باعث افتخار/انجینئرافتخارچوہدری

یہ جونیامداری ہےیہ تواک بیماری ہے

بندے کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور اس کے تذکرے زمین و آسمان پر ہیں۔ پاکستانی اینکر اس کے قصے سیاست دانوں کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ موصوف کی تصویریں اس کے ٹویٹ ری ٹویٹ ہو رہے ہیں۔ گویا کوئی نیا چاند آیا ہے جس کی صد مبارکیں دی جا رہی ہیں۔

موصوف کوئی جدی پشتی لیڈر نہیں بس اس کے پاس ایک گیدڑ سنگھی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف نیشنل بلکہ انٹر نیشنل میڈیا پر آیا اور چھا گیا۔ منظور پشتین نام ہے اس کا اب آپ کہیں گے وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو اسے اتنا معروف کر گئی جس کے تذکرے ماروی سرمد، جیو، عاصمہ جہانگیر کی بیٹی غرض ہر اس عورت و مرد کے منہ پر ہیں جو اسلام پاکستان دو قومی نظریئے کا کھلا دشمن ہے۔ اس نسخہء جان فزاء کا ذکر بعد میں کروں گا یہاں ایک خاتون کا ذکر کروں گا جو میری بہن جیسی ہے جس نے مشرف دور سے مسنگ پرسنز کی تحریک چلا رکھی ہے جس کا شروع دن سے سپورٹر ہوں آمنہ مسعود جنجوعہ وہ بہن ہیں جن کے سر پر چادر اوڑھوا چکا ہوں ہم گجروں میں ایک ریت رواج ہے کہ جسے بہن کہتے ہیں اسے چادر تحفے میں پیش کرتے ہیں۔

کوئی چار سال پہلے عابد مختار گجر اور میں ان کے اس دفتر میں گئے تھے جو ان کے مسنگ خاوند نے صدر میں کھول رکھا تھا گکھڑ پلازہ کے اس دفتر کو بیچ دیا گیا ہے یہاں وہ اسکول تھا جہاں ان کے کھوئے ہوئے خاوند بچوں کو پڑھاتے تھے آمنہ کی تحریک میں ایک کمی تھی اور یہی کمی ہے جس کا میں نے اپنے کالم میں ذکر کیا ہے۔ اس نے اس ساری جد وجہد میں فوج کو گالی نہیں دی پاکستان کو برا بھلا نہیں کہا۔پشتین وہ لگر بگڑ ہے جو فوج کے مارے ہوئے شکار پر بندوق تان کر کھڑا ہے یعنی وانا وزیرستان فاٹا کراچی میں مرے فوج اور بھنگڑے ڈالے یہ پشتین۔ شیر کے مارے ہوئے شکار پر اکڑنے والے اس لگڑ بگڑ کو کیا کہیں اسے وہ گیدڑ ہی کہا جا سکتا ہے جو کہہ رہا ہے کہ پشتون فوج اور ٹی ٹی پی سے پس رہے ہیں اس کو کوئی سمجھائے ماما تو پہلے کدھر تھا جب سوات فاٹا وزیرستان کراچی میں اف کرنے کی بھی ممانعت تھی؟

آمنہ مسعود جنجوعہ نے ان بے زبانوں کو آواز دی جن کے خاوند جن کے بچے غائب تھے۔ اس نے صدارتی محل کے باہر بھی چیخ و پکار کی اور سڑکوں پر بھی آمنہ کے مظاہروں میں میں بھی شریک ہوتا رہا۔اس کا مقابلہ اس وقت کے ڈکٹیٹر مشرف سے تھا وہ مشرف جو ڈالر لے کر پاکستان کے بیٹے فروخت کرتا رہا۔ احتجاج جاری رہا اس میں کئی بار میاں اسلم ابراہیم پراچہ، نواز شریف، عمران خان بھی شریک ہوئے قاضی حسین بھی شامل تھے لیکن اس کی آواز بیٹھ گئی اسے کسی نے نہیں سنا کوئی ماروی کوئی فرزانہ باری کوئی ہود بھائی اس کی مدد کو نہیں پہنچا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پشتین کی آواز وائس آف امریکہ بی بی سی اور وائس آف جرمنی کے ساتھ ہمارے میڈیا پر سنائی دی گئی موچی دروازے میں ان کے جلسے میں پانی چھوڑا گیا۔

اصل بات یہ نہیں تھی کہ پانی چھوڑا گیا اصل وجہ یہ تھی کہ یہ خبر دنیا بھر میں پھیلائی جائے حضور بات لمبی نہ ہو جائے قصہ یہ ہے کہ جو گیدڑ سنگھی منظور کو ملی ہے اور وہ ہے ملالہ یوسف زئی والی گیدڑ سنگھی جس میں پاکستان کی فوج کو گالی دی جاتی ہے مجھے کسی سے کیا لینا دینا میں تو اپنی بجاتا ہوں اپنی آواز ہے میری چاہے طوطی کی آواز ہو ہے تو اپنی۔ یہ سارے تماشے یہ سارے فراڈ ان کے پیچھے امریکی ڈالر ہیں جو وہ ہمارے میڈیا پر خرچ کر رہا ہے۔ اب یاد آئی اس پشتین کو کہ وہ پشتونوں کا نقیب بن کر سامنے آیا ہے۔ میں اس روز نقیب اللہ محسود کے دھرنے میں گیا میں نے پختون ازم کی بو سونگھ لی تھی اور وہ ویڈیو ریکارڈ پر ہے جس میں کہا تھا کہ یہاں مسئلہ پختون غیر پختون کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ ظالم مظلوم کے اوپر انھے واہ ظلم کر رہا ہے۔ مجھے ان بلوچوں سندھیوں پنجابیوں ہزارے والوں کا بھی خیال آتا ہے جو گمنام راہوں پر مار دیئے گئے جنہیں کسی نے یاد نہیں کیا جو کراچی سے بوریوں میں بند ہو کر گھروں میں پہنچے۔

کسی کو یاد ہے اس دہشت گردی کے خاتمے میں کون کون مارے گئے اور اس غنڈہ گردی دہشت گردی کے خاتمے میں کس ادارے نے کام دکھایا۔ منظور پشتین اور آمنہ مسعود جنجوعہ کے درمیان فرق یہ ہے کہ آمنہ نے فوج کو گالی نہیں دی اس بے سہارا بہن نے اپنے خاوند اور دیگر لوگوں کے لئے عدالتوں میں جانا گوا را کیا۔منظور پشتین کی گیدڑ سنگھی فوج کو گالی دینا ہے عدالت کو گالی دینا ہے۔آئیں اس سے پوچھتے ہیں کہ جو الزام عدلیہ پر لگایا کہ تم تو خوبصورت ہو یہاں عدالت میں کسے تلاش کرتی ہو میرے ساتھ شادی کر لو۔یہ جملہ ایک ایٹم بم سے کم نہیں یہ پشتین اور اس کے ساتھی کہہ گئے مگر انہیں علم نہیں کہ پاکستان کے عوام اپنی عدالتوں پر اعتماد کرتے ہیں لاکھ چیف جسٹس کہتے پھریں کہ انہیں کسی یک جہتی کی ضرور نہیں لیکن حضور ہم اظہار یک جہتی آپ سے نہیں ان فیصلوں سے کر رہے ہیں جو آپ دے رہے ہیں آج جسٹس منیر بن جائیں آپ کے لئے عمران خان ہزار پکاریں کوئی ایک بندہ بھی نہیں نکلے گا۔

آمنہ مسعود اور منظور پشتین کی جد وجہد میں ایک فرق اور بھی ہے آمنہ کے ساتھ چند سر پھرے تھے جن میں سید مودودی کی فکر سے متآثر میرے جیسے چند لوگ اور خود جماعت اسلامی کے وہ لوگ جو سود و زیاں سے بے فکر تھے۔لیکن منظور پشتین کے سرے محمود اچکزئی سے ملتے ہیں وہ اچکزئی جو لسانیت پرست جماعت کا سربراہ ہے دوسرے معنوں میں وہ دوسرا الطاف حسین ہے۔اور اس کے علاوہ ایک گروہ وہ ہے جس کی سربراہی نواز شریف کرتے ہیں یہ مطلب پرست نواز شریف وہی ہے جس نے آمنہ مسعود کے سر پر ہاتھ رکھا اور جب اقتتدار میں آیا تو اس کے سر سے چادر چھین لی اسے سڑکوں پر گھسیٹا۔مراد یہ ہے کہ نواز شریف اقتتدار کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے پاؤں بھی پڑ سکتا ہے اور گلہ بھی پکڑ سکتا ہے۔نواز شریف نے ایک بار کہا تھا کہ یہ لکیر ویسے ہی ہے اور ہم بھی اسی رب کو پوجتے ہیں جس کو بھارتی پوجتے ہیں۔اس کے لئے منظور پشتین کے کفیل محمود اچکزئی کو اپنا سیاسی گرو ماننا ایسے ہی ہے جیسے قائد اعظم محمد علی جناح گاندھی اور نہرو کو اپنا لیڈر مان لیتے۔میں اپنی تحریروں میں کہہ چکا ہوں کہ میاں نواز شریف حد ذات سے باہر دیکھنے کے قائل نہیں ہیں میں نے کئی بار کہا کہ مدینہ کے موہن سنگھ اوبرائے ہوٹل کے ایک ہال میں میاں صاحب میرے سامنے فوج کے بارے میں انتہائی غلیظ کلمات کہہ چکے ہیں اور یہاں یہ بھی لکھ دوں کے زہر ہلا ہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند منہ پر جواب دے مارا کہ حضور ایک حوالدار قابو نہیں آتا آپ پوری فوج کی تذلیل کر رہے ہیں.

گواہی چاہئے مسعود ملک جو اے پی پی پی کے سربراہ ہیں موجود تھے لاہور کے چودھری حنیف تھے۔میں جو فوج فوج کرتا ہوں اس لئے نہیں کہ میں پنڈی وال ہوں صاحب مجھے علم ہے کہ یہ ادارہ کمزور ہوا تو میری نسل ٹھوکریں کھائے گی۔ہم نے کب کہا ہے کہ مارشل لاء لگے لیکن یہ بھی تو نہیں چاہتے کہ مودی کے پاؤں میں بیٹھیں آپ اور ہم چاٹیں آپ کے تلوے ایسا نہیں چلے گا نواز شریف صاحب۔ہماری داستانیں زمانہ جانتا ہے کہ مشرف کی جیل کاٹی جمہوریت کے لئے اور مشرف کو تخت سے اتارا صاف پتھر مار کر کسی اسد درانی اور کرنل طارق سے نہیں ڈرے۔نہ معافی مانگی اور نہ ہی بلک بلک کے روئے۔کیا ہوا سعودی عرب سے اجڑ کر آئے مگر زندہ ہیں ناں اور باوقار زندہ ہیں کدھر ہیں وہ جو اپنے آپ کو خدا سمجھتے تھے لیکن یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پورے ادارے پر کالک ملیں۔ منظور پشتین کی پشت پر آپ ہیں میاں صاحب آپ جناب محمود اچکزئی جن کا سارا گھرانہ کھا پاکستان کا رہا ہے اور اسی کی تھالی میں چھید کر ہرا ہے۔ مجھے تو سچی بات ہے بار بار پشتین کا نام لے کر شرم محسوس ہو رہی ہے یہ ملالہ کا دوسرا رخ ہے یہ عبید شرمین سلمان رشدی تسلیمہ نسرین ضیاء الدین شکیل آفریدی عاصمہ جہانگیر ماوری سرمد فرزانہ باری ہود بھائی طاہر عبداللہ ہے۔قوم کو علم ہو چکا ہے یہی وجہ ہے کہ میڈیا کی مضبوط سپورٹ کے باوجود اس ننگ وطن کا کوئی مقام نہیں۔ اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا جس نے جعلی تصویروں کے بل بوتے پر جاری پراپیگنڈے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ یہ منظور تو نامنظور ہے۔ یہ جو نیا مداری ہے یہ تو اک بیماری ہے۔