اصلی اور نقلی صحافی کی پہچان

بھلا بتائیے، کبھی سنا تھا کہ کوئی ڈاکٹر شام کو پارٹ ٹائم انجینئرنگ کرتا ہے یا کوئی انجینئر پارٹ ٹائم پلمبر بھی ہے؟ کوئی فیشن ڈیزائنر شام کو پارٹ ٹائم بواسیر کا علاج بھی کرتا دیکھا یا سنا ہے؟ کبھی کسی نے سنا ہو کسی کالج کے لیکچرار شام کو پی آئی اے میں پائلٹ کے فرائض انجام دیتے ہیں؟نہیں ناں۔۔ لیکن اب زمانہ تبدیل ہو گیا ہے۔ یہاں فل ٹائم سیاستدان ، فل ٹائم ڈاکٹریا فل ٹائم وکیل پارٹ ٹائم اینکرکم صحافی بن گئے ہیں۔اب تو ہنسی بھی نہیں آتی ایسی باتوں پر، کتنا کوئی ہنس سکتا ہے ایک ہی جیسے جبر پہ.

مختلف ٹی وی چینلز پر یہ پارٹ ٹائم اینکرکم صحافی وافر تعداد میں بھاری تنخواہ پر دستیاب ہیں، ان کا بنیادی مقصد ٹی وی چینل سکرین کے ذریعہ تھوڑی مشہوری لے کر کسی سیاسی جماعت کو اپنی حمایت کا یقین دلا کر اس پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ جس طرح حکومت چھوٹی چھوٹی ملازمتوں کے لیے این ٹی ایس کی شرط رکھتی ہے مگر بڑی بڑی اسامیاں پر کرتے ہوئے میرٹ صرف اچھا تعلق رہ جاتا ہے۔گورنر ہوں یا ایم ڈی پی ٹی وی۔۔ سب جگہ پر میرٹ جائے بھاڑ میں، ہم تو جانیں صرف یہ کہ فلانے نے فلاں وقت ہمارا کتنا ساتھ دیا۔

ٹھیک اسی اطرح ان منجھے ہوئے سیاستدانوں کو اینکر بناتے ہوئے مالکان چینل صرف ایک فون کال کو بہت سمجھتے ہیں، فون کال پنڈی سے ہو یا اسلام آباد سے، کراچی سے ہو یا لاہور سے یا پھر لندن سے سب کا رزلٹ بہت تیزی سے ملتا ہے ، ان کو تنخواہ بھی لاکھوں روپے ملتی ہے، کچھ مقامی بینکوں میں جائز طریقہ سے اور باقی آف شور اکاؤنٹس میں بیرون ملک ٹرانسفر۔۔ لیکن جب بیس پچیس سال کے تجربہ کار صحافی کو ملازمت پر رکھنا مقصود ہو تو پھر کم از کم تین انٹرویو ہوں گے، اسے ٹھوک بجا کر دیکھا جائے گا، پھر ہزاروں روپے تنخواہ پر رکھ کر اس کی ذات پر احسان کیا جائے گا۔
جس فل ٹائم سیاستدان کا منجن جلدی بکتا ہے اس کو ٹکٹ جلدی مل جاتا ہے اور تو اور اکثر اوقات یہ جغادری سیاستدان ایک پارٹی کی حکومت ختم ہوتے ہی دوسری پارٹی میں چھلانگ مار کے پہنچ جاتے ہیں۔ ویسے ان میں سے بعض مستقل مزاج بھی ہوتے ہیں۔

حال ہی میں ایک پارٹی نے اپنے بہت ہی سینئر بندے کی جگہ ایک ایسے ہی اینکر کو بھرتی کیا ہے، اسے ٹکٹ بھی دیا مگر وہ رزلٹ سن کر رو دیا ۔۔ فواد چودھری کے رونے سے متاثر ہو کرپارٹی چیئرمین نے اسے پارٹی ترجمان بنا دیا۔ پہلے والے ترجمان بھی الیکشن نہیں جیت سکتے اور یہ والے بھی۔ یہ موصوف پہلے وکیل تھے، ان کے عزیز پی پی پی سے تعلق رکھتے تھے اور گورنر پنجاب رہ چکے ، انہوں نے بھی مشرف کے ساتھ اچھا وقت گزارا پھر پیپلز پارٹی میں آ گئے یہاں اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر بنے، انہیں گندے گندے مشورے دیئے حالانکہ وہ خود بھی اس کام کے ماہر تھے۔

جب وہ حکومت ختم ہوئی تو انہیں ایک ٹی وی چینل نے بھرتی کیا۔ یعنی وکالت کے بعد سیاست اور سیاست کے بعدصحافت تک کا سفر بہت جلدی جلدی طے کیا موصوف نے۔ پی ٹی آئی کے دھرنا کے دوران ان کا بس چلتا تو کسی طریقہ سے عمران خان کو وزیر اعظم بنوا کر ہی چھوڑتے۔ انہوں نے تو ٹی وی چینل پر یہ اعلان بھی کیا تھا کہ تین افراد پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے ہیں مگر ہمارے رپورٹرز کنفرم نہیں کر رہے۔ جھوٹ بولنے پر جب ادارے نے انہیں آف ائیر کیا تو انہوں نے اس کا الزام بھی خادم اعلیٰ پنجاب پر ڈال دیا حالانکہ وہ تو اس وقت اپنی چوتھی یا پانچویں بیوی کے گھر پر آرام فرما رہے تھے۔

بہرحال ایسے لوگوں کی تو سخت ضرورت ہے چند اداروں میں اس لیے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ یہ بھی ڈھٹائی کے ساتھ ایک ہاتھ میں سیاست اور دوسرے میںآ زاد ، غیر جانبدار صحافت کا پرچم تھامے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایک اور بھی صاحب ہیں اور اتفاق کی بات ہے یہ بھی وکیل ہی ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی بانٹنے سے کیا پھر اسی بھٹو کی پارٹی میں خدمات انجام دینے لگے اور ان کی کچھ خد مات اتنی پسند کی گئیں کہ انہیں نہ صرف سینیٹر بنایا گیا بلکہ اسی بھٹو شہید کے عدالتی قتل کے کیس میں وکیل بھی مقرر کیا گیا۔

ان کی وکالت جج صاحبان کو اتنی پسند تھی کہ وہ ان کا لائسنس معطل کردیتے تھے، یہ صاحب جناب بابر اعوان اپنے مشہور گانے نوٹس ملیا ۔ ککھ نہ ہلیا۔۔ کے باعث شہرت کی بلندیوں پر پہنچے اور یوں شہید بھٹو کا کیس ایک بار پھر سیاسی وکالت کی نظر ہو گیا، پہلے یحییٰ بختیار نے ان کا کیس عدالتی نہیں بلکہ سیاسی انداز میں لڑا ۔۔ دوسرا موقع ملا تو وہ بھی سیاسی وکالت کی نظر ہو گیا۔
حال ہی میں بابر اعوان کو عمران خان نے پانامہ کیس میں وکیل کیا ہے، اس پر مجھے وہ لطیفہ یاد آ گیا جس میں ایک قتل کیس میں وکیل سے فیس پوچھی گئی تو اس نے پانچ ہزار روپے بتائی ملزم کے گھر والوں نے پانچ لاکھ والا وکیل کر لیا، ملزم کو پھانسی کی سزا ملنے پر پانچ ہزار والے وکیل صاحب بولے یہ کام تو میں پانچ ہزار میں بھی کروا دیتا آپ نے خوامخواہ پانچ لاکھ روپے خرچ کیے۔ یوں لگتا ہے جیسے عمران نے یہ لطیفہ پہلے سے پڑھ رکھا ہے اسی لیے انہوں نے اعتزاز احسن جیسے مہنگے وکیل کے بجائے بابر اعوان جیسے سستے وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں یعنی وہ جانتے ہیں کہ پھانسی تو لگنا مقدر ٹھہرا ۔۔ اس کے لیے مفت میں زیادہ فیس کیوں دی جائے۔

بابر اعوان کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے بھی کیرئیر کا آغاز صحافت سے کیا مگر بچپن سے ہی انہیں امیر بننے کا بہت شوق تھا جس کے باعث انہوں نے بہت جلد صحافت کو خیرباد کہہ دیا اور وکالت شروع کر دی، ویسے بھی اس زمانے میں صحافت میں اتنا جھوٹ نہیں چلتا تھا کیونکہ وہ پرنٹ میڈیا کا زمانہ تھا۔ اب سکرین کی ڈیمانڈ تبدیل ہوئی تو بابر اعوان بھی فوراً صحافی بن گئے اور ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار اور سینیٹر ہونے کے باوجود انہیں اینکر بھرتی کیا گیا۔

ایک چینل میں انہیں اتنی عزت دی گئی کہ جس فلور پر ان کا دفتر تھا وہاں کا ٹائلٹ صرف ان کے لیے مخصوص ہو گیا اور باقی تمام سٹاف کو دوسری منزل پر موجود ٹائلٹ استعمال کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ یہ کراماتی وکیل ، ڈاکٹر، فیشن ڈیزائنر تمام کے تمام بہت آسانی کے ساتھ ایک چینل چھوڑتے ہیں تو دوسرے میں گھس جاتے ہیں حالانکہ ان کا تجربہ صحافت میں نہیں جبکہ صحافت کا تجربہ رکھنے والے تمام احباب اگر ایک ادارے سے نکالے جائیں تو کئی ماہ لگ جاتے ہیں دوبارہ ملازمت ملنے میں۔

اب وہ فواد چودھری ہوں، ڈاکٹر بابر اعوان ہوں، ڈاکٹر شاہد مسعود ہوں، ڈاکٹر دانش ہوں یا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین۔۔ یقین مانیں یہ تمام لوگ کامیاب اس لیے ہیں کہ یہ بہروپ بدلنے کے عادی ہیں، ایک چہرہ رکھنے والا کیا صحافت کرے گا، اس لیے اب یہی لاکھوں، کروڑوں روپے تنخواہ لینے والے لوگ ہی کامیاب صحافی کہلاتے ہیں جبکہ چند ہزار لینے والے اس لیے ہزار پتی کے رتبہ سے آگے نہیں بڑھ پاتے کہ وہ صرف صحافت کرنا جانتے ہیں، بوٹ پالش کرنا جانتے تو ان کا رتبہ بھی لکھ پتی ، کروڑ پتی اور ارب پتی اینکرز کا ہو سکتا تھا۔تو کیا خیال ہے سچ کا آئینہ چمکانا ٹھیک ہے یا پالش کے ساتھ ۔۔۔ چہرہ۔۔؟

ویسے آج کل اصلی اور نقلی صحافی کا فرق کرنا بہت آسان ہو گیا ہے جن کے نام کے ساتھ ڈاکٹر، انجینئر، مولانا یا وکیل لگتا ہو یا جنہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا ہو۔۔ یا جو سب سے زیادہ سکرین پر دکھائی دیں وہ اصلی اور پکے صحافی ہیں اور جو چوبیس گھنٹے کے ملازم خبریں اکٹھی کرنے پر مامور ہیں وہ نقلی صحافی ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، فیشن ڈیزائنر، وکیل یا مولانا اس لیے اصلی ہیں کہ وہ ہمارے سامنے تازہ تازہ صحافی بنے ہیں باقی قلم مزدور ہیں جن کے ذمہ مزدوری ہے ، اس لیے وہ مزدوری کرتے رہیں اسی پرانی تنخواہ پر.

اپنا تبصرہ بھیجیں