آزادجموں کشمیرعبوری ایکٹ 1974 میں ترمیم کا بل اسمبلی میں پیش کردیا گیا

مظفرآباد (سٹیٹ ویوز) آزادجموں کشمیرعبوری ایکٹ 1974 میں ترمیم کا بل اسمبلی اجلاس میں بحث کیلئے پیش کر دیا گیا۔ ایوان میں پیش کیے گئے آئینی ترمیم کے مسودے میں کشمیر کونسل کے اختیارات محدود کرنے سمیت عدلیہ میں ججز تقرری کے طریقہ کار، الیکشن کمیشن کے تقرر ، کونسل کے ممبران و ملازمین کے مستقبل کے تعین ، ٹیکس کلیکشن کے طریقہ کار سمیت دیگر اہم ایشوز کو حل کرنے کے طریقہ کار پر تجاویز سمیت بحث جاری ہے۔

سپیکر شاہ غلام قادر کی صدارت مں جاری اس مشترکہ اجلاس میں ممبران اسمبلی سمیت کشمیر کونسل کے ممبران بھی موجود ہیں جو کونسل سے اختیارات لیے جانے پر اپنی آرا سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔ ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اور پارلیمان سے باہر بیٹھے سیاسی رہنما جہاں اس ترمیمی مسودے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں وہاں وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد آزادکشمیر کو با اختیار بنانے پر سول سوسائیٹی ، وکلا، شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ادھر دوسری جانب کشمیر کونسل کے ممبران کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر عدالت نے 30 مئی تک حکم امتناعی دے رکھا ہے کہ وفاقی حکومت اس آئینی ترمیم کے عمل کو روکے جبکہ وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کر رکھی تھی کہ کیس کی سماعت جلد کی جائے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج وفاقی حکومت کی درخواست قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئینی ترامیم کا مسودہ آزادکشمیر اسمبلی میں پیش تو کر دیا گیا ہے لیکن آئینی و قانونی ماہرین میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ آزادکشمیر ہائی کورٹ کو توہین عدالت کا نوتس جاری کر سکے گی اور کیا یہ اس کے دائرہ اختیار میں ہے ؟