تنازعہ کشمیر کے سات فریقین

قانون کی نظر
کشمیر
پاکستان
ہندوستان
تسلی اور شفافیت
7فریقین
12اگست 1947 کو مہاراجہ کشمیر نے پاکستان اور ہندوستان کو Stand Still معاہدے کی پیشکش کی ۔ ہندوستان کے ساتھ یہ معاہدہ طے نہ ہو سکا ۔

جب کہ پاکستان نے تین دن بعد یہ معاہدہ 15اگست 1947 کو قبول کیا اور اس معاہدے کی رو سے کشمیر کے محکمے Post and Telegraph حکومت پاکستان کی ذمہ داریوں میں قرار پائے ۔اس طرح پاکستان پہلا ملک ہے جس کے آزاد جموں و کشمیر ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

ہندوستان کے ساتھ 73 دن بعد ایک عارضی معاہدہ 26 اکتوبر 1947کو تابع منظوری کشمیری قوم(عوام) طے پایا ۔ ہندوستان کے ساتھ طے پانے والا یہ عارضی اور مشروط معاہدہ ان دو فریقین کے ہاتھوں سے نکل کر اقوام متحدہ کے سامنے پیش ہوا اور ہندوستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اس کی عارضی اور مشروط حیثیت تسلیم کی۔

یکم جنوری 1948 کے بعد ہندوستان نے اس عارضی اور مشروط معاہدہ پر حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کو سپرد کیا ۔

اقوام متحدہ نے پاکستان کو ایک فریق کے طور تسلیم کیا ۔ اور کشمیر کے حتمی فیصلے کے لئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں استصواب رائے کے حق کو تسلیم کیا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کو باور کرایا گیا کہ مسئلہ کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ
Kashmiris, Insurgents and Tribesmen
کی تسلی بھی لازمی ہے ۔ Insurgents مقامی لوگ تھے اور Tribesmen کشمیری عوام کی امداد کیلئے آنے کی وجہ سے فیصلے کے منصفانہ ہونے کی تصدیق میں ایک فریق تسلیم کے گئے۔

اگر ہندوستان ایک عارضی اور مشروط معاہدہ کو اقوام متحدہ میں تابع منظوری کشمیری عوام قرار پانے کے بعد بھی کشمیر ی عوام کو اس طرح فوجی آپریشن اور جبر کے ساتھ اپنی تابعداری میں رکھنے کے ہتھکنڈے جاری رکھتا ہے تو پہلی صورت میں دنیا کے 194ممالک کو قابض افواج کے خلاف عملی اقدام کرنے ہونگے ۔

بصورت دیگر کشمیری عوام کے حامی عناصر یعنی مقامی “Insurgents” اور “Tribesnen” کا کردار بحال ہو جانا جائیز قرار پائے گا۔

مقامی Insurgents اور Tribesmen کی بھارتی قابض فوج کے خلاف مسلح جدوجہد قانونی طور پر جائز اقدام ہوں گے ۔ اس مسلح جدوجہد میں پاکستان کی افواج بالخصوص اور اقوم متحدہ کے کسی رکن ملک کی طرف سے مسلح حمایت جائیز ہے۔

عارضی اور مشروط معاہدہ کی عمر 69سال نہیں ہو سکتی۔

تسلی اور شفافیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے

“The  representative of  India  said  at  our  239th  meeting  the  day  before  yesterday  that  the  two  parties  interested  in  the  Kashmir  question  are  Pakistan  and  the  insurgents  in  Kashmir.  Therefore,  we  have  to  satisfy  these  two  parties.  What  the  Security  Council  does  must  seem  fair  to  these  two  parties.  It  must  also  seem  fair  to  the  Government  of  Pakistan,  to  the  insurgents,  to  the  tribesmen,  to  the  Government  of  India,  to  the  other  inhabitants  of  Jammu  and  Kashmir,  and  to  the  outside  world”.

مسئلہ کشمیر کے حل میں 7فریقین کا عمل دخل اور تسلی لازم قرار پائی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں