹل تاریخی حقیقت کو بھارت کی طرف سے قبول کرنے کا عندیہ دیا تھا، واچبائی ونواز شریف کےدور حکومت میں کشمیر کے مسلئے پر مذاکرات کا ایک جامعہ سلسلہ بھی شروع ہوا تھا جو کارگل کی نذرہو گیا۔

انیس سو نناوے میں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اس کے بعد آمریت کے دور میں جب ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے قائدین ملک سے باہرجلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے ، تب ملک کے مستقبل کے ضامن اور ملک کے سیاہ و سفیدکے مالک ، سیاہ و سفید پوش برادری ہی تھی ،،،، یہ عجب ہے کہ مملکت خدا داد پاکستان کی سیاسی قیادتیں اپنے اپنے مفادات کے لئے سفید پوش برادری کی دست راس تو بن جاتی ہیں لیکن جیسے ہی اُن کی ضرورت ختم ہوتی ہے تو ان سیاسیوں کے خلاف بھی محاز آرائی شروع ہو جاتی ہے ،، اس وقت سیاسی مظلوم جماعتوں کو ملکی وسیع تر مفاد میں ایک دوسرے کا خیال آتا ہے ۔۔ ماضی میں تو یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادتوں نے جلا وطنی کے دوران ملکی حالات کی اصلاح اور مستقبل کے لائحہ عمل کے طور پر 15 مئی 2006ءکو چارٹر آف ڈیموکریسی جو میثاق جمہوریت کے نام سے مشہور ہے دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین اور بعد میں دیگر جماعتوں کےراہنماؤں نے بھی دستخط ثبت کئے۔

دو ہزار سات اختتام کو پہنچتا ہے جلا وطن محترمہ بینظیر بھٹو بھی وطن واپسی پر عام انتخابات میںتحریک لئے میدان میں آن پہنچتی ہیں تب بھی جمہوریت کے انگوٹھوں میں جان آئی تھی ، سانحہ کارساز ہوا،، جان پھر بھی باقی تھی ، جانے کیا ہوا محترمہ بینظیر بھٹو کی زندگی کا چراغ ہی گل کردیا گیا سیاسی میدان بھی خالی اور سیاسی مزاحمت بھی ختم کر دی گئی ، پھر جمہور اور جمہوریت دونوں میں وہ جان ہی نہیں رہی تھی کہ فیصلے کر سکیں ۔ لیجئے پھر میاں نواز شریف کا دور حکومت شروع ہوتا ہے ، اور پھر واویلا شروع ہو جاتا ہے ،، پہلے کچھ عرصہ دھاندلی کا رونا،، پھر پانامہ کا راگ،، اور با آخر سفید برادری کے بھرپر تعاون سے ہتھوڑے بجنے لگتے ہیں نا اہلیاں شروع ہو جاتی ہیں ،، اس بڑھ کر سفید پوشی کی مثال کیا ہو گی جمہویت کے انگوٹھے پھرکمزور پڑ گئے پھر اپوزیشن کی زیادہ تر سیاسی قیادتیں سفید پوشی کی نظر ہو جاتی ہیں اور ایوان بالا میں سیاسی نامعلوم لوگ نا بالغ لوگ لائے جاتے ہیں ،، اور جوڑ توڑ سے بے ہنگم کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں، ماضی میں بھی ایک سیاسی جماعت کی خار میں باقی جماعتیں اپنے سیاسی مفادات کی خاطر جمہوریت مخالف سرگرمیوں کا حصی بنتی رہی ،، اور تازہ ترین صورتحال بھی یہی پھرمنظور نظر سیاسی قیادت جمہور پر مسلط ہوتی ہے،،، اور یونہی ۔۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
اور یونہی زندگی تمام ہوتی ہے
معلوم یہی ہوتا ہے کہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک سیاہ پوش اور سفید پوش لوگ ہی ہیں ، ایسےمیں جمہوریت کے انگھوٹھے ہتھوڑے پڑ جانے سے کانے پڑ جاتے ہیں موجودہ صورتحال بھی یہی ہے سیاہ و سفید برادری کی شراکت داری سے دھڑا دھڑا ہتھوڑے بجتے جاتے ہیں ، بحر حال سابق وزیر اعطم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ امپائیر کی انگلی پر نہیں جمہوریت کے انگھوٹھوں پر یقین رکھتے ہیں،،،جانے یہ قول کب صادق ہوتا ہے ،،،، اب یہ بات قابل ذکر ہے کہ نا اہلیوں کے اس دورمیں جمہور کو سیاہ و سفید کی سوجھ بوجھ آنے لگی ہے ایسا محسوس ہو تا ہے ؟۔۔۔۔۔ آپ کو بھی کہیںایسا تو نہیں لگتا ۔۔۔ ؟