پہلا قدم تو اٹھانا ہی ہو گا فاروق حیدر صاحب!

جناب وزیر اعظم۔۔۔۔۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو پرفریب وعدوں کی میٹھی گولی دیکر سلا دیا جائے ۔۔۔۔تو اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔ یہ لوگ ویسے بھی کونسا جاگ رہے ہیں۔۔۔اگر یہ لوگ بے حسی اور قناعت کی چادر تان کر سو نہیں رہے ہوتے تو کیا اس حال میں ہوتے۔۔۔ غلامی اور محکومی کے تسلسل نے ان سیہ بختوں کو اس قدر اذیت پسند بنا دیا ہے کہ یہ حکمران طبقے کے تذلیل آمیز سلوک کو خندہ پیشانی سے سہے ہی جا رہے ہیں ۔۔۔ نہ ظلم و زیادتیوں پر سراپا احتجاج ۔۔۔نہ آہ و بکا۔۔۔۔ نہ مزاحمت کے آثار۔۔۔ ایسے روبوٹ نما لوگوں کو وعدوں کی دھن پہ نچانا حکمران اشرافیہ کا مرغوب مشغلہ رہا ہے ۔ فاروق حیدر صاحب کی حکومت کے سو دن تو گزر گئے اور وزیراعظم صاحب ابھی تک یہی کہہ رہے ہیں کہ۔۔۔ اگر میرے دور میں بھی کچھ نہ ہوا تو کبھی نہیں ہو گا’۔ پہلے سو دن کی کارکردگی مگر یہ ہے کہ کچھ کرنا تو درکنار ابھی تک ترجیحات کا تعین بھی واضح نہیں ہو سکا۔۔۔حالانکہ سو دن کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا اور نہیں تو کم از کم ترقی اور خوشحالی کے بڑے منصوبوں کی شروعات ہو جانی چاہئیے تھی۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ بطور اپوزیشن لیڈر فاروق حیدر صاحب نے جس طرح سے ریاست کے عوام کے جذبات کی کسی حد تک عکاسی کی تھی وہ جذبہ اب کیوں ماند پڑنے لگا ہے ۔۔۔ حزب اختلاف کی جماعتیں ہوں یا حزب اقتدار۔۔۔ انتخابات میں جانے سے پہلے ہی منشور کی شکل میں اپنا لائحہ عمل طے کر لیتی ہیں۔ سالہا سال اس پر ہوم ورک کرتی ہیں۔ اقتدار میں آ کر تو انہوں نے اپنے منشور کو عملی شکل دینی ہوتی ہے۔۔۔۔ لیکن یہ کام تو سیاسی جماعتیں کیا کرتی ہیں اقتدار پرست ٹولے نہیں۔۔۔۔ ہمارا المیہ ہی یہی ہے کہ مفاد پرست ٹولوں نے سیاسی جماعتوں کا ماسک پہن رکھا ہے۔ سیاسی جماعتیں تو ملک گیر سطح پر متحرک ہوتی ہیں جو مذہب، عقائد ، ذات، نسل میں تفریق کئے بغیر کارکنان کی سیاسی تربیت کرتی ہیں۔ انہیں شعور اور آگاہی دیتی ہیں۔ انہیں مستقبل کے چیلنجر سے نمٹنے کے لئے تیار کرتی ہیں لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ سیاست کا شجرہ چند خاندانوں میں گھومتا رہتا ہے اور مذہب، عائد ، ذات اور نسل کی بنیاد پر عوام میں تفریق اور نفرت کے بیچ بوئے جاتے ہیں۔۔۔۔ المختصر یہ کہ راجہ فاروق حیدر صاحب بھی اسی سیاسی کلچر کا حصہ ہیں اور واقعی اگر وہ سیاست کی غلاظت کو دھونے اور عوام کو راحت پہنچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو بیانات سے آگے بڑھ کر انتہائی اقدامات کرنے ہی ہونگے۔۔۔

وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیراعظم تو بہت کچھ کرنے کے موڈ میں ہیں لیکن فنڈز اور وسائل کی کمی کی وجہ سے کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔۔۔ تو جناب! یہی تو امتحان ہے وزیراعظم کا۔۔۔ قیادت اور کسے کہتے ہیں۔۔۔ بحران سے نمٹنا ہی تو قیادت کا امتحان ہے۔ کوئی بھی ریاست ذرائع آمدن پر کنٹرول اور توازن قائم رکھے بغیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ وسائل کے باوجود ریاست کو دست نگر بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ذرائع آمدن نہ صرف محدود ہیں بلکہ مقامی حکومت کی براہ راست دسترس میں نہیں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مقامی حکمرانوں نے کبھی ریاستی وسائل کو اپنی دسترس میں لینے اور ترقی دیکر آمدن بڑھانے میں دلچسپی ہی نہ لی۔ آج تک زراعت کو جدید بنیادوں پر استوار کر کہ زرعی اجناس کی پیداوار سے مقامی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش ہی نہ کی گئی۔ حالانکہ موزوں آب و ہوا، زرخیز زمین اور آبی ذخائر زرعی پیداوار کے لئے پوری طرح مطابقت رکھتے ہیں۔ آج تک سیاحت کے فروغ پر کوئی توجہ نہ دی گئی حالانکہ سیاحت معیشت کی استواری میں خاطر خواہ نتائج کی حامل ہو سکتی تھی۔ اس کے علاوہ محصولات جو دنیا کے بیشتر ممالک میں ذرائع آمدن میں کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔ لیکن بے چارگی کی انتہا دیکھیں کہ حکومت آذاد کشمیر کے پاس محصولات کا اپنا کوئی نظام ہی نہیں کہ یہاں بھی معاملہ اختیار کا ہے۔ سابق وزیراعظم آذادکشمیر چوہدری عبدالمجید نے کچھ عرصہ قبل دہائی دی تھی کہ آذادکشمیر سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں اکٹھا ہونے والا ریوینیو براہ راست وفاق کو جاتا ہے جبکہ ریوینیو کا پچیس فیصد بھی کشمیر میں استعمال نہیں ہوتا۔ منگلہ ڈیم کی رائیلٹی بھی نہیں دی جا رہی برسوں سے یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے”۔
قابل ذکر ہے کہ آج سے کوئی تین عشرے قبل ضیاالحق مرحوم کے وزیر خزانہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ منگلہ ڈیم کی رائلٹی سالانہ دو ارب روپے بنتی ہے جو کہ آئندہ حکومت آذادکشمیر کو مل جا یا کرے گی لیکن بقول سابق وزیر اعظم آذادکشمیر یہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔

یہ نہایت ہی تکلیف دہ بات ہے کہ آذادکشمیر کی حکومتی اشرافیہ نے اوّل تو اس بات میں دلچسپی ہی نہیں لی کہ ریاست کی عوام کو ریاستی وسائل ، دولت اور فیصلہ سازی میں شراکت دار بنایا جائے اور دوئم یہ کہ اگر کبھی کسی نے آواز اٹھائی بھی تو محض وفاق کی خوشنودی اور اپنے اقتدار کی عمر درازی کے لئے۔ کیا وجہ ہے کہ ریاست کے باشندوں کے لئے زندگی کا پہیہ گھمانا مشکل ہو رہا ہے جو روزگار کی تلاش میں دوسرے ممالک میں مارے مارے پھر رہے ہیں جبکہ طبقہ اشرافیہ کا بینک بیلینس اور اثاثہ جات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ المختصر یہ کہ عوام اور “خواص” کے معیار زندگی میں واضح فرق ہے۔ کیا یہ لوگ عوام کے حقوق کی جنگ لڑیں گے جو خود عوام کش نظام کا حصہ ہیں ؟ جو خود ریاست کی پسماندگی اور عوام کی محرومیوں کی بڑی وجہ ہیں ۔ ان کی مثال تو ایسے ہی ہے کہ بلی کو دودھ کی رکھوالی کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔ جب تک عوام ان لوگوں کو جوابدہ نہیں بنائیں گے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ٹھیک ہے اختیارات اور فنڈز کی عدم دستیابی ایک مسئلہ ضرور ہے لیکن بالفرض یہ مسئلہ اگر نہ بھی ہوتا تو کیا عوام کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوتیں ؟ میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔ پھر بھی عوام کو راحت نصیب نہ ہوتی کہ بنیادی مسائل میں ایک مسئلہ مالی کرپشن بھی ہے۔ اس کا اندازہ تو اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد زلزلہ زدگان اور انفراسٹریکچر کی تعمیر نو کے لئے عالمی ڈونرز ممالک اور خیراتی اداروں کی طرف سے آنے والی امداد کی کثیر رقم بدعنوان لوگوں نے اڑا لی۔ آج تک زلزلے میں تباہ ہونے والے بیشتر تعلیمی ادارے دوبارہ تعمیر نہ ہو سکے اور طلبا بوسیدہ خیموں میں بیٹھ کر علم کی پیاس بجھانے پر مجبور ہیں۔ یہ ظلم کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں مخصوص افراد اور جیالوں کو نوازنے کے لئے زلزلہ زدگان کی امداد کا 55 سے 60 ارب روپیہ بے نظیر اِنکم سپورٹ کے نام پر قائم فنڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ کچھ لوگوں کو ایک ہزار روپے کی ماہوار ایک دو قسطیں بھی جاری کی گئیں لیکن باقی رقم کہاں گئی اس کا پتہ تبھی چل سکتا ہے جب متعلقہ لوگوں کی چھترول ہو گی۔ لیکن کیا عوام کے لئے کچھ کر گزرنے کا عزم ظاہر کرنے والے فاروق حیدر صاحب اپنی توجہ اس جانب مبذول کریں گے؟ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔۔۔

وزیراعظم فاروق حیدر کی حکومت کو بڑے منصوبے شروع کرنے کے لئے فنڈز کی قلت کا مسئلہ ضرور درپیش ہے لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے انہیں پہلا قدم اٹھانا ہی ہو گا۔ سب سے پہلے تو انہیں گزشتہ ادوار میں لوٹی گئی کثیر رقم کی ریکوری کرنی ہو گی جس میں زلزلہ زدگان اور تعمیر نو کی رقم بھی شامل ہے۔ لیکن اس مقصد کے لئے انہیں احتساب کے اداروں کو با اختیار بنانا ہو گا اور اس کے لئے قانون ساز اسمبلی میں ضروری قانون سازی بھی کرنی ہو گی۔ وفاق سے اختیارات کے ازسر نو تعین کا معاملہ بھی اٹھانا ہو گا۔ تعلیم ، انصاف، روزگار ، سیاحت ، زراعت اور محصولات کے حوالے سے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔ وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ محکمہ تعلیم میں میرٹ کی بحالی کے لئے این ٹی ایس کے ذریعے تقرریوں کو ضروری سمجھتے ہیں۔۔۔ اگر وہ میرٹ اور شفافیت لانا چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے۔ لیکن سرکاری اداروں خاص طور پر محکمہ تعلیم کی خستہ حالی دور کرنے کے لئے وہ ایسے اقدامات سے کیوں گریزاں ہیں جن کے لئے تو اضافی فنڈز کی بھی ضرورت نہیں۔ اور یہ کام وہ محض آدھے گھنٹے میں کر سکتے ہیں۔ مثلاً وہ قانون ساز اسمبلی میں ایک بل منظور کروا کر سرکاری اساتذہ اور اراکین اسمبلی کو اس بات کا پابند کیوں نہیں بناتے کہ ان کے اپنے بچے بھی سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی تعلیم حاصل کریں۔ کیونکہ سرکاری اداروں کے معلمین خود تو سرکار سے بھاری تنخواہیں بٹور رہے ہوں اور خود اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں تعلیم دلائیں تو اس کا مطلب اور کیا ہے سوائے اس کے کہ وہ سرکار کے اداروں کو خود اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے رسک سمجھتے ہیں اس لئے کہ ان کو اپنی کارکردگی کا پتہ ہے۔ اسی طرح اگر یہ قانون پاس ہو جائے کہ تمام اراکین اسمبلی علاج معالجے کے لئے سرکار کے ہسپتالوں سے ہی استفادہ کر سکتے ہیں تو اسی صورت وہ صحت کے نظام کو بہتر کرنے میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے وزیراعظم کو پہلا قدم اٹھانا ہی پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں