اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی

مجھے علم نہیں کہ حسرت موہانی نے یہ فقرہ کس کیفیت میں اور کس کے لئے کہا تھا لیکن اپنے ارد گر د کے سیاسی حالات اور اپنے سیاستدانوں کی قلابازیاں دیکھ کر خود اپنے آپ سے یہی کہنا پڑتا ہے کہ ’’اک طرفہ تماشہ ہے حسرت کی طبیعت بھی‘‘ ۔۔۔ میرے پاس گزشتہ اخبارات کی شہ سرخیوں کے کچھ تراشے محفوظ تھے جنہیں کھول کر دیکھا تو بے ساختہ یہ دعا نکلی کہ’’اللہ پاک ہم سب پر رحم کریں۔

لیکن یہ دعا بھی اب ایک عادت ثانیہ معلوم ہوتی ہے جس کے بار ے میں یہ معلوم بھی ہے کہ اس کا کوئی اثر ہونے کا نہیں لیکن پھر بھی شاید۔۔۔؟ چونکہ مایوسی گناہ ہے۔ بہرحال وزیر اعظم آزادکشمیر سے منسوب خبر یہ تھی کہ’’مجید اور یعقوب کی طرح حکومت کی تو حشر ان سے برا ہوگا اور اگر 12 سے زائد وزیر بنانے پر مجبور ہوا تو استعفیٰ دے دوںگاکیونکہ خزانہ خالی ہے‘‘۔اور اب خبر یہ ہے کہ’’ وزیراعظم آزاد کشمیر نے خالی خزانے پر مزید بوجھ ڈالتے ہوئے کابینہ میں مزید توسیع کی منظوری دے دی‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ریاست میں اپنے قیام کے 100سے زائد دن مکمل کر نے کے بعد بھی اپنا سکہ جمانے میں ناکام رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی دور کی پالیسیاں ا ب بھی جاری ہیں ۔ بدلا ہے تو صرف چہرہ۔۔۔ یعنی چوہدری عبدالمجید کے چہرے کو راجہ فاروق حیدر سے Replace کیا گیا ہے اور جنا ب زرداری اور بلاول بھٹو کی تصاویر کی جگہ میاں برادران نے لے لی ہے۔ باقی تو سب ویسا ہی چل رہا ہے۔

کابینہ کے پہلے اجلاس میں مسلم لیگ کی حکومت نے تحریک آزادی کشمیر کو اولین ترجیح، آزاد کشمیر کو سوشل و ویلفیئر سٹیٹ بنانے، مالیاتی وانتظامی ڈسپلن پر سختی سے عمل در آمد، ریاستی وسائل میں اضافے اور انتظامی اخراجات کو انتہائی کم سطح پر لانے ، قانون ، آئین اور میرٹ کی بالادستی، تعلیم، صحت ،ذرائع رسل و رسائل کے شعبوں کی ترقی ، آزاد کشمیر میں سرکاری، مالیاتی اور انتظامی کرپشن کے خلاف بڑا کریک ڈائون کرنے ،جدید تقاضوں کے مطابق بہتر منصوبہ بندی کرکے وسائل کا بہترین استعمال، سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت روکنے، قانون اور آئین کی پابندی کرنے والے سرکاری ملازمین کو تحفظ اور کرپشن کا آلہ کار بننے والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کو اپنی ترجیحات قرار دیتے ہوئے فوری طور پر وزراء اور سرکاری ملازمین کا غیر ضروری پروٹوکول اور سٹا ٖف ختم کرنے ، قانون اور میرٹ سے ہٹ کر کی گئی تقرریوں کی چھان بین کے بعد منسوخی اور ذمہ دارافسران کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن تاہم و ہ نظام نہ بدل سکا۔ کرپشن، اقرباء پروری اور من پسند تعیناتیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

