آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کادوسال کیلئے مرکزی عہدیداران کا اعلان

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) آل پاکستان جرنلسٹس کونسل(اے پی جے سی) صحافیوں کی فلاح و بہبود اور حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم نے دو سال کیلئے اپنے مرکزی عہدیداروں کا اعلان کردیا مرکزی سرپرست اعلیٰ محمد گلزار چوہدری، بانی وچیئرمین شبیر حسین طوری، سینئر وائس چیئرمین اعجاز بٹ، وائس چیئرمین سید طلعت عباس شاہ، مرکزی سیکرٹری جنرل سید طاہر علی، مرکزی سیکرٹری اانفارمیشن سیدتوقیرحسین زیدی، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سید نور الحسن گیلانی، مرکزی میڈیا کوآر ڈی نیٹر شیخ محمد نعیم کو منتخب کرلیا گیا…

اے پی جے سی کی نئی کابینہ اپنی مدد آپ کے تحت ملک بھر کے صحافیوں کے مسائل ومشکلات کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی آواز بنا کر جدوجہد کریں گے۔ محمد گلزار چوہدری، شبیر حسین طوری تفصیلات کے مطابق آل پاکستان جرنلسٹس کونسل (رجسٹرڈ) نے دو سال کیلئے اپنے مرکزی عہدیداروں کا اعلان کردیا یہ انتخاب آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے مرکزی سرپرست اعلیٰ محمد گلزار چوہدری کے زیر اہتمام ہونے والے مشاروتی اجلاس میں ہوا۔

اے پی جے سی کے مرکزی کوآرڈینیٹر شیخ محمد نعیم کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق 2020-2018 کیلئے مندرجہ ذیل عہدہ داروں کا انتخاب سرپراعلیٰ محمد گلزار چوہدری اور بانی و چیئرمین شبیر حسین طوری کی جانب سے کیا گیا جس کے مطابق اسلام آباد سے سینئر وائس چیئرمین اعجاز احمد بٹ (سٹیٹ ویوز)، سندھ سے وائس چیئر مین سید طلعت عباس شاہ (دی ڈپلومیسی پاکستان)، بلوچستان سے سیکرٹری جنرل سید طاہر علی (آئی این پی نیوز ایجنسی) آزاد کشمیر سے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل سید نورالحسن گلیلانی

(نیوز ون) خبیر پختونخوا ودود جان جوائنٹ سیکرٹری جنرل (خیبر نیوز)، اسلام آباد سے سیکرٹری فنانس کاشف محمود (ہیومن رائٹس ورلڈ نیوز ایجنسی)، لاہور سے اے ڈی شہزاد ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ( ایچ ٹی وی)، خیبر پختونخوا سے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن سید توقیر حسین زیدی (24 نیوز) کراچی سے جوائنٹ سیکرٹری جنرل شیخ خالد زاہد روزنامہ جناح جبکہ ایگزیکٹو ممبران میں سے اسلام آباد سے انعم پرویز (روزنامہ نیا محاذ) سندھ سے محمد زاہد رند (آئی این پی نیوز ایجنسی)، عمران مانی (جیو نیوز)، محمد سلطان خان (روزنامہ اتعمیر بلوچستان) افضال خان (ہیومن رائٹس ورلڈ نیوز ایجنسی)، بلوچستان سے سعید الدین طارق ( 92 نیوز)، محمد بابر (اے این این نیوزایجنسی ).

شاہ رخ خان (پی پی آئی نیوز ایجنسی)، پنجاب سے سید امتیاز حسین شاہ بخاری (ابتک ٹی وی)، غلام مرتضی باجوہ (زیڈ این این نیوز ایجنسی)، محمد طاہر (آئی این پی نیوز ایجنسی)، خبیر پختونخواہ آفتاب حسین (سچ ٹی وی)، حسن فاروق (اے آر وائی نیوز)، محمد رحیم بیگ ( دینا نیوز)، گلگت بلتستان سے مظفر حسین (92 نیوز) علی شیر (کے ٹو ٹی وی)، آزاد جموں و کشمیر سے زاہد حسین شاہ (روزنامہ رہبر) کامران ارشد (کشمیر ٹائمز)، فاٹا سے ہدایت علی پاسدار (ہم نیوز)، سمیع اللہ داوڑ (روزنامہ شمال ٹائم) جبکہ میڈیا کوآرڈینیٹر شیخ محمد نعیم(دی ڈپلومیسی پاکستان) نامزد کیے گئے۔

اجلاس سے مرکزی سرپرست اعلیٰ محمد گلزار چوہدری، بانی و مرکزی چیئرمین شبیر حسین طوری، سینئر وائس چئرمین اعجاز بٹ، وائس چیئرمین سید طلعت عباس شاہ، مرکزی سیکرٹری جنرل سید طاہر علی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آل پاکستان جرنلسٹس کونسل (رجسٹرڈ) صحافیوں کے پیشہ وارانہ استعداد کار بڑھانے، صحافت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے لاجسٹک سپورٹ دینے کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے اپنا متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔

بین الااقوامی سطح پر میڈیا کے میدان میں ہونے والی ترقی و تبدیلیوں کے پیش نظر صحافتی تدریسی اداروں کی معاونت سے میڈیا کے ستون کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کاوشوں میں مگن ہے۔ اے پی جے سی کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ملک بھر کے صحافی برادری کے جائز حقوق اور ان کو درپیش مسائل ومشکلات کو اُجاگر کرنے میں رول پلے کررہی ہیں۔ آل پاکستان جرنلسٹس کونسل (رجسٹرڈ) اپنی مدد آپ کے تحت بلوچستان فاٹا میں ہونے والی صحافیوں کے ساتھ ناروئے سلوک اور تشدد کی ہر فورم پر مذمت کرتے ہیں.

جرنلسٹس کونسل کا زیادہ تر فوکس بلوچستان، فاٹا اور دیگر شورش زدہ علاقوں پر ہیں جہاں پر لا اینڈ آرڈ کی سنگین صورت حال اور مقامی صحافیوں کو سیکیورٹی فورسز ، شدت پسند کالعدم تنظیموں اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے لائف تھریٹ اور دیگر خطرات کا سامنا کرنا شامل ہیں۔

مقررین نے کہا کہ انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود اور عوامی مسائل و مشکلات کو اجاگر کرنے میں میڈیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں کیا جاسکتا کسی بھی معاشرے میں صحافت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا مقام رکھتی ہے۔ صحافی قلم کار معاشرتی تاریخ وتمدن کے اصل وارث ہوتے ہیں جو عوامی مسائل کی نشاندہی کیلئے ریاست کے چوتھے ستوں کی حیثیت سے اپنا رول پلے کرتے ہیں اس کے باوجود ملک کے کونے کونے میں بلارنگ نسل ونسل عوام کی خدمت کرکے ان کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے صحافیوں کو جان لیوا دھمکیوں کے ساتھ ساتھ مختلف انداز سے ڈرانے دھمکانے کا بھی سلسلہ تسلسل کے ساتھ گزشتہ سال کی طرح رواں سال بھی جاری رہا۔

جلسہ جلوسوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں میڈیا ورکرز اور میڈیا ہاؤسز پر حملے کرنے کا سلسلہ بھی جوں کا توں ہے جس کی واضح مثال یکم مئی کو اسلام آباد میں صحافیوں پر تشدد اور لاٹھی چارج بھی ہے گزشتہ ایک سال میں کراچی لاہور کوئٹہ اسلام آباد کشمیر سمیت ملک بھر میں 8 سے زائد صحافی میڈیا ورکرز کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناکر ہم سے جدا کردیا گیا ہے اور میڈیا ہاوسز کو حکومتی اداروں سیکیورٹی فورسز اور کالعدم تنظیموں کے علاوہ مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے من پسند خبروں کی اشاعت کیلئے دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے

جس کی ہم ہر فورم پر مذمت کرتے ہے دوسالہ مرکزی انتخاب کے موقع پر منتخب عہدیداروں نے حکومت پاکستان سمیت ملک کی صوبائی حکومتوں آئی جیز پیزسے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی صحافیوں کے تحفظ کیلئے حکومتی اعلان کردہ پالیسوں کے مطابق عمل کا جائے اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

کیٹاگری میں : فن