Syed Zahid Hussain Naeemi
اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

حکومت پنجاب کا احسن اقدام

پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ تعلیم پنجاب نے ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ استاد کے نام کے ساتھ ’’عزت مآب‘‘ اور ’’آنرایبل‘‘ (Honorable) لگایا جائے۔ یقینا یہ حکومت پنجاب کا ایک احسن اقدام ہے۔ استاد کی عزت و احترام لازم ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پرویز مشرف دورِ حکومت میں پرویز مشرف نے بھی ’’سلام ٹیچر ڈے‘‘ متعارف کرایا تھا، اس کا مقصد بھی استاد کو عزت و احترام دینا تھا۔ استاد ہونا ایک بڑا اعزاز ہے، اس لئے کہ یہ پہلا کام خود ربّ کائنات کا ہے جب اس نے حضرت آدم علیہ السلام کو مخصوص علم سکھایا، جس کا ذکر خود قرآن پاک میں موجود ہے۔ پھر اپنے انبیاء و مرسلین کو وحی کے ذریعہ علم سکھایا، اپنا کلام مقدس انبیاء و مرسلین پر نازل فرمایا۔ خود نبی آخر الزماں حضرت محمدﷺ کی بعثت کے مقاصد میں اسی منصب معلمی کو شامل کیا جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ: ’’انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں‘‘۔ (آلعمران ۱۶۴)

اللہ کے نبی حضرت محمدﷺ معلم اعظم اور معلم کائنات ہیں۔ آپ کی ذات کامل نمونہ ہے ہر شعبہ زندگی کے لئے۔ تعلیم و تعلّم کے لئے بھی آپ ہی کی ذات کامل نمونہ ہے۔ اصحاب صفہ کی تعلیم وتربیت روزِروشن کی طرح عیاں ہے۔ اس لئے اسے تسلیم کیے بغیر چارا نہیں کہ آپ معلم کائنات اور معلم انسانیت ہیں۔ کسی استاد کے لئے اس سے بڑھ کر فخر کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ استاد ہے۔ تعلیم دینا سنت الٰہی بھی سنت انبیاء و مرسلین بھی اور سنت رسولﷺ بھی۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے:

ترجمہ: ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے‘‘۔ آپ کا یہ ارشاد گرامی بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ’’بہترین انسان وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور ودسروں کو سکھائے‘‘۔ یعنی معلم ہی کو آپ نے بہترین انسان قرار دیا ہے۔ معلم روحانی باپ بھی ہے جو آدمی سے انسان بناتا ہے، بلکہ حیوان سے انسان بنتا ہے۔ اگرچہ والدین کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ وہ اولاد کو دنیا میں لانے کاذریعہ بنتے ہیں، ان کی پرورش کرتے ہیں، ان کے دکھ سکھ کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن اولاد کی تراش خراش ایک معلم ہی کرتا ہے۔ بچہ ایک کورے کاغذ کی طرح استاد کے پاس آتا ہے۔ استاد ہی اُسے قلم و تختی کے ذریعے علم کے دریچے کھولتا ہے۔ اُس کے صاف و شفاف ذہن کی تختی پر علم نقش کرتا ہے۔ سیکھنے کا عمل استاد ہی سے شروع ہوتا ہے۔ پھر بتدریج بچہ تعلیم کے زینے طے کرتا ہے، وہ دنیا و آخرت میں مقام حاصل کرتا ہے۔ دنیا میں اُسے عزت و شہرت ملتی ہے، وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتا ہے یا سپاہ سالار بنتا ہے یا ملک کا حکمران بنتا ہے۔ قیامت کے دن ایک حافظ قرآن کے متعلق فرمایا گیا ’’اُسے حکم ہو گا اللہ کا مقدس کلام پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا‘‘۔ اُس حافظ قرآن کو اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی شفاعت کرنے کا اذن دیا جائے گا۔ اُس کے والدین کو تاج پہنایا جائے گا۔ ذرا غور کریں یہ اعزاز حافظ قرآن کو کیوں ملا؟ اس لئے کہ اُس نے قرآن حفظ کیا اور قرآن حفظ کرانے والا ایک استاد ہی ہے۔ صالح اولاد اپنے والدین کے لئے ذریعہ نجات ہوگی اور اسی طرح نافع علم بھی ذریعہ نجات ہو گا۔ یہ نافع علم جس کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے وہ استاد ہی کی ذات ہے۔

پس بخوبی معلوم ہو گیا کہ استاد نہ صرف اس دنیا میں کام آتا ہے، بلکہ آخرت میں بھی کام آتا ہے۔ اس بحث کو سامنے رکھا جائے تو استاد ہی نظر آتا ہے جو انسانیت کی فلاح و کامرانی کا ذریعہ ہے۔ اس لئے استاد یقینا قابل احترام ہے۔ نبی کریمﷺ نے اسے روحانی باپ قرار دیا ہے، اس کی عزت و احترام کی تعلیم دی ہے۔ آئمہ و مجتہدین کا طریقہ و تعلیم بھی یہی رہا ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کو امام اعظم بھی کہتے ہیں۔ آپ کو یہ مقام استاد ہی کی عزت سے حاصل ہوا۔ آپ کے سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپ اکثر ایک عیسائی کے سامنے آنے سے اس کے احترام کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ آپ کے شاگردوں نے پوچھا حضور یہ غیرمسلم عیسائی ہے۔ آپ اس کی عزت کیوں کرتے ہیں کہ اس کے احترام میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اس کا احترام اس لئے کرتا ہوں کہ اس نے میرے علم میں اضافہ کیا ہے۔ مجھے معلوم نہ تھا کہ کتا کب بالغ ہوتا ہے، اس نے مجھے بتایا کہ جب کتا ایک ٹانگ کھڑی کرکے پیشاب کرنے لگے جائے تو وہ بالغ ہو جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں یہ میرا استاد ہے۔ اس لئے میں اس کی عزت کرتا ہوں اور احتراماً کھڑا ہو جاتا ہوں۔

ہمارے سامنے تاریخ اسلامی کی بیشمار شخصیات کی زندگیاں ہیں، جنہوں نے استاد کی عزت و احترام کیا، تو اُنہوں نے بڑا مقام و مرتبہ پایا۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ کا یہ واقعہ کسے معلوم نہیں کہ آپ بے خیالی میں کرسی پر ایک جوتی اتارے بیٹھے تھے، اسی دوران آپ کے استاد مولوی میر حسن کا وہاں سے گزر ہوا، آپ فوراً ان کے احترام میں کھڑے ہو کر اُن کے ساتھ چلنے لگے، کافی دور جاکر مولوی میرحسنؒ نے پیچھے مڑ کر اپنے شاگرد کو دیکھا تو آپ کے پائوں میںجوتا نہ تھا۔ فرمایا اقبال دوسرا جوتا کہاں ہے؟ عرض کی حضور مجھے یاد ہی نہیں نہ رہا کہ میں ننگے پائوں ہوں۔ میں آپ کے ساتھ ہو گیا۔ جوتے کا خیال ہی نہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے استاد کے احترام کرنے پر جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا وہ کس سے پوشیدہ ہے۔ سچ ہے جو قومیں اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کرتی ہیں، وہ ہی سرخرو ہوتی ہیں۔ جس قوم و معاشرے میں استاد کا احترام ختم ہو جائے، وہ قومیں زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتیں۔ اس کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔ آج ہمارا معاشرہ جن مسائل سے دوچار ہے، اُس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ استاد کو اپنا مربی، مہربان، شفیق روحانی باپ سمجھنے کے بجائے اُسے نوکر سمجھ لیا گیا ہے۔ بچہ پرائیویٹ تعلیم حاصل کرے یا پھر ٹیوشن پڑھے، وہ یہی سمجھتا ہے کہ یہ نوکر ہے۔ اس طرح آج کا طالبعلم ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے لیکن وہ صحیح معنوں میں انسان نہیں بن سکتا ہے۔

معاشرے میں احترام کی قدریں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و احترام کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ آج استاد کو بھی اپنا مقام آپ آپ بنانا ہو گا۔ وہ صحیح معنوں میں تعلیم و تربیت، اخلاص کے ساتھ کرے جو بچوں کے اذہان و قلب پر نقش ہو۔ استاد اپنے پیشے سے مخلص ہو تو عزت و احترام کے لئے کسی حکومت کو مراسلہ جاری کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج یورپ اور مغرب میں استاد کے احترام کے باعث ہی وہ قومیں ترقی کر چکی ہیں۔ اگر عدالت میں استاد آ جائے تو جج اُس کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اُس کے مقام و مرتبہ کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ حکومت پنجاب کا یہ اقدام قابل ستائش ہے، اس پر وہ مبارکباد کی مستحق ہے۔