لو جی اسی جم پئے آں (سفر نامہ لاہور ) قسط چہارم

قارئین کرام ! وہ جو کہتے ہیں ناں
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا ۔

ہم اپنی لہوری یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ابھی گنڈا سنگھ پہنچے تھے تو دھڑام سے خبر پھوٹی کہ لہوریے وکلاء کشاں کشاں مظفرآباد پہنچ رہے ہیں اب ہم حیران و ششدر !

کہ یا اللہ یہ ہماری شخصیتوں کا مقناطیس تھا یا خود خطہ کشمیر جنت نظیر کی کشش یا کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے دل پاکستانیوں کا کشمیر کی فضا میں سانس لے کر محبتوں کی توانائی کو کشید کرنے کا فیصلہ؟ وجہ بہر حال کچھ بھی ہو ہم کالم نگاری بھول کر لاہور سے آنیوالے وکلاء ساتھیوں کی آؤ بھگت میں مقدور بھر مصروف رہے۔ جیسے کسی غریب کے گھر آنیوالے متمول مہمان کی آؤ بھگت کے جو انداز دیکھنے میں نظر آتے ہیں ویسا ہی کچھ حال ہمارا رہا اور یوں ہمارا تسلسل ٹوٹا جسے آج کی نشست میں ہماری کوشش ہے کہ سمیٹ لیں۔

آمدم برسر مطلب گنڈا سنگھ کے افق پر ڈوبتے سورج کے ساتھ ہماری خواہشوں کا چراغ بجھنے سے قبل وہاں واپڈا کے ایکسین جناب جمشید صاحب نے اپنی پرخلوص اور پر ایثار مسلسل خدمت کے ذریعے ہمارے دل میں جو دیا روشن کیا اس کے سبب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پورے محکمہ واپڈا کو ان کا مرہون احسان ہونا چاہئے کہ پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے دو چار پاکستانی قوم اور خصوصاً کشمیری قوم بھی بلا جواز اذیت میں مبتلا کئے جا رہے ہیں اور ان کی دور فشانیاں صرف شائستگی کے باعث احاطہ تحریر میں نہیں لائی جا سکتیں ورنہ جانتے تو سب ہیں۔

جمشید صاحب نے ہمارے دکھ اور مایوسی کو کسی جہاں دیدہ سرد و گرم چشیدہ مہرباں بزرگ کی طرح یوں بہلایا کہ فضا قہقہوں ، کھلکھلاہٹوں اور بے سری گنگناہٹوں سے گونج اٹھی جب ہم نے خود کو ان کی جانب سے ہماری دریا خوری کی خاطر مہیا کی گئی بجرہ نما بوٹ میں خود کو پایا ہم یہاں لفظ کشتی دانستہ استعمال نہیں کر رہے کہ قارئین کے ذہن میں شاید وہ کشادگی و آسائش نہ آ سکے جو لفظ بوٹ کے استعمال سے مستوجب ہے اور یہ انتظام ہمارے رات کے خوردونوش کے انتظام تک پھیلا ہوا تھا جس سبب ہم نے کشتی کی سطح آب پر سبک روانی سے لطف اندوز ہونے کے مرحلے کو بادل نخواسطہ اس لئے چھوڑا کہ ہمیں نور و عرفان کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہونا تھا جس کے لنگر ھار کو ’’بلھے شاہ‘‘ کہتے ہیں۔

قارئین کرام ! گنڈا سنگھ کے آسمان پر تاروں کی بارات اتر رہی تھی جب ہمارے قافلے کا ڈولا راستے کی اونچ نیچ اور خم وپیچ کو طے کرتا ہوا بابا بلھے شاہ کے مزار کی چوکھٹ پر پہنچا میں اپنے دیگر ساتھیوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن خود میرا وجود بیک وقت عزت، احترام و عقیدت اور اپنی کم مائیگی اور کم ظرفی کے ساتھ ساتھ صاحب مزار کے زندہ و جاوید عشق حقیقی کا نشان بن کر طالبان رشد و ہدایت کے لئے مینارہ نور کی حیثیت رکھنے کے ساتھ اپنی عدم توجہی و مشاغل دنیا میں ناکوں ناک تک ڈوبے ہونے کے باعث یہ احساس لرزائے دے رہا تھا کہ میں اس لمحے خود کو اس مصرع کی زندہ مثال سمجھ رہی تھی۔

؂نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
چوکھٹ عبور کرتے لمحے ساری کیفیات یوں ختم ہوئیں جیسے جال میں سے پانی الگ ہوتا ہے اور ہم اس احساس کے ساتھ مزار کی جانب بڑھے کہ ماں کی محبت سے ستر گنا زائد محبت کرنے والا رب سے لو لگایا ہوا بندہ ہم پر اپنی توجہ، محبت اور شفقت کے ساتھ نگاہ نہ کرے یہ نہیں ہو سکتا اور ہم نے مقدور بھر دعائیں مانگیں، جن کے رنگ لانے کی ایک علامت کہ مزار کی انتظامیہ کی جانب سے سب زائرین کو چادریں اوڑھائیں گئیں اور گلے میں سرخ مہکتے گلابوں کی مالائیں بھی ڈالی گئیں اس پر طرہ یہ کہ ہمیں محفل سماع سے بھی مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا اور ہم نے صاحب مزار کے پہلو میں بیٹھ کر ان کا کلام سننے کا لطف حاصل کیا۔ نہ پوچھئے کہ ہم ان لمحوں ، ذہنی کیفیت اور روحانی وجد کی کن فضاؤں میں تھے۔

اگر ہمارے میزبان کی طرف سے اہتمام کئے گئے عشائیے میں تاخیر نہ ہو رہی ہوتی تو ہم شاید اذان فجر سن کر اٹھتے۔ بہر حال ہمیں نہ چار اپنے قدموں کا رخ ریسٹ ہاؤس کی طرف موڑنا پڑا کہ رات کے کھانے کا بندوبست جمشید صاحب نے کیا ہوا تھا اور ان کی پر تکلف مہربانی سے ہم مہمانوں کے سارے دن کی تھکن کے باوجود اس بات سے قطعہ نظر کہ واپس لاہور پہنچنا ہے بساط بھر خوب انصاف کیا اور مہیا کردہ کھانے کی تفصیلات زیر تحریر لا کر ہم اپنے قارئین کے منہ میں پانی کو نہیں بھر آنے دینا چاہتے اس لئے سنسر ۔

کھانے سے فارغ ہوئے تو بھاگم بھاگ لاہور پہنچنے کے لئے اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے کہ ابھی ایک اور بقحہ نور گنج نشاں فیض عالم کی بار گاہ میں بھی حاضری ہمارے شیڈول میں شامل تھی جس پر عمل کرنا لازم تھا کہ یہ بڑی نامناسب سی بات ہوتی کہ ہم لاہور جائیں اور ایک زمانہ ہزار سال سے جس سے مستفید ہو رہا ہے ہم اس در کے پاس سے بھی نہ گزریں طوالت کے خوف سے ہم راستے میں اپنے لہوری میزبان راجہ خرم شہزاد ،نادیہ عفت اور بخاری صاحب کے درمیان ہونے والے شعری مقابلے کے چشمک سے ماحول میں پیدا ہونے والی مسرت آگہیں کیفیت بصد معذرت کٹ کرتے ہیں اور اپنے قارئین کو یہ بتلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم کیا اور ہماری اوقات کیا دنیا ٹھیک ہی کہتی ہے۔

؂گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں رہنما
ان کے دربار سے لوٹے تو آنکھیں نیند سے یوں بوجھل تھیں نہیں معلوم کب اور کیونکر ہم بستر نشیں ہوئے البتہ ایک بھر پور نیند کے بعد دوسری صبح اٹھے تو ہم ایک عزم نو کے ساتھ تازہ دم ہو کر اپنے مطالعاتی دورے کے اگلے پروگراموں کے لئے تیا رتھے مگر ہمارا بے ایمان دل بار بار پریڈ پریڈ کے نعرے اتنے زور سے لگا رہا تھا کہ ہم خوفزدہ ہو گئے اور ہم نے ہمرائیوں سے نا چاہتے ہوئے بھی کچھ اس انداز سے حیلے بہانے کئے جس سبب وہ ہمیں لاہو رمیں چھوڑ کر عازم سفر ملتان ہو گئے۔

اگر ہم ان کو بتلا دیتے کہ جو پریڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر وہ دیکھنے میں ناکام رہے ہیں ہم نے اپنی خواہش کے ہاتھوں مدینۃ الاولیا ملتان کے سفر کو تج کرتے ہوئے واہگہ بارڈر کے مقام کو پریڈ دیکھنے کو ترجیح دی ہے یہ سوچ کر کہ مجھ جیسی گناہ گار بندی پر اگر دو اللہ والوں نے تھوڑی تھوڑی سی نظر التفات کر دی تو اپنا کام بن جائے گا اور ڈھیر ساری دولت جمع کرنے سے بہتر ہے کہ تھوڑی سے ہی کام چلایا جائے اور یوں ہم نے بظاہر ملتان نہ جانے کے افسوس اور اندر کی چھپی خوشی کے عالم میں احباب قافلہ کو الوداع کیا اور قافلے والے بھی ایسے سادھے کہ ہمارے چکر میں چکر ا کر ملتان کے چکر پر چلے گئے۔

ادھرے ما بدولت بڑے مزے سے لش پش اپنی پھوپھو کی میزبانیوں سے لطف اندوز ہوتے پورے اہتمام سے یوں تیار ہوئے جیسے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شرف ہم خود ہی ہوں۔ ان کی جگہ پر خود کو رکھنے کی جرات ہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی کر رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے جس دور اندیشی اور فہم و فراست کے ساتھ امیر عسکر کی حیثیت سے اپنا دورانیہ پورا کیا وہ اپنی جگہ پر ایک روشن مثال نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے ، ہوس جاہ اور اقتدار کی پجاری ہونے کے اس ماحول میں اصول، ضابطے کی پاسداری کی جو روشن مثال انہوں نے اس حال میں قائم کی کہ جاہ پرستوں نے کون سی کسر چھوڑی ایسا ماحول پیدا کرنے میں جس سے کسی طور ان کی توسیع ملازمت کی کوئی صورت روبہ عمل ہو جائے۔

مگر آفرین ہے اور ہماے دل میں ان کی قدر و منزلت اس لئے بھی ہے کہ انہوں نے نا درست پالیسیوں کے نتیجے میں داخلی محاذ پر پالے گئے آستین کے سانپوں کو کچلنے کے لئے کسی بھی قسم کی مصلحت یا مصالحت کی روش اختیار کرنے کی بجائے دو ٹوک پالیسی اختیار کر کے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دور رس نتائج کے حامل منصوبوں کو عملی طور پر پروان چڑھایا جس پر انہیں محسن قوم کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور ہم یہی توقع آنیوالے چیف آف آرمی سٹاف جناب جنرل قمر جاوید باجوہ سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ وہ نہ صرف جنرل راحیل شریف کے دیرینہ رفیق ہیں بلکہ جملہ بنیادی منصوبہ بندی میں اپنا ایک اہم کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں۔

ہم واہگہ بارڈر کی پریڈ کو دیکھنے کیل کانٹوں سے لیس ہو کر پہنچے تو تاخیر کا دھڑکا اس لئے نہ تھا کہ ہم خود ہی کارواں اور خود ہی میر کارواں تھے اس لئے وقت اور رفتار دونوں کی بھاگ ہمارے ہاتھ میں تھی جس سبب کسی تاخیر کے بغیر نہ صرف ہم وقت پر واہگہ بارڈر پہنچے اور ہم نے پرچم سمیٹنے کی تقریب کو اس حال میں دیکھا کہ ہم سب سے اگلی صفوں میں پورے جوش اور ولولے کے ساتھ حلق پھاڑ کر نعرے لگا رہے تھے کہ ہمیں اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم تو بچوں سے بھی بچے بنے ہوئے تھے کہ ان فلک شگاف نعروں کے سبب حلق میں پڑنے والی خراشوں سے چھٹکارے کے لئے جب ہمیں ادویات کا سہارا لینا پڑا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لمحات ہماری زندگی کے انمول اور یاد گار لمحات نہیں بلکہ ہماری زندگی ہی صرف وہی لمحات ٹھہرتی ہے وہ ڈوبتے سورج کی شعاعوں کے ساتھ جب ہمارے جواں کا قدم اٹھتا تو اس کے ساتھ ہم خود کو پورے کا پورا اٹھنے سے بمشکل روکتے مگر یقین جانیے کہ حب الوطنی کے جذبات سے سرشار ہمارا دل پاک سرزمین کی محبت میں پاک فوج کے جواں کے قدم کی حرکت سے تال میل کئے ہوئے کچھ یوں تھا گویا وہ بینڈ ماسٹر کی طرف سے ہمارے دل کی حرکت کو کنٹرول کر رہا ہے اس جذبانی لمحے میں ہم نے مجمع پر نگاہ دوڑائی تو ہر ایک کو اپنا ہی ہم رنگ پایا کہ سب اپنی اپنی حیثیت و مرتبے کو بھول کر حب الوطنی کے جذبے سے سرشار پرچم سمیٹنے کی تقریب میں ایک پورا رنگ سمیٹے منظر بنے ہوئے تھے اور اس منظر کی عکاسی سے ہم تو عاجز ہیں وہاں اگر کبھی مستنصر حسین تارڑ یا عطاء الحق قاسمی جیسی شخصیتیں خامہ فرمائی کریں تو شاید شاہکار معرض وجود میں آ سکے۔

کیا بتائیں وہ چار سال سے لے کر اسی سال تک کے بچوں کی گڈ مڈ آوازوں میں پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد کے پرجوش نعرے اور ہوا میں لہرائے کھلے بازو وہ پاک سرزمین کا باوقار لہراتا پرچم اور اس کی سربلندی کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو ہر دم تیار جوانوں کے پر عزم اور پروقار چہرے بس ہم اتنا کہتے ہیں کہ جس نے یہ منظر نہیں دیکھا اس نے کچھ دیکھا ہی نہیں۔

ابھی ہمارے جذبات کی پوری طرح سے تسکین نہ ہو پائی تھی کہ تقریب ختم ہوئی اور ہم آسودہ حال مگر جذبوں کی تشنگی لئے آہستہ آہستہ لاہور کو واپس ہوئے کہ ابھی انار کلی کی رونقیں دیکھنی باقی تھیں۔ اپنی تمام تر جدیدیت کے باوجود انار کلی اپنا پرانا بانکپن کسی حد تک باقی رکھے ہوئے ہے جس کی شاید ایک وجہ بازار کی ایک سرے سے دوسرے سرے تک تارکول کی سڑک کو اکھیڑ کر اینٹوں والا پختہ راستہ بنایا جانا ہے جو قدیمی انار کلی کی شان تھی اور اس پر طرہ یہ کہ لہوریوں کی خوش خوراکی کو باقاعدہ پہچان دینے کے لئے فوڈ اسٹریٹ کا پرانی انکار کلی میں بنایا جانا ہے سچ یہ ہے کہ اہل قافلہ کے بغیر ہم نے اپنے پروگرامز میں لطف توبھر پور اٹھایا مگر کچھ ادھورا ادھورا سا احساس تھا کہ یاران ہم سفر جو صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد خان کی پرخلوص کاوش اور خوبصورت انتظامات کے سبب اپنی خشک اور روز مرہ کی لگے بندھے معمول پر اٹکی زندگی کے ماحول سے باہر نکلے تھے اور ایسے نکلے کہ مظفرآباد کی ’’م‘‘ سے ملتان کی ’’ن‘‘ تک کی زمین سے گھوم آئے اور دوسرے دن احباب کی ملتان سے واپسی پر ہمارا ملاپ کچھ اسی انداز کا تھا جیسے
؂آ ملے ہوں سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
(بقیہ آئندہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں