مکتوب دہلی/ افتخار گیلانی

پاکستان کے عام انتخابات اور بھارت

پاکستان میں عام انتخابات کی مہم اب اپنے عروج پر ہے۔ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات پر جہاں دنیا بھر کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں، وہیں بھارت میں بھی حکومتی حلقے اور تجزیہ کار ان پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے انتخابات کے برعکس پاکستان کے موجودہ انتخابی عمل سے یہاں ایک طرح سے تذبذب کی سی کیفیت ہے۔

ماضی میں چونکہ اقتدار کی دیوی نواز شریف کی مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے گرد ہی گردش کرکے کسی ایک کی چوکھٹ پر بیٹھتی آئی ہے، اس لیے ا ن کی پالیسیوں اور ان کے لیڈروں سے متعلق تحقیق و تجزیوں کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ اس بار چونکہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان وزارت عظمیٰ کے ایک واضح دعویدار کی صورت میں میدا ن میں ہیں، ان کی سوچ، متوقع پالیسیاں حکومتی حلقوں ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تذویراتی ماہرین کیلئے معمہ بنی ہوئی ہیں۔

پچھلے کئی ہفتوں سے کئی تھنک ٹینکس کے ماہرین پاکستان کے خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی قیادت والی حکومت کی کارکردگی اور اسکے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بھارت کے کئی میڈیا اداروں نے پاکستانی انتخابات کو کور کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ویزا وغیرہ کی درخواست بھی دی ہے۔ امید ہے کہ اگلے ہفتہ درجن بھر کے قریب بھارتی صحافی پاکستان میں موجود ہونگے۔ ان میں سے اکثر صحافیوں کو بریفنگ دی گئی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے، بھارت ،پاکستان تعلقات اور کشمیر کے موجودہ حالات کے حوالے سے عمران خان کو ٹٹولنے کے علاوہ بلاول زرداری بھٹو کا بھی جائزہ لیں۔

بھارتی حکومت، اپوزیشن، سیکورٹی ادارے اور تھنک ٹینک عمران خان کے ایک ایک جملے اور ان کے ہر قدم پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن کانگریس اور اسکے موجودہ صدر راہول گاندھی کا خاندان روایتی طور پر خود کو بھٹو خاندان سے زیادہ قربت محسوس کرتا ہے ‘ جس کا اظہار متعدد مواقع پر ہوتا بھی رہا ہے۔ تاہم بھارتی سکیورٹی اسٹیبلشمینٹ بھٹو خاندان کے مقابلے نواز شریف کو زیادہ بااعتماد و بااثر مان کر اسکے ساتھ زیادہ اطمینان محسوس کرتی ہے۔

بہر حال یہاں سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے، گوکہ بھارت کے پختہ ‘ ٹھوس اورمستحکم سیاسی نظام اور پاکستان کے لڑکھڑاتے قدموںسے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والی جمہوریت کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہے لیکن پاکستان کے حالیہ انتخابات میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے بھی ایک بڑا سبق موجود ہوگا کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کا مزاج تقریباً یکساں ہے۔ پاکستان کے 2013 ء اور بھارت کے 2014ء کے انتخابی نتائج کا ایک مشترکہ سبق یہ تھا کہ صرف فلاحی اسکیموںاور مراعتوںکا ڈھنڈورا پیٹ کر ووٹروںکواپنی طرف مائل کرنا ممکن نہیں ہے۔ جب تک یہ اسکیمیں دیانت داری اور پوری شفافیت کے ساتھ نافذ نہیں کی جاتی ہیں۔ عوام اگر ملک کے نظم و نسق سے غیر مطمئن ہیں اور بدعنوانی سے نالا ں ہیں تو انہیں ’’کھلونے دے کر بہلانا ‘‘ ممکن نہیں ہے۔

موجودہ انتخاب بھی اس لحاظ سے اہم ہونگے کیونکہ یہ طے کریں گے کہ انفرا سٹرکچر پر بے دریغ پیسہ خرچ کرنے ،کارپوریٹ سیکٹر کو بے تحاشا مراعات دینے ، شہروں میں سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات کے بہتر بنانے سے کس حد تک عوام کو لبھایا جا سکتا ہے۔ نواز شریف اور مودی کی پالیسی ان معاملات میں تقریباً ایک جیسی ہی تھی۔ویسے مودی اور نواز شریف میں ایک وصف مشترک ہے وہ یہ کہ دونوں نے پوری سیاست کو اپنی انانیت اور ہرچیز کو اپنی ذات کے گرد محصور کرکے، ذاتی وفاداری کو اہمیت دیکر اور فیصلوں میں من مرضی پر اڑکر، پارٹی کی اندرونی جمہوریت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی میں لاکھ برائیاں سہی، مگر اسمیں شورائیت اور جمہوریت کا تصور کانگریس اور دیگر علاقائی پارٹیوں کی نسبت ہمیشہ سے ہی مضبوط رہا ہے۔ حتیٰ کہ اسکے قد آور لیڈروں جیسے اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی کا بھی احتساب ہوتا تھا اور پارٹی کی نیشنل ایگزیکٹیو کے اجلاس میں ان کو عام ورکروں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا تھا۔ اپوزیشن کانگریس کے لیڈروں کا خیال ہے کہ پاکستان میں جمہوری طاقتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے دلوں سے فوج اور دہشت گرد عناصر کا خوف کم ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے بھٹو خاندان اور یہاں گاندھی خاندان میں قربت کئی اسباب کی بنا پر فطری ہے۔ لیکن کئی مواقع پر بھارت کی ناز برداری کے باوجود یہاں کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھٹو خاندان کو ہمیشہ شبہ کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے۔ جسکو مغرب نے روایتی طور پر پاکستان میں جمہوریت کا چہرہ بنا کر پیش کیا ہے۔مجھے یاد ہے کہ 2007ء میں انڈیا ٹوڈے کے پروگرام میں شرکت کیلئے بے نظیر بھٹو دہلی آئیں تھیں تو وزیر اعظم من موہن سنگھ سے انہوں نے اس رویہ کی شکایت کی تھی۔ ملاقات کے بعد بھارت کے اسوقت کے قومی سلامتی مشیر ایم کے نارائنن سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے امن مساعی میں پیپلز پارٹی کے رول کے حوالے سے شبہ کا اظہا ر کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ جب یہ پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے تو امن کی دہائی دیتی ہے اور جب حکومت میں ہوتی ہے تو بھارت مخالف رویہ اپناتی ہے۔ انہوںنے 90ء کی دہائی میں مرحومہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے بھارت مخالف رویہ کی طرف اشارہ کیا ۔ دوسری طرف نواز شریف کے تیئں بھارت میں نرم گوشہ موجود ہے۔اندر کمار گجرال کے پنجاب کنکشن کے نتیجہ میں 1997ء میں شروع ہونے والے جامع مذاکرات ہوں یا اٹل بہاری واجپائی کا لاہور کا بس کا سفر یا مودی کا دسمبر 2015ء میں اچانک لاہور وارد ہونا، نواز شریف کے دور حکومت کی خوشگوار یادیں ہیں۔ایٹمی دھماکہ کرنے کے بعد جب بھارت الگ تھلگ پڑگیا تھا تو نواز شریف نے ہی اس برے وقت میں واجپائی کو لاہور بلاکر بھارت کی ایک طرح سفارتی مدد کی تھی، مگر مذاکرات کا درواز کھول کر بھارت کو پیچیدہ مسئلوں کو حل کروانے پر بھی تقریباً آمادہ کرا لیا تھا۔ جس کے نتیجے میں بیک چینل مذاکرات کا آغاز ہوگیا تھا۔

۔1999ء میں جب فوجی سربراہ پرویز مشرف نے نوازشریف کو اقتدار سے معزول کردیا تھا اس وقت سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کی مدد سے ہی وادی کشمیر میں پانچ عسکریت پسندوں کو اسٹنگر میزائل کے ساتھ گرفتار کرنے میں کامیابی ملی تھی۔اسکے بعد پاکستان نے یہ یقینی بنایا کہ اسطرح کے ہتھیار کشمیر میں سرگرم عسکری گروپوں کو فراہم نہ ہوں۔ گجرال کے مطابق انہوں نے شریف کو بتایا تھا کہ اگر عسکریت پسند کسی جہاز کو ٹارگٹ کرتے ہیں اکثر تجزیہ کاروں کا یہاں خیال ہے کہ عمران خان کی صورت میں پاکستانی فوج اقتدار پر گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ جہاں ایک طبقہ کا کہنا ہے کہ بھارت،پاکستان تعلقات کے حوالے سے فوج کے حمایت یافتہ اور معتمد سیاستدان کے ساتھ ڈیل کرنازیادہ آسان اور کار آمد ہوگا۔

وہیں دوسرے حلقہ کے مطابق جمہوریت کے علمبردار ہونے کے ناطے بھارت کو پاکستان میں سیاستدانوں کو اس حد تک مضبوط کرنے میں مدد کرنی چاہئے تاکہ فوج ایک سویلین انتظامیہ کے تابع ہوجائے اور اس ملک میں بھارت کی طرز پر ایک مستحکم جمہوریت قائم ہوسکے۔ مگر پاکستان کے حوالے سے کوتاہ نظری اور عملی صورت حال سے نظریں چرانا تو بھارتی تجزیہ کاروں کی پرانی عادت ہے۔ جمہوریت کے استحکام کیلئے مڈل کلاس ریڑھ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت کی 125کروڑ کی آبادی میں مڈل کلاس کا تناسب21.36فیصد ہے، جبکہ پاکستان کی 25کروڑ کی آبادی میں اس طبقہ کی تعداد صرف 6.8فیصد ہے۔ دوسری طرف بھارتی سسٹم میں فوج کے محدود رول کے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ آبادی کے حساب سے اسکی تعداد کا تناسب محض 0.136فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان میں یہ شرح0.5فیصد بنتی ہے۔ جو کہ ایک بڑی تعداد ہے اور انکو نظر انداز کرنا اور سسٹم سے باہر رکھنا ناممکن ہے۔ ویسے بھی بھارت میں سبھی سویلین حکومتیں قومی سلامتی کے ایشوز پر فوج کی ہی رائے کو فوقیت دیتی ہیں۔

بھارت میں اندون خانہ یہ تاثر بھی عام ہورہا ہے کہ سویلین حکومت کے بجائے بھارت کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی طرز پر پاکستانی فوج کے ساتھ معاملات براہ راست طے کرنے چاہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں۔ بھارتی خفیہ ادارے (رائ) کے سابق سربراہ امر جیت سنگھ دلت نے حال ہی میں یہ مشورہ دیا تھا کہ قومی سلامتی مشیر کوجنرل باجوہ کو دہلی آنے کی دعوت دینی چاہیے، تاکہ وزیر اعظم مود ی کے ساتھ انکی براہ راست بات چیت ممکن ہوسکے۔ خیر عمران خان کے حوالے سے بھارت میں کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ 2014ء میں عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں عندیہ دیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ایک حد میں رکھیں گے۔

اب یہ محض جملہ بازی ہے یا وہ عملی طور پر ایسا کریں گے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر بھارت تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں محدود امریکی رول ، افغانستان اور خطے میں بھارتی مفادات کو زک پہنچائے گا۔ ویسے بھی ا ب بھارت کے عام انتخابات تک دونوں ممالک کے تعلقات میں پیش رفت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فی الحال مودی اور ان کے دست راست امیت شاہ اقتدار میں واپسی کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے بے قرار ہیں اور اس میں ووٹروں کو لبھانے کیلئے پاکستان کا ہوا کھڑا کرنا بھی شامل ہے۔ بھارت میں گائے، مسلمان اور پاکستان کا ایشو اٹھا کر ووٹ حاصل کرنا ایک آزمودہ فارمولہ بن چکا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ عام انتخابات کے بعد بھارت میں نئی حکومت روایتی روش چھوڑکر خطے کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کی طرف سنجیدہ کوشش کریگی ۔ تاکہ ایک پر امن ماحول میں خطے کے حقیقی ایشوزکی طرف توجہ مرکوزکرکے عوام کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں لیکن تا حال اس کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ضروری ہے کہ انتخابات کے بعد جو بھی پاکستان میں وزیر اعظم کی کرسی پر فائز ہوجاتا ہے وہ ہوشمندی سے کام لیکر wait and watch کی پالیسی اپنا کر بھارت کے عام انتخابات کے مکمل ہونے تک ملک کے دیگر اداروں اور سیاسی جماعتو ں کے ساتھ ملکر اتفاق رائے پیدا کرے اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک نیز دیگر پڑوسیوں ایرا ن و افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور ایک اقتصادی بلاک کو کھڑا کرنے کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کرے، چاہئے اسکے لئے کتنی ہی مراعات دینی پڑیں ۔

اس مقصد کے لیے مخلص اور مسائل کو جڑ سے اکھاڑنے والی جرأت مند اور سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے۔ بہر حال اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنوبی ایشیاء کے ان دونوں پڑوسیوں کے درمیان خوشگوار تعلقا ت کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔یہ نہ صرف دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے لئے بلکہ اس خطے او ر دنیا کے لئے بھی ضروری ہے۔ان حالات میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ بھارت میں موجودہ حکومت پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اور دوسری جماعتوں کے راہنمائوںکو بھی اعتماد میں لے کرامن مساعی کے لیے راہ ہموارکرے۔موجوہ حکومت فی الحال شاید ہی پاکستان کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرسکے گی۔اگرآئندہ کی متوقع حکومت کے ذمہ داروں سے تعلقات بنائے جائیں اورانہیں دیرپا امن کے قیام اور اس کے خوشگواراثرات کے بارے میں قائل کیاجائے توامید کی جاسکے گی کہ پاک بھارت رشتوں کی گاڑی یقیناپٹڑی پر دوڑنا شروع ہوجائے گی۔ اس کے لیے بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنرکو بھی خاصی محنت کرنا پڑے گی۔