آزاد کشمیر میں ججز و بلدیاتی انتخابات کے معمے اور ظالم سماج؟

آزاد جموں وکشمیر عدالت العالیہ میں ججز کی تعداد نو ہے مگر اس وقت بشمول چیف جسٹس کے چار ججز موجود ہیں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے پانچ ججز کی کرسیاں خالی چلی آرہی ہیں اٹھارہ ماہ قبل چیف جسٹس وقت سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہائی کورٹ وقت نے اپنی اپنی جانب سے نام تو دئے مگر ان پر باہمی اتفاق نہ ہو سکنے کے باعث ججز کی تعیناتیاں عمل میں نہ آسکیں اور گزشتہ سے پیوستہ ماہ پھر ایک بار پہلے ہی جیسی صورتحال رونما ہو ئی جسکے باعث ججز کی پانچوں کرسیاں پر جیسا تھیں ویسا ہی ہیں کیطرح انتظار کی کیفیت برقرارہے اور یہ انتظار ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے آزاد کشمیر کے آئین قانون کے تحت سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار واضح ہے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جج تعیناتی کے لئے نام تجویز کرتے ہیں اور دونوں کا اپنے اپنے تجویز کردہ ناموں میں جن پر اتفاق ہو جا ئے ان کے پینل بنا کر صدر ریاست (حکومت )کو رسال کر دیئے جاتے ہیں جو ان کی سمری چیئرمین کشمیر کونسل کو بھجواتے ہیں اور چیئرمین کشمیر کونسل کی منظوری کے ساتھ ہی مطلوبہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ججز کی تعیناتی عمل میں آ جاتی ہے.

انصاف کی کرسی کیلئے جج کا تجربہ یعنی قانونی امور پر درسترس، اچھی ساکھ کا حامل پروفیشنل ہونا لازمی ہے جس کے انتخاب میں میرٹ بنیاد ہو تو پھر ایک لمحہ کیلئے بھی جج کی کرسی خالی نہ رہے ،مگر آزاد کشمیر میں بطور سماج یہ سب سے بڑا ظلم ہے آئین قانون اصول ضابطے تعلیمات، اخلاقیات دوسرے کیلئے پسند کئے جاتے ہیں اپنی باری آئے تو سب کچھ بے معنی ہو جاتا ہے جسکے باعث کم ازکم اس معاملے میں کشمیر کونسل نہ ہوتی تو سماج کے کمزور مگر باصلاحیت میرٹ کے آئینہ دار جج کی کرسی پر آنا تو دورمقدمہ میں انصاف کا ملنا تصور نہ کر سکتے ، چیف سیکرٹری ، آئی جی پی نہ ہوتے تو بڑے سے بڑے آفیسر سماج کے طاقت ور بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہوتے ، بدقسمتی ہے یہاں ذہنی تسکین اور شعبدہ بازی کے دلداہ نعرے دعوئے اور چاند سورج کو لانے کی فلر بازی کر کے خلق خدا کو دھوکہ دیتے ہیں اور صدارتی نظام کی باتیں کر کے خود کو عقل قل سمجھتے ہیں ، ان میں ننانوے فیصد ایسے عناصر ہیں جو خود اپنے کام کو کرنا جانتے ہیں نہ کرتے ہیں بس ان کی زبانیں ان کی کمائی اور پہچان ہیں.

امریکہ میں صدارتی نظام ہے مگر اخلاقیات اور جمہوریت اس کی طاقت ہے ، موجود ہ صدر نے جس طرح اپنے ملک میں دیگر ممالک سے آنے والوں پر پابندیاں لگائی تھیں وہ ایک صوبے کی عدالت نے ختم کر کے انصاف کا جھنڈا بلند رکھا ، این کے اپنے ملک میں انصاف ہے کیونکہ وہاں جج منصب کے تقاضوں کی روح کے مطابق تعینات ہوتا ہے اسلئے خلق خدا کووہاں کی سپر پاور ہے تو یہ بھی سپر پاور کہلاتا ہے ، اگر یہاں بھی ایسا ہوتا تو ججز تعینات ہو چکے ہوتے اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی ہو چکا ہوتا ، یہ کیسا گورکھ دھندہ ہے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے 31 اپریل تک 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے بالغ افراد کا بطور ووٹر فہرستوں میں نام شامل کیا جائے گا کم و بیش 160 رٹ پٹیشن حلقہ بندیوں کے حوالے سے عدالتوں میں زیر کار ہیں.

اب تک الیکشن کمیشن کو صرف 62 لاکھ فنڈز ملے ہیں جبکہ ابتدائی اخراجات کے لئے 12 کروڑ روپے فوری درکار ہیں ، مگر انتخابات کب ہو نگے یہ بتانے سے قاصر تھے کیا انتخابی فہرستیں 2ماہ کے اندر اپ ڈیٹ ہو جائیں گی ، مقدمات کے فیصلے آ جائیں گے ، اور انتخابات ہو جائیں گے جبکہ نادرا سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے اندر عام انتخابات میں مصروف ہو نگے اور شدید گرمی ، حبس ، لوڈشیڈنگ کا عرصہ ہوگا ، یہاں کی ساری قیادت بھی وہاں مصروف عمل ہو گی ، در حقیقت 18 ماہ میں پانچ ججز تعینات نہ ہو سکے تو آمدہ حالات میں بلدیاتی انتخابات کیسے ہونگے، ’’پانی رے پانی ، تیرا رنگ کیسا ،جیسا ملاؤ ، اس رنگ جیسا ‘‘یہاں نظام نہیں سماج بدلنے کا اصل مسئلہ ہے جس کے لئے سب کو خود کو بدلنا ہو گا ۔؟