کس کی کشتی بھنور میں ؟

اللہ کا کرم یہ ہوا ہے کہ پاک فوج کی کمان میں تبدیلی کا عمل بغیر کسی حیل و حجت تمام ہوا، جمہوریت،سول ادارے،اور خاص طورپر وزیر اعظم میاں نواز شریف ایک چیلنج کو احسن طریقے سے پورا کرنے میں کامیا ب ہوئے ،اس عمل کو سبو تاژ کرنے اور آخری لمحے “کو”کی تھیوریز بھی میدان میں رہیں !اس سارے عمل میں آخری لمحے تک سیکریسی اور جنرل راحیل شریف کی سویلین سیٹ اپ کو سپورٹ نے بہت سارے سازشیوں کے خیالات کو غلط ثابت کیا۔

جنرل راحیل شریف کی وردی اترتے ہی بہت سا رے بیمار ذہنوں نے زہر اگلنا بھی شروع کردیا،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی سیاسی روح اور روایات کا حامی جنرل راحیل شریف پر انگلی نہیں اٹھاسکےگا کیونکہ اس مرد آہن نے مضبوط جمہوریت کا خواب پورا کر دکھایا. ایک اور نہایت خوفناک کام جو موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خلاف زورو شور سے جا ری ہے اس پر نہ آئی ایس پی آر کام کر رہی ہے اور نہ ہی اسکاسا ئبرونگ اس بحث میں پڑے بغیر کہ اس” پروپیگنڈے “کی ابتداء کس نے کی ؟

ہم کو پاکستان کے وسیع تر مفا دمیں اس کو روکنا ہو گا ، یہ پاک فوج اور متحد پاکستان کے خلاف بہت بڑی ساز ش کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے ، میری اس پر دو تین سینئر عسکری تجزیہ کا روں سے با ت ہو ئی تو انہوں نے میری اس با ت سے اتفا ق کیا کہ جنرل باجوہ کے خلاف پھیلا ئی گئی تما م باتیں بدترین افواہیں ہیں اور انکا اگر توڑ نہ کیا گیا تو معاملات بگڑبھی سکتے ہیںاور نا قابل تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے، ایک را ئے یہ ہے کہ اس پروپیگنڈے کے پیچھے پی ٹی آئی کا سوشل ونگ ملوث ہے جس نے اس کو انتہا تک پہنچایا.

جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب کا مضمون نما تخلیاتی آرٹیکل بھی بہت مزیدار ہے “کہ وہ لکھتے ہیں کہ حکومت کے اندر یہ خوف تھا کہ کہیں آخری لمحے جنرل راحیل شریف سٹینڈنہ لے لیں اس لئے نئے آرمی چیف کے اعلان کو خفیہ رکھا گیا ، اور کچھ لوگوں نے جنرل راحیل شریف کیخلاف پراپیگنڈہ بھی تیز کروا دیا تا کہ انکی پبلک سپورٹ میں کمی لا ئی جاسکے :اس طرح سے راحیل شریف کے پیش رو کو ایک پیغام دیا گیا کہ عوام کبھی بھی جمہوریت کے مقا بلے میں ملٹری افسر کو پسند نہیں کرتے عوام کا برین واش کیا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے ایک کرپٹ ڈکٹیٹر کوبچایا لہذا مستقبل قریب میں کسی بھی جنرل کو سپورٹ نہ کیا جائے کہ وہ غیر قا نونی کام کرے یہ کام بھی کیا گیا کہ کو ئی بھی ملٹری آفیسر عوام کی سپورٹ پر با ہر نہ نکلے کیونکہ عوام کی سپورٹ اسی وقت تک ہو تی ہے جب تک کہ اس جنرل کے جسم پر یو نیفا رم ہو تی ہے.

اس طرح نئی آنیوالی ملٹری لیڈر شپ عوام کی ڈیمانڈ پر توجہ نہیں دیتی، اور آخر میں جرنیلی تبصرہ بڑے کمال کا ہے کہ ہر سول حکومت کی کوشش اور خواہش ہو تی ہے کہ وہ تین یا چار سا ل حکومت کرے اور خوب لوٹ مار اور مال بنا سکےاور پھر کو ئی نہ کوئی مارشل لا لگ جا ئے جو ان کو ہٹا دے تا کہ پھر وہ اپنی سیاست کر سکیں. لیکن اس با ر ملٹری نے یہ خیال اور کوشش ناکام بنا ئی ، اس طرح سے پی پی پی سندھ تک محدود ہو گئی اور ایم کیو ایم توڑ پھوڑ کے عمل کا شکا ر ہے. مسلم لیگ ن کی حکومت نے کئی با ران کو یہ موقع دیا کہ راحیل شریف انکا تخت الٹ دیں لیکن ملٹری نے کوئی انتہائی اقدام نہ اٹھایا اور اس طرح ن لیگ اب بھنور کی طرف بڑھ رہی ہےاور جس طرح سے سول کورٹس اور ملٹری کورٹس میں موجود کیسز پر کام ہو رہا ہے لگتا ہے کہ ایلیٹ کلا س کی گردن جلد شکنجے میں کسی جا نیو الی ہے ـ”

قا رئین کرام !
یہ جو اوپر میں نے ایک جنرل صاحب کا تجزیہ پیش کیا ہے یہ خالصتا ایک فوجی سوچ ہے جو سو ل نظام حکومت کو سڑا، بدبودار اور تھرڈ کلا س سمجھتی ہے. اس میں کو ئی شک نہیں کہ راحیل شریف کے خلا ف پروپیگنڈہ ایسے وقت میں کیا گیا جب انکے الوداع ہو نے میں ایک دو دن با قی تھے ، وہ ایک ایسے جرنل تھے جہنوں نے اپنے ظرف اور قا بلیت سے صرف اور صرف نیک نامی اور شہرت کی بلندیوں کو کما یا ،لیکن شاید مصنف یہ با ت نہیں جا نتا تھا کہ جنرل راحیل شریف کو پاک فوج کی کمان سے بھی بڑا عہدہ دیا جا رہاتھا اور وہ اس با ت پر کمٹڈتھے کہ انہوں نے کسی بھی شکل میں ایکٹینشن نہیں لینی۔

لہذا انکے خلا ف پروپیگنڈے کو سٹنگ گو رمنٹ کو ساتھ جوڑنا انصاف نہیں ،اسی طرح جو جنرل راحیل شریف کو پیش رو ہیں جنرل قمر جا وید با جوہ وہ بھی ایک مین آج کا نسٹی ٹیوشن ہیں ، وہ ملٹری ٹیک اوور کو برا جانتے رہے ہیں اور انکا خیا ل ہے کہ ملٹری کو آئین میں موجودکردار سے تجا وز نہیں کرنا چاہئے ، شا ید جنرل صاحب کا تعلق اس وقت کی ملٹری regimeسے ہے جب جنرل پرویز مشرف کا طوطی بولتا تھا ، لیکن انکو سمجھ آجا نا چا ہئے کہ اب پاکستان میں فکر، اور شعور میں کافی تبدیلی آچکی ہے ۔ آجکا جنرل اور ملٹری کما نڈمیں تربیت اور سوچ کا منبع جنرل راحیل شریف، جنرل رضوان اختر ، جنرل اشفاق ندیم اور جنرل باجوہ جیسی شخصیا ت ہیں جو سب سے پہلے پاکستان اور اسکے آئین کو رکھتی ہیں ، یہی وجہ ہے ملک میں امن اور خوشحالی آرہی ہے اسکا کریڈٹ جہاں سول قیادت کو جاتا ہے وہا ں پر ملٹری قیادت بھی اس پر تحسین کی حقدار ہے.

جہا ں تک مجھے اندازہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو گرانے کیلئے مشرف کی باقیا ت نے ہی 2014میں چا ل چلی تھی جس پر سول لیڈرشپ نے متحد ہو کر اسکا مقابلہ بھی کیا !اس لئے انکا یہ تجزیہ بھی خام خیالی ہی ہے کہ ہر سول حکومت جان بوجھ کے ملٹری کو کو کیلئے تیا ر کر تی ہے اورپھر اسی چھتری تلے لوٹ ما ر کر کے بھا گ جا تی ہے !جہاں تک مسلم لیگ ن کی حکومت کو واٹر لو کی طرف جا نے کا اشارہ کیاگیا ہے وہ بھی صرف دیوانے کا خواب ہی ہے کیونکہ مجھے اس اب ت کا ادرا ک بھی ہے اور میرا تجزیہ بھی ہے کہ میاں نواز شریف کے مخالفین کاایک ہی یک نکا تی ایجنڈا تھا کہ کسی طرح سے انکو پا نچ سال پورے نہ کرنے دو!کیونکہ اگر انہوں نے پانچ سال پورے کردئیے تو ن لیگ نے بجلی بحران سے چھٹکارا پا لینا ہے.

معیشت مضبوط کردینی ہے ، سی پیک کو کسی نہ کسی شکل میں لے آنا ہے اور ملک میں امن میں بہتری آجا نی ہے جو انکو اگلے دس سال تک منتخب کرا دیگی !ابھی کل ہی کی با ت ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ ملک سے بجلی بحران کا مکمل خاتمہ2017کے آخر تک ہو جائیگا !انکو بتایا گیا کہ بدستور سرکلر ڈیٹ میں کمی آرہی ہے اسکی وجہ ریکوریوں میں بہتری، لائن لاسز میں کمی ہے ۔ یہاں جو سب سے حوصلہ افزا بات یہ تھی کہ بجلی کی پیداوار کے سستے طریقوں پر زیا دہ کام ہو رہا ہے جس سے آئل سے بننے والی مہنگی بجلی سے عوا م کی جان چھوٹ جا ئیگی !انشا ء اللہ

اور آخر میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے یہ لکھتا چلوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم میاں نوازشریف کے درمیان ٹیلی فون را بطہ ہوا ہے اور اسمیں ہو نے والی گفتگو خا صی حوصلہ افزاء سے ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ نے میاںنواز شریف کو جا نی پہچانی نوبل شخصیت قرار دیا ہے اور پاکستان کو خوابوں کی سر زمین سے تشبیہ دی ہے اور میاں صا حب کو انہوں نے کہا ہے کہ وہ جب بھی جی چا ہے ان سے فون پر با ت کر سکتے ہیں ، ڈونڈ کیونکہ خود بھی بزنس مائنڈ آدمی ہیں لہذا انہوںنے نواز شریف کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی کثال اس طرح دی کہ آپ کما ل کے ترقی پسند آدمی ہیں جس کی مثالیں پاکستان میں جا بجا دیکھی جا سکتی ہیں !ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان آنے کی دعوت قبو ل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس خوابوں کی سرزمین اور یہاں کے ٹیلنٹڈلوگوں سے ملنے کی خواہش کا اظہا ر کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں