ہائے ساحل نہ رہے…

زندگی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر

20 مارچ کی شام کو جموں میں میرا فون بجا۔یہ کال میرے ہمدم، میرے دوست مقبول ساحل کے نمبر سے تھی لیکن جب میں نے فون لیاتو پایا کہ آواز ساحل کی نہیں تھی۔ کوئی اور مجھے شجاعت سر کے نام سے پکار رہا تھا۔ استفسار کرنے پر پتہ چلا کہ وہ کوئی راہگیر تھے جنہوں نے ساحل صاحب کو آخری سانس لیتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُن کے مطابق ساحل صاحب کے فون میں میرا نمبر سر فہرست، ’فیورٹ لسٹ‘ میں سب سے پہلے تھا ، اسی لئے اُنہوں نے پہلے یہی نمبر ڈائیل کیا۔ جب اُنہوں نے کہا کہ ساحل صاحب نہ رہے تو میرے پائوں تلے زمین کھسکنے لگی اور میں اپنے وجود پہ لاحق غیر یقینیت کا مقابلہ کرنے لگا۔ میں نے فوراً اپنے دفتر فون کیا اور وہاں سے ایک ٹیم لال بازار روانہ کی جہاں یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ کافی دیر تک میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا، کافی رویا کیونکہ یقین کرنا مشکل تھا کہ جس شخص کے ساتھ میں نے دن کے اڑھائی بجے بات کی اور ایک سٹوری پر بات کی وہ اتنی جلدی ہم سے کیسے جدا ہو سکتا ہے۔

ساحل صاحب بظاہر تندرست نظر آرتے تھے اورانہوں نے کبھی بھی کسی درد میں متبلا ہونے کی شکایت نہیں کی۔ میرے لئے ذاتی طور ان کا جانا ایک صدمہ جانکاہ تھا اور ہمارے ادارے کے لئے ایک بہت بڑا نقصان۔ میں ساحل صاحب کو پچھلے تقریباً 27سال سے جانتا تھا۔ جب میں نے سرینگر پریس انکلیو میں 1990 ء میں صحافت کے پُرخار راستے پرپہلا قدم رکھا تو بہت قسم کے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سینیئر اور جونیئر دونوں شامل تھے۔ کئی ایک نے حوصلہ افزائی کی لیکن کچھ لوگوں کا رویہ حوصلہ شکن بھی رہا۔ اُنہی ایام میں مقبول ساحل کے ساتھ ملاقات ہوئی جو ایک رشتے کی صورت اختیار کر گیا۔یہ رشتہ 20 مارچ2018تک قائم رہا۔ وہ مجھ سے عمر میں کچھ سال بڑے تھے اور اُنہوں نے کالج کے دنوں کے دوران ہی صحافت کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ انہوں نے بالی ووڈ کے وسیع و عریض میدان میں بھی طبع آزمائی کی تھی اور اکثر بڑے لوگوں کے ساتھ روابط کے بارے میں ذکر کرتے تھے ۔ وہ بنیادی طور ایک شاعر تھے جس کی حساسیت کا اندازہ ان کی شاعری سے ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے صحافت کو اپنا ذریعہ معا ش بنایا تھا اور پہلے ایک فوٹو جرنسلٹ کی حیثیت سے اِس میدان میں اُترے تھے۔ فوٹو گرافی کے ساتھ محو رہنے کی وجہ سے ان کی قابل داد صلاحیتیں کافی دیر تک چُھپی رہیں ا ور ان صلاحیتوں کو منظر عام لانے کے لئے اُنہیں ایک ایسی قیمت چُکانی پڑی جو شاید کوئی اور نہیں چاہے گا۔ اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔

جن دنوں ہم اس پیشے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے، اس وقت ساحل صاحب ایک مستند صحافی کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے تھے اور مقامی ہفتہ روزہ اخبار میں بحیثیت رپوٹر اور فوٹوگرافر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔1993 کے حضرتبل محاصرے سے لے کر بجبہاڑہ کے قتلِ عام، چرارِ شریف کے محاصرے اور بعد میں زیارت کی شہادت ، انتخابات اور کرگل جنگ تک میں اور ساحل صاحب اکثر ایک ساتھ رہے ہیں۔ ہم نے قدغنوں اور مُشکلات کا سامنا ایک ساتھ کیا ہے۔ ہم گولیوں کے بیچ مشکل سے بچ پائے ہیں۔ ہم نے دھونس دبائو کے ساتھ ساتھ صحافت کی پر پیچ راہوں کے خوب مزے لئے ہیں۔ ساحل مقبول نے جس جانفشانی سے ایک صحافی کی حیثیت سے اپناکام انجام دیا، شاید وہ اپنے آپ میں منفرد تھا۔ ان کو اس کے لئے شائد ایوارڈ، معاوضہ بھی نہیں ملتا تھا لیکن وہ کبھی بھی اپنے پیشہ سے خفا نہیں تھے اور اِس سے عشق کا بھرپور مظاہرہ کرتے تھے۔ ساحل صاحب ایک اچھے انسان تھے لیکن ان کا مزاج الگ تھا ۔ وہ مشکل سے کسی موضوع پر کسی اور کو سبقت لینے دیتے تھے اور منفرد تکلم کے مالک تھے۔ جہاں وہ اُردو زبان پر دسترس رکھتے تھے وہیں اپنی مادری زبان پہاڑی پر بھی سخت پکڑ تھی۔ مادری زبان پہاڑی ہونے کے باوجود اُنہوں نے کشمیر زبان پر قدرت حاصل کی تھی اور اُنہوں نے جو شاعری کشمیری میں لکھی وہ بھی دل کو چھونے والی ہے۔

ساحل صاحب کی زندگی میں اہم موڑ اسوقت آیا جب انہیں 2004 میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اُن پر پاکستان کی آئی ایس آئی کے لئے کام کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی حالانکہ یہ الزام ابھی تک بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔ اور اس وقت وہ کسی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ چار سال تک وہ کورٹ بلوال جیل میں رہے اور مجھے اُن سے اِس دوران دو دفعہ ملاقات کرنے کا موقہ ملا۔اُنہیں اس بات پر بے حد افسوس تھا کہ جیل جانے کے بعد کشمیرکی صحافتی برادری نے اُنہیں تنِ تنہا چھوڑ دیا۔ کسی نے لب کُشائی بھی نہ کی بلکہ جن کے ساتھ تعلق تھا اُنہوں نے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ لیکن ساحل صاحب نے ہمت نہیں ہاری اور کورٹ بلوال جیل میں بھی وہ مکینوں میں ایک الگ جگہ پا چُکے تھے۔ اُن کے جیل سپرانٹنڈنٹ نے مجھے 2010میں بتا یا کہ وہ سب سے مہذب قیدی ہیں۔ بار بار شکایت کرتے ہیں لیکن اس طرح نہیں کرتے کہ جیل انتظامیہ تنگ آجائے۔ جب ساحل صاحب کو ایک بار سرینگر کی ایک عدالت میں لایا گیا تو میں اُن سے ملاقات کیلئے گیا۔ جونہی اُن پر نظر پڑی ، میں جذباتی ہوگیا کیونکہ میں اپنے ساتھی کو اس حالت میں دیکھ نہ پایا۔ ہم نے چائے اکٹھے پی لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ البتہ اپنے بچوں سے ملنے کی تڑپ اُنکو بہت ستارہی تھی۔

اس دوران اُن کے بھائی محمد یوسف واحد شخص تھے جو مالی مشکلات کے باوجود ساحل کے ساتھ ایک چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ وہ اکثر میرے پاس آتے تھے اور ساحل کو آباد کرنے کے لئے ہم آپس میں مشورہ کرتے تھے۔ جیسا کہ میں پہلے لکھ چُکا ہوں، جیل جانے کے بعد ہم نے دوسرے ساحل کو دیکھا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ بے گناہی کے جُرم میں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دئیے جاتے ہیں وہ ایک نفسیاتی عمل کا شکار ہوتے ہیں لیکن ساحل نے اس اسیری کو استعمال کیا اور دو کتابیں تحریر کر ڈالیں۔ وہ چھ کتابوں کے مصنف تھے ۔ لیکن ’شبستانِ وجود‘ اور ’قدم قدم تعزیر‘ ایسی تصانیف ہیں جو اُنہوں نے جیل میں ترتیب دیں۔ اُن کی میرے ساتھ جیل سے خط و کتابت جاری تھی۔ جب وہ باہر آئے تو ایک بار پھر ساری برادری نے منہ موڑا۔ کچھ لوگ اُن سے ملنے گئے لیکن انکے واپس اپنے پیشے میں آنے کے لئے کوئی انکا چارہ جو نہ بنا۔ ظفر اقبال منہاس نے اُنہیں اپنے اخبار ’پُکار‘ میں جگہ دی اور وہ دھیرے دھیرے واپس اپنے معمول کی طرف آنے لگے۔ اُس کے بعد میں نے اُنہیں ’رائزنگ کشمیر‘ گروپ میں لایا اور وہ دوبارہ اپنی صحافتی زندگی کو سمیٹنے کی کوشش میں لگ گئے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ اُنہیں یہاں آکر سکون مل رہا ہے۔

