تلاش/سیدخالدگردیزی

کون مرگیایارو؟

بظاہر رد عمل سےایسامحسوس ہوتا ہےکہ ڈاکٹرشجاعت بخاری کے صحافی کی حثیت سے ہندوستان وپاکستان کےتعلقات اور کشمیریوں کی تحریک کےسیاسی۔سفارتی اور عسکری پہلوؤں سمیت دونوں ملکوں کے معروف بیانیوں پر خیالات اور ان خیالات کوبیان کرنے کاہنر اعلیٰ سطح پر اس قدر قابل لحاظ ضرورتھاکہ انکےقتل کیوجہ سےمظفرآبادسرکار اور اسلام آباد سرکار اپنی جگہ پرغصے میں ہیں اور سرینگر سمیت دہلی سرکاراپنی جگہ پریشان ہےجبکہ عوامی سطح پر الزامات اورشکوک وشہبات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ڈاکٹر شجاعت کےقتل میں ملوث تین ملزمان گرفتاراورآلہ قتل برامد ہو چکاہے۔اب یہ معلوم نہیں کہ ملزم ہی پکڑےگئےہیں یا ملزمان کی آڑ میں کوئی اوررگڑے میں آگئے ہیں۔بہرحال تفتیش مزیدآگےبڑھے تو معلوم ہوپائےگاکہ ایک بےگناہ صحافی کےقتل کی وجوہات کیا ہیں تاہم ادھرذاتی طور پر سردار تنویرالیاس خان کےصوبائی وزیر بننےکی خوشخبری اورعیدکی مصروفیات بھی ڈاکٹر شجاعت بخاری کی رحلت کا غم دور کرنے کاموجب نہیں بن پارہیں۔

مذہبی نقطہ نظر سےرمضان اور پھرجمعرات کودنیاسےرخصتی سمیت جمعہ کےروزتدفین کوخوش بختی کی علامت تصور کیا جاتا ہے اس اعتبارسےتوڈاکٹرشجاعت خوش قسمت ہوئےمگران کے حصے میں دنیاوی اعتبارسےبھی وہ اعزاز آیا جسکی تمناسیاستدانوں اور حکمرانوں کوہواکرتی ہے۔

“جیوتواسطرح کہ زندگی کوبھی رشک آئے۔
مرو توموت کہےکہ کون مرگیایارو۔”

ایسالگتا ہےکہ سرینگر کے وسط میں 14 جون کی شام کو اپنے محافظوں کے ہمراہ افطاری کے لئےدفترسےنکلنےوالے نامور صحافی ڈاکٹر شجاعت بخاری کے جسم میں بارود پیوست نہیں کیاگیا بلکہ جان جانےکےخطرےکےباوجود کنفلکٹ زون میں آزادی اظہار رائے پرقدغن ختم کرانے اور مخصوص بیانیہ سے باہرنکل کرصحافت کو اوپر اٹھانے کاخواب چکنا چورہو گیا ہے۔

کسی بھی کنفلکٹ زون میں کام کرنے والے صحافیوں۔سیاستدانوں ۔ڈاکٹروں۔مجاہدوں۔فوجیوں اور خفیہ اداروں کےلوگوں کوہروقت اپنےساتھیوں میں سےکسی نہ کسی کی موت کی خبرآنےکاکھٹکارہتاہے تاہم ڈاکٹرشجاعت کی شہادت نے اس المیےکوآشکارہےکہ مقبوضہ کشمیرمیں مخصوص بیانیہ کی جڑیں اس حدتک پیوست ہیں کہ اس سے باہر جوبھی جھانکےگا وہ ماردیاجائیگاگویا کچھ نیاسوچاجرم عظیم ہوا جسکی سزا موت ہے۔ ڈاکٹر شجاعت ایکٹوسٹ نہیں بلکہ جرنلسٹ تھےاس لئےانکی شہادت نے پاکستان اورہندوستان سمیت دنیا بھرمیں موجود صحافیوں کے دل ودماغ جھنجوڑ کر رکھ دیئےہیں جبکہ پورے پاکستان سمیت کشمیر میں صحافی برادری سراپااحتجاج ہے اوریہ سمجھتی ہےکہ کنفلکٹ زون میں آزادی اظہار رائےپرپہرےبٹھانے کیصورت میں درست طورپیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینا مشکل ہی نہیں بلکہ موت کو گلے سے لگانے کےمترادف ہےجوانسانی حقوق کی سنگین خلافی ورزی ہے۔

ڈاکٹرشجاعت کی رحلت کےغم میں ڈوبےرہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امن کی تلاش میں مخصوص بیانیہ سےنکل کربین الاقوامی اصطلاحات متعارف کراتے ہوئےقلم اور مائیک کےپیچھےانکی جیسی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرنے والے لوگ بہت کم ہوتےہیں۔انہوں نے ابھی عالمی فورمزپرنہ صرف اس مہارت کا مظاہرہ کرنا شروع کیا تھابلکہ اس مہارت اور اپروچ کو صحافی برادری میں منتقل کر کے کنفلکٹ زون میں “جرنلسٹ” اور”ایکٹوسٹ”کےدرمیان واضع فرق قائم کرنےکابھی آغازکردیا تھا۔

اس ضمن میں وہ صحافیوں کو دو دھاری تلوار پر چلتے ہوئےجس احتیاط کادامن پکڑےرہنے کی تلقین کرتےتھےوہ خوداحتیاط کے باوجود موت کےمنہ میں جاگرےاور یہ واضع کیاکہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیداورپیدا۔

ڈاکٹرشجاعت کیساتھ قلمی تعارف توتھا مگر دلی لگاؤ کا آغاز 2015 میں اسلام آباد کلب میں ہوا جہاں آرپارکےچیدہ چیدہ صحافی تین روز تک ایک چھت تلےجمع تھے اور معلومات کے تبادلے سے سیکھنےکے ایسےعمل سے گذر رہے تھےجس نے آگے چل کر کنٹرول لائن کے آرپار صحافیوں کو آپس میں پیشہ ورانہ بنیادوں پر جوڑکرایک طاقت بنادیا۔

سیکھنےاورسکھانےکادوسرا اجتماع سرینگرمیں ہونا قرار پایا تھالیکن وہاں تین سال تک حالات بدستور خراب رہےجسکی وجہ سے آرپار کے صحافیوں کودرمیانی جگہ”بنکاک” کاانتخاب کرناپڑاجہاں ڈیجیٹل۔پرنٹ والیکٹرانک میڈیا کو لیکر پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانےکی تھیوری اور پریکٹیکل کے بعددونوں اطراف کے صحافیوں نے ایک دوسرے کی موجودگی کافائدہ اٹھاتے ہوئے جوائنٹ کشمیر جرنلسٹس فورم کے قیام کی تجویز پرعملدرامد کا فصیلہ بھی کیا۔

اس فورم کامقصد صحافیوں کو ایساپلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جو خطے میں آزادی اظہاررائےکےحق کے حصول سمیت پیشہ ورانہ مہارت کےلئےصحافتی کمیونٹی کے ایکدوسرے سےتعاون کویقینی بنائے۔یہ کام تنازعہ کشمیر پرایک دوسرےکے آمنے سامنے دو ایٹمی قوتوں یعنی پاکستان اور ہندوستان کے اداروں کی آمادگی کے بغیرممکن نہیں تھا۔ڈاکٹرشجاعت بخاری اور چند دوسرےسینئرز دوطرفہ آمادگی حاصل کرنےمیں کامیاب ہو پائے تھے جو انکی ڈائیلاگ کی صلاحیت کامنہ بولتاثبوت ہے۔

ڈاکٹرشجاعت بخاری کو اس فورم کاپہلاعبوری کنونیئر مقرر کرنےکی تجویزہم سب نےدی مگر انہوں نےیہ کہہ کر انکار کردیاکہ وہ پہلےسےہی کافی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے پھررہےہیں مگراسکےباوجود انکی دلچسپی کا یہ عالم تھاکہ وہ اس ادارے کےقیام کےلئےآئین جیسے بنیادی لوازمات پورےکرنےمیں بھر پور مددکررہےتھے۔اگرحالات نے اجازت دی تو اگلےچندماہ میں آرپار ممبرشپ اورانتخابات کےمعرکے بھی سرہوجائینگے۔

2015 سے2018 تک پیشہ ورانہ امورکولیکر ڈاکٹرشجاعت بخاری کے قریب رہنےکاموقع ملا۔انہوں نے ڈیجیٹل میڈیاگروپ سٹیٹ ویوز کےمقبوضہ کشمیرچپٹرکادبئی میں افتتاح افتخارگیلانی اور ارشاد محمود کےہمراہ کیاجہاں وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی کاذکرکرتےہوئےوہ رو پڑے۔انکے انگلش اوراردو میں کالمز سٹیٹ ویوزپرتواتر سےشائع ہوتے رہے۔انہوں نے انگریزی میں آخری کالم لکھا جس میں انہوں نے دنیا اورخصوصاً جنوبی ایشیاء سمیت کشمیرکو سوشل میڈیا پرچلنےوالی جھوٹی اورجعلی خبروں کی وجہ سےلاحق خطرات پرمفصل روشنی ڈالی۔

وہ بتایاکرتےتھےکہ انکی ذاتی کوئی این جی او نہیں ہے لیکن ہم دیکھتے تھے کہ جنوبی ایشیاء میں سوجھ بوجھ رکھنے والے دیگر صحافیوں کیطرح انہیں بھی مختلف یونیورسٹیوں اورغیرسرکاری اداروں کی جانب سےکانفرنسز میں اظہار خیال کے لئےمدعوکیاجاتاتھا۔وہ مقبوضہ کشمیرمیں ایسےخاندان سےتعلق رکھتےتھےجسےمعاشی آسودگی حاصل ہے۔انکےبعض رشتہ دار دوسرے لوگوں کیطرح مقامی ضرورتوں کیخاطر “سرکار” کا حصہ بھی ہیں تاہم ڈاکٹرشجاعت کے تعلقات وقت کیساتھ ہندوستان اورپاکستان میں وسیع ہوئےاوریہ ایک پیشہ ورصحافی کی ضرورت بھی ہوتےہیں مگرایل او سی اور سرحد کےآرپاروہ کسی “سرکار” کا حصہ نہیں بنے اور غیر جانبدار صحافی کے طورپرابھرے۔

حدسےزیاد سنسرشپ کے باوجود انکے اخبارات بھارت کی سیکوریٹی فورسز کیجانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کولیکر واضع پالیسی اپنائے ہوئے تھےجسکا اعتراف حریت وعسکری قیادت نے بھی انکی شہادت کےموقع پر کھل کر کیا علاوہ ازیں شجاعت بخاری صحافی کی حثیت سےکچھ قدم مزیدآگےبڑھے اورمخصوص بیانیہ کوتوڑاتوانکی دیکھادیکھی دوسرے لوگوں نے بھی ہمت کرناشروع کی اوروہ خبریں بھی منظرعام پر آنا شروع ہوئیں جو عام حالات میں ممکن نہیں تھیں ۔

انہیں یقین تھاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظررکھتےہوئے تنازعہ کشمیر کا پرامن حل اگرممکن ہے تو اسکے لئے لائن آف کنٹرول کےآر پار کشمیریوں کے آپس میں روابط کےقیام سمیت دونوں ملکوں کےدرمیان بات چیت سےقبل پیس پراسس کادوبارہ آغاز بھی ضروری ہے۔

اس مقصد کےتحت انہوں نےاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشن کی قتل سے قبل منظرعام پر آنےوالی رپورٹ مرتب کرنےمیں کلیدی کردار اداکیا جس نےکشمیر میں بھارت کا غیر جمہوری رویہ اور سفاک چہرہ دنیا کے سامنےعیاں کیا۔علاوہ ازیں حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کشمیر پرڈیڈ لاک ختم اوربات چیت کےذریعے مسئلہ کشمیرکاحل تلاش کرنےکا اعلیٰ سطح پرعندیہ بھی دیاگیا جس میں ڈاکٹرشجاعت اوران جیسے دیگراحباب کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔باالفاظ دیگرکشمیری سیاسی وعسکری قیادت جدوجہد کی کتاب کے”پرامن حل اورحق خود ارادیت کےحصول”کےجس صفحے پر اکھٹے ہیں وہ صفحہ اب ڈاکٹر شجاعت بخاری کےخون سےسینچا ہوا ہے۔