حرف صدا/آصف علی بھٹی

اندھاانصاف،بول کہ لب آزادہیں تیرے۔۔؟

میری میز پر ایک طرف معززاحتساب عدالت کےجج محمدبشیرکا “تاریخی “فیصلہ پڑا ہے اور دوسری طرف بدعنوانی ،بدترین جرائم ،بدی کےکرداروں اور ہرقسم کے بدنما داغوں کےالزامات میں لتھڑے آزاد سیاسی ناموروں،طاقت وروں،مذہب کےلبادہ اوڑھےبےلباس ملاؤں سمیت مختلف شعبوں کےسرکردہ گورؤں پرالزامات ومقدمات کی طویل فہرستیں اندھے انصاف کےدعووں کامنہ چڑھا رہی ہیں۔

چھوٹی بڑی عدالتیں،نیب اوردیگراداروں کو یہ شخصیات اور ان کےنام شاید بھول چکےہیں یا مناسب وقت یااحکامات کاانتظارکیاجارہاہے،ایسا جلد یابدیر یا شاید کبھی ہوہی نہ لیکن بطور صحافی فل الوقت ہماری آنکھیں بےنوراور زبان گنگ اور ہاتھ بندھے ہیں ،قلم کی سیاہی خشک ہےاورمزید کچھ سنیں گےبھی توتوہین کےمرتکب قرار دئےجائیں گےیاتاریک راہوں کے مسافربنادیئےجائیں ،مگر ،مجھ پریقین نہ کیجیئےگا،خدارا کسی غلط فہمی کاشکار مت ہوں کیونکہ آپ کااعتقاد ہونا چاہئےکہ یہاں میڈیامکمل آزاد،بےباک اورہرقسم کی قدغن سےپاک ہے۔۔!الحمداللہ، ملک میں انصاف کی تحریک کا بول بالا ہے،عدالتیں کام ہی نہیں بلکہ اندھاانصاف بھی مسلسل کررہی ہیں۔تاہم وقت ایک سا نہیں رہتاہے۔۔۔!

ملکی تاریخ کےخطرناک ترین ملزمان کو”استغاثہ” کی دوسال کی انتھک شبانہ روزکوششوں کےبعدکرپشن کی بجائے شک کی بنیاد پرآمدن سےزائد اثاثے بنانے کے “سنگین جرم” میں سزائیں سنادی گئی ہیں۔انہیں منتخب عوامی ایوانوں سےجیل کی کوٹھریوں میں بھجوانے کا ہدف کامیابی سےمکمل کیاجارہاہے۔!ان الزامات کی نوعیت ،مقدمات کے اسپیڈی ٹرائل اور سخت سزاوں کےمعیارکا اندازہ توتاریخ ہی کرےگی لیکن پہلےجولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی طرف سےنااہلی اورپھرسال بعد جولائی ہی کےمہینے میں پہلی مرتبہ زیرنگراں احتساب عدالت نےمنتخب وزیراعظم کو دس سال قید ،کروڑوں کاجرمانہ،صاحبزادی کو سات سال قید،جرمانےاور داماد کوسال قید بامشقت کا”تاریخی ” فیصلہ سنایاہے۔

میاں صاحب نےبیٹی کےہمراہ 12 جولائی کو وطن واپس آکر گرفتاری دینےکااعلان کیاہےجبکہ داماد نےازخودگرفتاری دےدی ہےجنہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیاگیا ہے۔تیز ترین ٹرائل کا سلسلہ جاری اور دومزید ریفرنسز پر”سخت” فیصلہ آناباقی ہے۔ مصدقہ اطلاع ہے کہ بڑے میاں نےصدارتی حکم سےسزا کالعدم کرانے کا آپشن استعمال کرنےسےانکاراور عدالتی وسیاسی میدان میں لڑائی لڑنے کافیصلہ کرلیاہے۔

کہنےوالےکہتےہیں کہ اس فیصلے کی بڑی وجہ مجھے کیوں نکالا اورووٹ کو عزت دینے کے نعرے میں چھپےوہ عزائم ہیں جنہیں بقول میاں صاحب، عوام میں واضح پذیرائی مل رہی ہے۔حقیقت ہےکہ میاں صاحب کو سزا، جیل جانے اور 2018ء کےانتخابی مقابلےسےپارٹی سمیت باہر کئےجانےکا پہلے سے یقین تھا لیکن اب انہیں اطیمنان ہوچلا ہےکہ جن کمزور بنیادوں پر فیصلہ کرایاگیاہے وہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے کالعدم قرار دیاجاسکتاہے۔رفقاءمشاورت سےوہ سمجھتے ہیں کہ کئی دیرینہ سیاسی ساتھیوں کی بےوفائی کےباوجود بطور قائد وہ ن لیگ کوایک نئےجمہوری دھارے پر استوار کرسکتےہیں جبکہ نشانہ بنائےجانے کےجواز کاوکٹم کارڈ کھیلنےکا اس سےبہترموقع اورکوئی نہیں ہوسکتا۔انہیں اندازہ ہےکہ عدالت عظمیٰ کی موجودہ قیادت کی تبدیلی کےبعد وہ بحرانی صورت حال سے بھی کسی حد تک نکل آئیں گے۔

خود اور بیٹی کےذریعےاسٹبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے واضح اظہار سے وہ دنیا اورعالمی اسٹبلشمنٹ کو پیغام دیناچاہتے ہیں کہ وہ اپنی نئی پالیسی اور حکمت عملی سےپاکستان کا چہرہ اور کردار بدلنےکوتیار ہیں لہذا ان کی مدد کی جائے۔بڑے میاں ڈان لیکس،ممبئی حملوں اور ختم نبوت کےمعاملے پر اختیار کئےجانے والےموقف کوانقلابی قرار دیتےہوئےخیال کرتےہیں کہ عالمی سطح پرانہیں خاموش پذیرائی مل رہی ہے جو مستقبل میں ان کی اقتدار میں واپسی کی راہ بھی ہموار کرسکتی ہے؟یہ بھی کہاجارہاہےکہ ماضی میں دومرتبہ اقتدار سے بیدخلی کےبعد ڈیل کرنےوالے میاں صاحب کو اب کی بارسعودی عرب سمیت کسی بھی جانب سے ڈیل کی کوئی آپشن نہ ملنے کےسبب بیرون ملک پناہ کی بجائے جیل کا انتخاب کرناپڑاہے۔وہ سپریم کورٹ کےبعداب احتساب عدالت کی جانب سے بدعنوانی کا الزام دھلنےکواپنےموقف کی کامیابی اوروزیراعظم ہاوس سےبیدخلی کوطاقتوروں کےظلم قرار دینے کےاپنےدعوے کی فتح کہہ رہےہیں۔

نقاد سمجھتےہیں کہ مستقبل میں میاں صاحب اور ان کی صاحبزادی کےلئے بڑاچینلج کوئی اورنہیں ان کےچھوٹےبھائی ہوسکتےہیں جوصرف مفاہمت کوہی راہ نجات قرار دے کر”ترقی کےبیانئے” پراپنی ذات اور پارٹی کی انتخابی مہم چلارہےہیں اورشایداسی وجہ سےخطرہ جنم لےرہاہےکہ ماضی کی طرح بڑے میاں کی وطن واپسی کےمناظرپارٹی کارکن گھروں میں ٹی وی پر دیکھیں گے،بعض سنجیدہ حلقے خیال کررہےہیں کہ تمام ترکوششوں کےباوجودانتخابی نتائج توقعات کےبرعکس آنے کے امکانات بھی پیدا ہورہےہیں ۔دوسری طرف ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانے صادق وامین قرار دیئےجانے اورابھی سے وزیراعظم محسوس کرنے والےمسٹر خان کا ٹکٹوں کی تقسیم کا عذاب ابھی ٹلا ہی تھاکہ انتخابی جلسوں میں کارکنوں اور عوام کی مسلسل کم ہوتی تعداد ایک نیا سردرد بن چکی ہے۔

ان کےبعض دیرینہ ساتھیوں کےمطابق ہربرانڈکےالیکٹربلز لینےکےباوجود وہ ابھی تک خان صاحب کو امپریس نہیں کرسکےبلکہ انتخابی جلسوں میں جانےسےپہلے خان صاحب انتخابی امیدواروں سے جلسہ نہ بھرنے کی سخت شکایت بھی کرتے نظر آتےہیں اس کے باوجود انہیں یقین دلایاجارہاہےکہ وہ اوران کی جماعت ہی مستقبل کی حکمران ہوگی۔افسوس کی بات ہےکہ خان صاحب کے اردگرد بہت پرانے اورماہر تجربہ کار چہرے موجود ہیں جنہیں یقین ہےکہ ان کےپارٹی چئیرمین ہی وزیراعظم بنیں گے لیکن وہ نہ ہی ابھی تک حقیقی صورت حال کا ادراک کررہےہیں اور نہ ہی مستقبل میں حکمرانی کےحوالے سے کوئی سنجیدہ تیاری ؟بعض پرانوں کا شکوہ ہےکہ دراصل خان صاحب ابھی تک رائے لینے کا اپنے اندرحوصلہ بوجہ پیدا نہیں کرسکےحالانکہ میاں صاحب کودرپیش آنے والےسنگین چینلجز اورحالات واضح اشارہ ہیں کہ اقتدار کانٹوں کا ہی بستر ہے۔

متقدر حلقوں کادعویٰ ہےکہ اب کی بار سب کا احتساب ہوگااوراس سلسلے میں تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی ہیں،کہاجارہاہے کہ اگلی باری پیپلزپارٹی کی قیادت کی ہے لیکن سوال اٹھایاجارہاہےکہ وہ عناصر جن پر پوری دنیا انگلی اٹھارہی ہےان کی باری کب آئےگی؟اب توانہیں توالیکشن لڑنےکااہل بھی ٹہرادیاگیاہےتوسوچناہوگاکہ کیاایسے فیصلےنوازشریف کےبیانئے کو تقویت پہنچانے کا سبب تو نہیں بنا جائیں گے؟اپنوں کےلئےجیپ کاانتخاب درست ہےلیکن یہ مشکل عمل عوام کی آراء تقسیم اورانتخابی پراسیس پربداعتمادی کےامکان میں تبدیل تونہیں ہوجائےگا؟ملک میں بدعنوان عناصر کی سرکوبی وقت کی ضرورت اور لوٹی ہوئی دولت کی قومی خزانے میں واپسی کے اقدامات لازم ہیں لیکن اس اقدام کو شک وشبہ سےبالاتر بنانےکےلئےتمام لٹیروں کےگرد شکنجہ کسا جاناازضروری ہے۔ 25

جولائی ابھی دور ہے ضرورت اس امر کی ہےکہ شفاف،غیرجانبدار اور آزادانہ عام انتخابات کی راہ ہموار کی جائے،احتساب کے ہتیھار کے وار سے انتخاب کا خون ہونے بچایاجائے،انصاف کی آنکھوں پر پٹی ہوتی ہے،انصاف کےترازو کےیکطرفہ جھول کوبچانےکےلئے لبوں کوسینے کی بجائے میڈیا کو آزادی کا حق دیاجائے،،عوام کےنفرت آمیز غضب ،بےلاگ احتساب اور خوفناک انتقام سے ڈرا جائے۔انتخابی حلقوں میں نوابوں ،جاگیرداروں اور سرداروں کے سامنے حقیرووٹر کا سوالیہ ردعمل آنکھیں خیرہ کررہاہے،اسی کو آئندہ حقیقی جمہوری دور کی عوامی فلم کا ٹریلر سمجھا جائے۔۔۔!جناب فیض نے اسی وقت کےلئے کہاتھا۔۔

بول کےلب آزاد ہیں تیرے
بول ،زباں اب تک تیری ہے
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہراک زنجیر کا دامن
بول،یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم وزباں کی موت سے پہلے
بول کےسچ زندہ ہے اب تک
بول ، جوکچھ کہناہے کہہ لے!