اُنہوں نے جب’ شبستانِ وجود‘ اور ’قدم قدم تعزیر ‘لکھیں تو مجھے پیش لفظ لکھنے کو کہا۔ میں نے معذرت کی اور کہا کہ کسی کتاب کا پیش لفظ لکھنے کے لئے پہلے خود صاحبِ کتاب ہونا ضروری ہے ۔لیکن اُنہوں نے شفقت کو نظر میں رکھتے ہوئے اصرار کیا کہ میرے بغیر اُن کی کتاب کا پیش لفظ لکھنے کے لئے کوئی اور شخص انکی نظر میں موزوںنہیں ہے۔ یہ اُن کی محبت تھی اور میں مجبور ہوگیا۔ اُنہیں بعد میں ریاستی کلچرل اکیڈمی کے علاوہ فرانس کے’ رپورٹر بغیر سرحد ‘ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اور جے پور کے ادبی میلے میں اُنہیں کئی بار مدعو کیا گیا جس سے ایک قلمکار کی حیثیت سے اُنہیں منفرد شناخت مل گئی۔ ساحل صاحب کی صلاحیتوں کو اندازہ لگانا مشکل ہے۔ پچھلے چار سال کے زائد عرصے میں مجھے اُن کے ساتھ کام کرنے کا نزدیک سے موقعہ ملا۔ وہ کسی بھی وقت، کسی بھی موضوع پر، کسی بھی زبان میں کوئی بھی چیز لکھنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ میں نے کبھی بھی اُن کی زبان سے ’’نا‘‘ نہیں سُنا ہے۔ جیسا میں نے پہلے بھی ذکر کیا کہ ساحل صاحب کا جاناجہاں ایک صدمہ عظیم ہے، وہیں ہمارے لئے ایک بڑا نقصان بھی۔ جو خلاپیدا ہوا ہے وہ وا قعی کوئی پورا نہیں کرسکتا کیونکہ ان کی صلاحیت سے بھرپور شخصیت کا اندازہ شاید میرے بغیر کسی اور کو نہیں ہوسکتا۔

اُن کے گزر جانے کے بعد جہاں اُن کے لواحقین تک پہنچنے اور امداد کا انتظام کرنے کے لئے ایک دوڑ سی لگی، اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تو پہلے قدردانوں کا فقدان ہے اور پھر ایک دوسرے کو مصیبت میں کام آنے سے ہم ہچکچاتے ہیں اور بعد میں کوئی ہم سے جب جُدا ہوتا ہے تو ہم پریس نوٹوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے جیتے جی اگر ہم نے اُن کی قدردانی کی ہوتی تو مجھے یقین ہے کہ اُن کی موت پُر سکون ہوتی۔ لیکن ایک بات جس کا مجھے اطمینان ہے وہ یہ ہے کہ میں نے اپنی طرف سے بھر پور کوشش کی کہ وہ اپنے آپ کو جیل کے اندر اور جیل کے باہر اکیلے نہ پائیں۔ اس کے علاوہ اس حوالے سے میں اور تفصیلات زیر قلم نہیں لا سکتا۔

ساحل صاحب کے ساتھ میرے تعلقات پیشہ ورانہ، دوستانہ اور برادرانہ تھے۔ میں اُنہیں ایک شاعر، ادیب، اور صحافی کی قدر منزلت سے دیکھتا تھا اور میری ہمیشہ کوشش رہتی تھی کہ میں اُن کے ساتھ اس طرح سے پیش آئوں کہ اُنہیں لگے کہ اُن کے ہنرکی قدر ہے ، نہ کہ اُن پر کوئی احسان۔

میرے اچھے دوست اورساتھی جُدا ہوئے ہیں ۔ اس کا دُکھ کافی دیر تک رے گا کہ اُنہیں ہمارے ساتھ زندگی کی کئی اوربہاریں جینی چاہئے تھیں مگر وقت کے سامنے سر تسلیم خم ۔اللہ تعالیٰ سے دُعا گو ہوںکہ اُن کا سفر آسانیوں سے بھر دیں اور ہم سب کو اس جُدائی کے زخم کو برداشت کرنے میں مدد کریں۔ آمین۔ علامہ اقبالؒ کے ان دو اشعار کے ذریعے اپنے مرحوم عزیز کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں :

کتنی مشکل زندگی ہے ، کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موت

یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے
جیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہے