الوداع…راحیل شریف!

ابھی کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے جب 29نومبر 2013 کو جنرل راحیل شریف نے بحثیت پندرہویں آرمی چیف پاکستان آرمی کی کمان سنبھالی۔ وہ میرعساکر بننے سے پہلے بھی معزز و محترم تھے اس لئے کہ ان کا تعلق ایک ایسے خانوادے سے تھا جو شمع وطن پر جاں سوز ہونے کی روایات کا امین رہا ہے۔ لیکن بحثیت آرمی چیف اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد اس نیک نامی کے اثاثے میں خوب اضافہ کیا۔ ہماری سپا ہ پر ایک ایسا وقت بھی پڑا جب وردی پہن کر عوام میں جانے سے گریز کیا جانے لگا تھا لیکن اس رنگ ریز نے اس خاک رنگ وردی کو پھرسے اعزاز وا حترام کے رنگ میں رنگا۔

سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے کارواں کی میری کا حق بخوبی ادا کیا۔ ان کی سالاری کے دوران بہت لوگوں نے انہیں شکوک و شبہات کی زد پر لئے رکھا ۔ بعض نے اپنی خوش گمانیوں کی پینگ پر جھولے بھی لئے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ کئی بار ایسے مواقع انہیں طشتری میں رکھ کر پیش کئے گئے کہ اگر وہ چاہتے تو بڑی آسانی کے ساتھ بساط الٹ دیتے لیکن انہوں نے جو سپاہیانہ قول دیا تھا مر د کی طرح اس پر ڈٹے رہے۔

یوں ــ’’یارانِ تیز گام‘‘ کو تشنہ کام چھوڑ کر ایک قابل فخر تاریخ بناتے ہوئے انتہائی وقار کے ساتھ ایک پروقار تقریب میں 29نومبر 2016 کو روایتی چھڑی نئے آنے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سپر د کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے ۔ بحرحال جنرل راحیل شریف کا عہد تما م ہوا۔ اب و ہ تاریخ کی امانت ہیں اور تاریخ اپنی امانت کے بارے میں صائب فیصلہ کرتی ہے۔ تاہم تاریخ کی اس حثیت کے اعتراف کے باوجودایسا نہیں ہوتا کہ کسی شخص کے بارے میں سب کچھ تاریخ پر چھوڑ دیا جائے ۔

مردِ کامل تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہے کہ خطائوں سے پاک ہو ، ایک جمع تفریق سی ہے جس کی بناء پر کسی شخص کی خوبیوں اور خامیوں کو پرکھا جاتا ہے کہ کو ن سا پلڑا بھاری تھا۔۔۔خوبیوں کا یا خامیوں کا۔۔۔؟اگر اس میزان پر پرکھا جائے تو جنرل راحیل شریف اپنی ذمہ داریوں کے باب میں بڑی حد تک سرخرو رہے ہیں۔سوائے چند اہل سیاست کے جنہیں سماج کے شعور اجتماعی نے ٹھکرا دیا ہے اور کچھ ایسے اینکرز جو ایک دو دن سے پائوں جلی بندریا کی طرح اپنے ٹاک شوز میں راحیل شریف پر تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں۔

اسکی وجہ راحیل شریف نہیں بلکہ خود یہ نیم خواندہ اور نا تراشیدہ اینکرز حضرات ہیں جنہوں نے اپنی طرف سے جنرل صاحب پر کچھ ایسی ذمہ داریاں بھی عائد کر رکھی تھیں جو آرمی چیف کے فرائض منصبی کا حصہ نہیں ہیں۔آرمی چیف تو صرف ان ذمہ داریوں کا مکلف ہے جو ریاست کے دستوری اور عسکری ڈھانچے نے اس پر عائد کی ہوتی ہیں۔ مثال کے طو پر اگر کوئی کرپٹ ہے تو اس کا احتساب کرنا جنرل راحیل کی ذمہ داریوں میں شامل نہ تھا اور قانون اگر بڑے مگر مچھوں کو اپنی گرفت میں نہیں لے رہا تو اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے ۔جنرل راحیل شریف جب آئے تو شمالی و جنوبی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔

بعد میں اس کا دائر ہ کار پورے پاکستان میں بڑھا کر دہشت گردی کے اس عفریت کو لگا م ڈالی جو پاک وطن کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا ۔ اور آج جب وہ جار ہے ہیں تو آپریشن ضرب عضب کے اثرات اس سے پہلے کئے گئے فوجی آپریشنز اور دہشت گردوں کے تعاقب سے کہیں آگے تک دیکھے جا سکتے ہیں۔ صرف کراچی شہر میں ہی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ، اغوا برائے تاوان اور لوٹ مار کی وارداتوں میں تقریباًً نوے فیصد کمی آئی جب کہ شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت متاثر ہ علاقوں میں حکومتی رٹ کا قیام اور لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی شامل ہے۔ کرپشن کے خلاف جنگ کا عندیہ دیا تو اس کا آغاز اپنے گھر سے کیا ۔

فوج کے اعلی ٰ افسروں کو بدعنوانی کے الزامات پر قانونی کاروائی کا نشانہ بنا کر انہوں نے منفرد مثال قائم کی۔ جنرل راحیل شریف کے ان اقدامات سے بہت لوگوں کو تکلیف بھی ہوئی ۔ کئی نے تو اینٹ سے اینٹ بجانے کی بھی باتیں کیںکیونکہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ضرب عضب میں کاروائی صرف مذہبی عناصر کے خلاف ہوگی لیکن یہ کاروائی جب دہشت گردی کے دیگر زرائع تک پہنچی تو یار لوگ بلبلا اٹھے اور اینٹ سے اینٹ بجانے دبئی چلے گئے۔مسئلہ کشمیر پر جاندار مئوقف، فاٹا سے فوجی بھرتیوں، سی پیک اور گوادر پورٹ جیسے بڑے اقتصادی منصوبوں کا آغاز ان کے دور کی اعلیٰ ترین کامیابی ہے۔

وہ جنگی حکمت عملی ترتیب دینے اور اپنی سپاہ کی پشت پناہی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے جس کا احساس ان کی سپاہ کو بھی بخوبی تھا۔ یہ ایک کمانڈر کی شان اور پہچان ہی تھی کہ انہوں نے اپنے دور کی تمام عیدیں اپنی سپاہ کے ساتھ منائیں ۔ ان کی مقبولیت صرف فوجی بیرکوں تک ہی محدودنہ تھی بلکہ ہر پاکستانی شہری انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ کیونکہ وہ اپنے جوانو ں کے علاوہ ہر مشکل گھڑی میں بھی عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔آج جنرل راحیل شریف اپنے پیچھے بلند معیار اور اعلی ٰ روایات چھوڑ کر جا رہے ہیں جن کو برقرار رکھنا ان کے پیش رو کے لئے یقیناًً کارِ دارد ہو گا۔ اس قابل فخر سپوت کے لئے مجھ سمیت پوری قوم دست بدعا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں