صحت مند پنجاب…!!!

راولپنڈی کی ایک شاہراہ پرایک سائن بورڈ پرنمایاں حروف میں مزین تحریر’’ صحت مند پنجاب کاعزم ‘‘ نظر سے گزری اور ابھی چند ہی فرلانگ آگے گزر ا تھا کہ دھول کی ایک چادر کا سماں تھا جسے سڑک پر صفائی کرنے والے خاکروبوں نے تخلیق کیا تھا ۔

موٹر سائیکل سوار اور ان کیساتھ پیچھے بیٹھی خواتین اور بچے اس دھول کو بادل ناخواستہ ا پنی سانسوں میں جذب کر رہے تھے ۔ عجب ہے کہ سکول جانے کے ٹائم پرجو تقریباً ایک؍ آدھ گھنٹے کے لئے ہوتا ہے صفائی والے اپنا کام موقوف نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایک تو موٹر سائیکل ؍ گاڑی چلانے والے کی نظر محدود ہو کر جاتی ہے اور دوسرا سکول کے بچوں کی صحت متاثر ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی سائنس یا زیادہ فلاسفی نہیں بس حکومت اتنا کر دے کہ سکول ٹائم پر صبح سات بجے سے آٹھ بجے تک ایک گھنٹے کے لئے صفائی کا کام رکوا دے تو یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائیگا ۔

راولپنڈی ویسٹ منیجمنٹ کے آنے سے پہلے کوڑا کرکٹ سنبھالنے کا نظام راولپنڈی میونسپل ایڈ منسٹریشن کے پاس تھا جو انتہائی ناقص تھا ، ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مری روڈ پر کوڑا لیجانے والا ٹرک دیکھا جس کی باڈی پر مناسب ترپال نہ ہونے کی وجہ سے گندگی سڑک پر گرتی جا رہی تھی لیکن ڈرائیو ر کو اس کی پرواہ تک نہ تھی ،جس کی راقم نے سٹی گورنمنٹ کے متعلقہ آفیسر سے شکایت جنہوں نے بتایا کہ جب د وسری مرتبہ ایسا دیکھا جائے تو فوری طور پر اس گاڑی کا نمبر انہیں نوٹ کروایا جائے ۔

ایسا ہی ہوا کہ چند دن بعد پھر ایک ٹرک سڑک پر غلاظت بکھیرتے جا رہا تھا جس پر متعلقہ آفیسر کو شکایت کی جنہوں نے خود جا کر اس ٹرک کو ایوب پارک کے قریب پکڑ لیا اور ڈرائیور اوردیگر عملے کیخلاف کارروائی بھی کی ۔ ہمارے ملک میں صفائی کا کلچر شاید صر ف چند طبقوں یا اداروں تک ہی محدود ہے جبکہ باقی اسے صرف نظر کرتے ہیں ۔ ہمارے حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے سول ہسپتال گندگی کا منظر پیش کرتے ہیں جبکہ اسی ملک میں فوج کے ز یر انتظام چلنے والے اور نجی ہسپتال صاف ستھرے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں ہی موجود چند غیر ملکی کمپنیوں کیساتھ کا م کرنے کا موقع ملا ، وہ لوگ صحت ، ماحول اور سیفٹی کے حوالے سے بلند درجات کے حامل ہیں ، وہ کوئی بھی کنٹریکٹ دینے سے پہلے خواہشمند کمپنی کو صحت اور سیفٹی کے حوالے سے ایک بڑا سوالنامہ پیش کرتے ہیں جو کافی پیچیدہ ہوتا ہے اور اس پیمانے پر ا ترنے والی کمپنی کو ہی مالیاتی پیشکش کے لئے پری کوالیفائی کیا جاتا ہے جبکہ پاکستانی کمپنیوں اور اداروں میں ہر گز ایسا نہیں ہے کیونکہ یہاں صرف “lowest bidder” کا تصور موجود ہے جبکہ صحت ، ماحول اور سیفٹی شاید ان کے لئے ضروری نہیں ، ہم کوالٹی پر کمپرومائز کرتے ہیں اور کڑوا سچ تو یہ ہے کہ یہاں انسانوں کے بھی ٹینڈر ہوتے ہیں اور انہیں مروجہ قوانین کا بھی کسی حد تک تحفط حاصل ہوتا ہے۔

مثال کیطور پر کسی ادارے کو سیکورٹی گاردز یا جینی ٹوریل سٹاف درکار ہے تو پنجاب پروکیورمنٹ ر یگلولیٹری اتھارٹی کے تحت کم سے کم مالیت پیش کرنے والوں کو کنٹریکٹ دیا جاتا ہے اور کوالٹی کے پہلو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن غیر ملکی کمپنیاں ایسا نہیں کرتیں بلکہ وہ درکار سٹاف کی پر کشش تنخواہ خود بتاتی ہیں جو ہمارے ہاں کی کم سے کم اجرت سے 15یا 20 فیصد زیادہ ہوتی ہے ، اس کے علاوہ وہ سٹاف کے کھانے اور رہائش کے لئے بھی ایک اچھا معیار دیتی ہیں اور اس کے بعد سروس چارجز کا مقابلہ ہوتا ہے ، جس نے کم دئیے ، اسی کو کنٹریکٹ ملتا ہے ، ورکرز کی سیفٹی اور حفظان صحت کا بھی پیمانہ مقرر ہے جسے سختی سے فالو کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جب کام کرنے کا ماحول ہی صحت مند تو کام کیسے اچھا ہو سکتا ہے ۔

دوسری طرف پنجاب کی ہی کسی مصروف شاہراہ پر ٹریفک سگنلز کے نزدیک دیکھیں ، کوئی موبائل حکیم پھکیاں اٹھائے پھر رہا ہو گا ، مردانہ کمزوری کے علاج کے پر کشش اشتہارات اخبارات کی بھی زینت بنتے ہیں اور ’’ بڑے حکیم صاحب ‘‘ کا شیڈول بھی اخبارات میں شائع ہوتا ہے اور اکثر ساد ہ لوح یہاں کی دوائیاں لیکر اپنے گردے ناکارہ کر دیتے ہیں۔

گرمیوں میں ریڑھیوں اور سٹالوں پر کاربن آمیز مضر صحت مشروبات فروخت ہو ر ہے ہوتے ہیں ، ، بچوں کی ٹافیاں اور بسکٹ غیر معیاری فروخت ہو رہے ہوتے ہیں جن سے بچوں کی بھوک ختم ہو جاتی ہے اور یوں وہ خون کی کمی کا شکار ہو کر ہسپتالوں میں پہنچتے ہیں ، شہروں میں سڑکوں پر دانت ْ؍ داڑھ نکالنے والے ’’ پیچ کس ‘‘ لیکر بیٹھے ہوتے ہیں جہاں سے لوگ ہیپاٹائٹس کی بیماری لیکر گھر جاتے ہیں ، جہاں کتوں اور گدھوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہوں ، جعلی ادویات کا ایک گھناؤنا کاروبار صوبے میں جاری ہو تو ایسی صورت حال میں پنجاب کیسے صحت مند سکتا ہے ؟

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیلتھ ریفارمز قابل ستائش ہیں ، انہوں نے ڈینگی جیسی موزی مرض کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے ، جب تک سطور بالا میں دی گئی کمزوریوں پر کوئی انقلابی ریفارمز نہیں لائے جاتے، صرف ہسپتالوں کو بہتر کرنے سے صحت مندی کا خواب پورا نہ ہو گا ۔ اس کے لئے ایک الگ سے ’’ مائیکر و مینجمنٹ ٹاسک فورس ‘‘ تشکیل دینی ہو گی جو ماہانہ اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرے ، جعلی ادویات ، مضر صحت گوشت اور عطائیوں کیخلاف سخت کارروائی کے لئے قانون سازی کرنا ہو گی۔ میاں صاحبان نے میگا پروجیکٹس کچھ مکمل کر دئیے اور کچھ زیر تکمیل ہیں ، کتنا ہی اچھا ہو کہ وہ اپنی حکومت کا بقایا عرصہ ’’ صحت مند پاکستان ‘‘ کے لئے وقف کر دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں