آزاد آدمی/سید فیصل علی
آزاد آدمی/سید فیصل علی

محکمہ زراعت حکومت پنجاب

یہ بات تو باعث فخر ہے اورہم بچپن سےنصابی وغیر نصابی کتب میں بھی پڑھتےآرہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہ پانچ دریاؤں سےفیض یاب انتہائی زرعی اور زرخیز زمین پنجاب کا سر سبز وجود بھی رکھتا ہے ۔ زرعی ملک ہونے کی حثیت سے محکمہ زراعت کی بھی بیش بہا خدمات ہیں۔ درست وقت پر فصلوں کی کاشت و افزائش اس کےساتھ ساتھ پیش ممکنہ خطرات سے بچائے رکھنے کے لئے حفاظتی اعلانات سمیت ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے جیسے اہم فریضہ محکمہ زراعت اور اس سے منسلک ذیلی ادارے سر انجام دے کر شکریہ کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔ بہرطور اب کی بار الیکش سر پر ہیں مملکت خداد داد انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے تو ذکر چل پڑا ہے محکمہ زراعت کا، اور وہ بھی پنجاب سےاب اس کی کیا خاص ضرورت پیش آئی ۔ اس واسطے پنجاب اور اس کی پانچ دریاوں والی زرخیز زمین پر محکمہ زراعت کے فعال کردار کا پس منظر حالات حاضرہ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

قومی اسمبلی میں آبادی کے تناسب سے پنجاب کی نشستیں سب سے زیادہ ہیں اور ممکنہ حکومت کے قیام کی امیدیں بھی پنجاب سے آنے والے نتائج سے لگائی جاتی ہیں ، پنجاب سے اکثریت پانے والی سیاسی جماعت حکومت بھی قائم کرتی ہے اور ایسا ہوتا آیا ہے ۔ اب کی بار محکمہ زراعت کو اک فصل تلف کرنے کی سوجھی اس مہم جوئی کے دوران ذیلی اداروں کو بھی بھرپور انداز میں متحرک کیا گیا کہ کسی زمین پراور بالخصوص پنجاب میں اس فصل کا کوئی خوشہ جڑ یا بیج باقی نہ رہ پائے ۔ اس پر عمل در آمد خوب طرح سے شروع ہونے لگا جبکہ اس فصل کے کھیت سے متصل باقی زمین پر بوئی گئی فصلوں کے لئے سخت حفاظتی انتظامات فراہم کئے لیکن ہوا یہ کہ فصل غلط موسم میں غلط طریقے سے تلف کرنے پر زرخیز زمین نے ساتھ نہ دیا اور فصل تلف ہونے کے بجائے مزید پک کر تیار ہو گئی جو ادویات اس فصل کو تلف کرنے کے لئے استعمال میں لائی گئیں وہ نتیجہ خیز نہ ثابت ہو سکیں اور خلاف توقع نتائج بر آمد ہونے لگے اور خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔

محکمہ زراعت در اصل بھول گیا تھا کہ جس فصل کبھی اس نے اپنی تمام تر زرعی مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بویا تھا اس کا تدارک کیونکر ممکن ہو سکے گا کیونکہ اس فصل کو موسمی سختیوں سے نمٹنے کے لئے خاص انداز سے پروان چڑھایا تھا اور اس کی دیکھ بھال بھی کی گئی تھی۔ اب نہ جانے محکہ زراعت کو کیا سوجھی کہ اپنی ہی بوئی گئی اک فصل کو تلف کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا ۔ ستر اور اسی کی دہائی میں خاص زرخیز زمین پر اس سیاسی جماعت نما فصل کا بیج بویا گیا اور خوب آبیاری کی گئی یہاں تک کہ کسی دوسری دیسی جماعت نما فصل کی زمین پر بھی اس فصل کو کاشت کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جان بوجھ کر بیج پھینکا گیا اور اس سے نتائج بھی بر آمد کئے گئے. متوقع پیداوار کے حصول کے لئے محکمہ زراعت ہمیشہ ہی خاص بیج استعمال کرتا رہا۔ اب کی بار میں چونکہ خاص حالات پھر سے درکار ہیں تو محکمہ زراعت نے خاص فصلوں کے بیج بونا شروع کر دیے ہیں

پی پی 219 سے مسلم لیگ ن ملتان کے صوبائی امیدوار اقبال سراج نے مجروح حالت میں اپنے گودام سے اچانک ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ زرعی اہلکاروں نے ان کے گودام پر چھاپا مارا اور ان کو زد وکوب بھی کیا گیا۔پارٹی قائد میاں نواز شریف تو پہلے سے ہی اپنی تلفی کا رونا روتے کبھی موٹر وے کے راستے پنجاب کا رخ کر کے جگہ جگہ عوامی اجتماعات کو مخاطب کر کے بتاتے رہے اور متاثر ہونے پر خوب واویلا کرتے رہے۔ میاں نواز شریف اور ان کے پنجاب کی حثیت ہمیشہ ہی سے نمایاں رہی ہے۔ سیاسی زرخیز زمین ہونے کی حثیت سے بھی اور سیاسی اناج کی پیداوار کے حوالے سے بھی دوسری جانب صورتحال یہ بھی ہے کہ میاں نواز شریف کے انتہائی وفادار سمجھے جانے والے سیاسی کارکن چوہدری نثار علی خان جیپ پر سوار ہو چکے ہیں ۔ ممکن ہے محکمہ زراعت کے انتہائی مفید بیج اور کھادیں اس جیپ پر لاد کر پنجاب کے مختلف اضلاع میں پہنچائی جاویں۔ بہر حال فصل تلف ہونے کے بجائے اب بنجر زمین پر بھی اپنے تنے مضبوط کر چکی ہے ۔ ایسے میں اس فصل کو تلف کرنے کے لئے کن کن کھادوں کو چیپوں پر لاد کر زرعی زمین تک پہنچایا جائے گا ۔۔۔ یہ تو پچیس جولائی کے بعد ہی معلوم پڑے گا۔
پنجاب خوشحال پاکستان خوشحال۔( محکمہ زراعت حکومت پنجاب پاکستان )