syed-nazir-gilani

پیٹ سے سوچنے والے لوگ

قسطوں میں ہلاکت
8جولائی 2016سے کشمیر میں جاری کشمیر کی تاریخ کا طویل ترین کرفیو اور بھارتی افواج کی طرف سے ظلم اور بربریت کا جاری سلسلہ ایک طرف اور کشمیریوں اور ان کے ہمدردوں کی مشترکہ کوششوں کا دوسری جانب کل حاصل سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ہم زیادہ تر پیٹ سے سوچنے والے لوگ ہیں ۔

پیٹ سے سوچنے کی سزا یہی ہے کہ ہم بھارتی قابض افواج کو کشمیریوں کو آسان قسطوں میں ہلاک کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔

اس صورتحال کی طرف سینئر رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ صاحب نے اشارہ کیا ہے ۔ یہ سنگین صورتحال ہےاور فوری توجہ طلب بھی۔

5نسلیں
اس میں شک نہیں کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ہمارا اچھا برا کردار اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ اچھے کردار کا گراف بہرحال اونچاہے۔ ہر سطح پر کشمیریوں نے ہمت، جرائت اور جوانمردی کی تاریخ لکھی ہے ۔

غیر کشمیریوں نے بھی اس آڑ میں human traffickingکی اور غیر ریاستی لوگوں کو سیاسی پناہ دلانے کے کاروبار کا ایک وسیع جھال پھیلایا ۔

ہم جانے ان جانے میں غیر ریاستی باشندوں کو ریاستی باشندے ثابت کرنے میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ اس طرح کے کئی گناہوں کا ہم نے ارتکاب کیا ۔

سرحد دوسری پار کی پانچ نسلیں آزاد کشمیر اور پاکستان میں آبادی اور غیرآبا دی کے دو پاٹوں کے درمیان باعزت زندہ رہنے کی کوشش میں لگی ہیں۔ کچھ احباب کی زندگی غربت اور بے بسی کی زندہ کہانی ہے ۔

ان حالات میں یہ لازم ہے کہ ہم احتیاط سے کام لیں اور اپنی ناراضگی اور تنقید میں کسی ایک واحد شخصیت کا ذکر نہ کریں۔ اتنے بڑے حمام میں کسی ایک واحد شخصیت کو پکڑنا انصاف نہیں ۔

سوشل میڈیا پر دست وگریبان ہونے کے بجائے شواہد جمع کر یں اور پھر باقاعدہ ایک نظم کے تحت آزادی کے نام پر پیٹ کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف عملی اقدام کریں۔

سوشل میڈیا آپس میں رابطے کا بڑا ذریعہ ہے ۔الزام عائد کرنے سے قبل ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مشاورت اور CROSS check کرنے کی ضرورت ہے۔

بے احتیاطی نقصان دہ ہے ۔پھر دن بھر میں ایک پوسٹ لگانے سے بھی حق کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنا حصہ ڈالتے رہنا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں