لاکھوں نعشوں پرناچتے افراد کا شہرکون سا ہے؟ جانیےاس رپورٹ میں

رپورٹ : صیام خان
سٹیٹ ویوز: امریکہ

روشنیوں کا شہر فیشن کا گھر دنیا کی بہترین خوشبووں کا مسکن پیرس جو فرانس کا درالحکومت بھی ہے دنیا کے اہم لوگ جہاں رہنے کے لیے خواب بُنتے ہیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کی بنیادوں میں ساٹھ لاکھ مُردوں کا مدفن ہے۔

سٹیٹ ویوز کو حاصل مصدقہ معلومات کے مطابق ساٹھ لاکھ مُردوں کا قبرستان ساٹھ لاکھ مُردوں کے ڈھانچے اب بھی وہاں موجود ہیں انھیں کیٹاکومبزآف پیرس catacombs of paris بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قبرستان پیرس شہر کے نیچے دو سو میل طویل سرنگوں میں بنایا گیا ہے جو ایک جال کی شکل میں پیرس شہر کے نیچے موجود ہیں جو لائم سٹون نکالنے کی وجہ سے بنیں جن سے پیرس شہر کی تعمیر کی گئی۔

سترویں صدی میں جب پیرس یورپ کا کاروباری مرکز بنا تو پورے یورپ کے لوگ پیرس کا رُخ کرنا شروع ہو گئے ان لوگوں کی وجہ سے(جو پیرس جو دوسری جگہوں سے پیرس منتقل ہوے تھے) پیرس کی آبادی بہت بڑھ گئی جسکی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا اور ایک بہت بڑے مسلے نے سر اُٹھانا شروع کر دیا جو مُردوں کو دفنانے کے لیے جگہ کی قِلت تھی۔

اکثر بارشوں کے بعد لاشیں قبروں سے باہر نکل آتیں جن سے پھیلنے والے تعفن کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا مُشکل ہو جاتا اور لوگوں کو طرح طرح کی بیماریوں میں مُبتلا ہونا شروع ہو جاتے۔ 1763 میں فرانس کی گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ اب پیرس شہر میں کسی کو دفن نہیں کیا جائیگا جس کی مخالفت وہاں کے چرچ نے کی اور یہ جھگڑا سترہ سال تک چلتا رہا۔اور تب تک لاشوں کو پیرس میں ہی دفنایا جاتا رہا۔

1780ء کی گرمیوں میں ہونے والی طوفانی بارشوں کی وجہ سے پیرس کے قبرستانوں سے لاشیں باہر نکلنا شروع ہو گیئں۔ گلی سڑی لاشوں کا تعفن نا قابلِ برداشت تھا لوگوں کا جینا دوبھر ہو گیا لوگ بیمار ہونا شروع ہو گئے اب فرانس کی حکومت نے عملی قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اُنھوں نے ہر حال میں ان لاشوں کو وہاں سے منتقل کرنا تھا مگر کہاں؟
بہت سوچ و ویچار کے بعد پیرس کے نیچے موجود سُرنگوں کا خیال آیا جنھیں 1977ء میں ہی مرمت کروایا گیا تھا کیونکہ وہاں بارشوں کی وجہ سے زمین بیٹھنا شروع ہو گئی تھی جسکی وجہ سے کافی عمارتیں گر چُکیں تھیں۔

یہ دنیا کی سب سی بڑی لاشوں کی منتقلی تھی۔ جس میں دو سال لگ گئے ایک غالب خیال ہے کہ اگلے سو سال تک لاشوں کی منتقلی ہوتی رہی جب فرانس میں انقلاب آیا تو وہاں مرنے والے لوگوں کی لاشوں کو بھی یہاں رکھا گیا ہے ان ڈھانچوں کی کھوپڑیوں اور ہڈیوں کو بہت ترتیب سے رکھا گیا ہے۔

اس قبرستان میں بننے والی ایک مشہور زمانہ فلم بھی ہے جس کا نام ہے As Above So below تو جب آپ کے پاوں پیرس کے کسی نائٹ کلب میں تھرک رہے ہوں تو تصور کیجیے گا کہ کچھ گز نیچے ایک قبرستان ہے جہاں اُن لوگوں کی باقیات ہے جو کبھی آپ کی طرح ہے ان سڑکوں پر اور روشنیوں میں اپنے انجام سے بے بہرہ تھرکتے، ہنستے، قہقے لُٹاتے چلتے تھے۔بہت سے مہم جُو سیاح ان سُرنگوں کی سیاحت کے لیے ہر سال پیرس آتے ہیں جنھیں ان سُرنگوں میں چلتے ہوے ان لاشوں کی سانس لینے کی آوازیں بھی محسوس ہوتیں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنیوں کے اس شہر کی تاریکیوں کو دیکھنا اگر مقصود ہو تو کیٹاکومبز آف پیرس
catacombs of paris
کا چکر ضرور لگائیں۔ اس میں جانے والے دروازے کو جہنم کا دروازہ کہا جاتا ہے اور اس جگہ کے ساتھ بہت سی کہانیاں وابستہ ہیں۔