راجہ فاروق حیدر خان کے بقول سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کو بعض وزراء نے یرغمال بنا رکھا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ بیورو کریٹس کے ہاتھوں یر غمال بنی ہوئی ہے۔ کفایت شعاری اور بچت کی دعویدار حکومت کے قول و فعل میں تضاد کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کے کشمیر کونسل کے اختیارات ختم کرنے ، دسمبر میں بلدیاتی انتخابات کروانے جن کا انعقاد ممکن نظر نہیں آرہا اورگڈ گورننس کے دعووں کو عملی شکل دینے کے تمام تر اعلانات ہوائی ثابت ہو رہے ہیں۔بلدیاتی الیکشن کے التواء کی وجہ سے بلدیاتی اداروں میں اپنے کارکنان کا سیاسی قتل عام کر کے سیاسی ایڈ منسٹریٹرز کی بجائے من پسند سرکاری ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی نے بھی حکومت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔

آزاد کشمیر کی عوام نے ایک بڑی تعداد میں مسلم لیگ کو آزاد کشمیر کے دیرینہ طلب مسائل کے حل کی امید پراس لئے ووٹ دیا تھاکہ یہ حکومت وفاق اور آزادکشمیر کے مابین برابری ہی نہیں بلکہ باوقار تعلقات استوار رکھتے ہوئے آزاد کشمیر کے معاشی اور سیاسی حقوق کی جنگ آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر لڑ سکے گی ۔ اسلام آباد کے ایوانوں میں بلا ججھک کھل کر دیگر اکائیوں کے مساوی حقوق اور مراعات کے حصول کا مقدمہ پیش کر سکے گی ۔لیکن افسوس۔۔۔! خود ہمارے وزراء الیکشن سے پہلے اور بعد میں بھی یہ کہتے تھکتے نہ تھے کہ کہ مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت آزاد کشمیر حکومت پر پوری طرح مہربا ن ہے ۔

اب وہ وزراء منظرِ عام سے غائب ہیںاور اس مہربانی کے آثاربھی ابھی تک زمین پر نظر نہیں آرہے۔عملًایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر بھاری مینڈیٹ کی وجہ سے قوت فیصلہ سے بھی محروم ہو چکے ہیں ۔ کابینہ میں کوئی ہم آہنگی نہیں ہے ۔وفاقی حکومت سمیت ہمارے وزراء بھی وزیر اعظم کے رویے اور طرز عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ حکومت کی غیر منتحب اور بیوروکریٹس پر مشتمل کچن کابینہ وزیر اعظم کو انجانے خوف کا شکار کر چکی ہے۔کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے اردگرد ایک منجمند سوچ گھیرا ڈالے ہوئے ہے جو ان کے دعووں اور نعروں کی تکمیل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال لوکل گورنمنٹ اور تعلیمی اداروں میں اے ای اوز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی میرٹ کی بجائے رکن اسمبلی کی صوابدید کے تحت تقرر ہے۔

اگر حالات ایسے رہے تومسلم لیگ ن کی یہ حکومت شدید عوامی رد عمل سے دو چار ہو سکتی ہے کیونکہ عوام ہر شعبے میں زمین پر نظر آنے والے عملی اقدامات کی منتظر ہے۔ جناب وزیر اعظم! آپ کی حکومت کے ہنی مون پریڈ کے اختتام کے بعد اب ایک ایک لمحہ کارکردگی دکھانے کے حوالے سے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ یہ آپ کی حکومت کے لئے وہ آئیڈیل وقت ہے جو شائد ڈیڑھ سال بعد میسر نہ ہو ۔جناب وزیر اعظم!تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اور جن حکمرانوں نے کچھ کیا ہے انہیں یاد بھی رکھتی ہے۔ وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے ۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے اپنے قول و فعل سے ، اپنے اقدامات اور دعوئوں کی تکمیل سے تاریخ میں زندہ رہنا ہے یا اس میں دفن ہو نا ہے۔ اگر کچھ کر جائیں گے تو تاریخ آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی ورنہ جہاں اور بہت سے آئے اور چلے گئے آپ کا شمار بھی اسی قطار میں ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں