Azher Ejaz
نقطہ نظر/اظہر اعجاز

مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان

تیری صورت میں مردانِ مجاہد یاد اتے
بہادر یاد اتے ہیں دلاور یاد اتے ہیں،،،،

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کوہستانی

ملت اسلامیہ کے عظیم رہنما بالخصوص پاکستان کے عظیم محب اور ریاست جموں و کشمیر کا نامور نام۔ جہاد آزادی کے بانی قاہد نیلابٹ تحریک کے روح رواں۔مجاہداول کسی تعارف کے محتاج نہیں نہ ہی ہمارے لکھنے سے انکا نام بڑھتا ہے کیونکہ مجاہداول اللہ کے وہ نیک بندے ہیں جنہیں اللہ پاک نے ہر طرح کی صلاحیت سے نوازا اور ملک و ملت میں باعزت مقام عطا کیا لیکن حاضری کے طور پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنا لازم سمجھتا ہوں

جہاں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس الحاق پاکستان کی داعی ہے وہی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کے خالق بھی مجاہداول ہیں اور کشمیری قوم کے قائداعظم رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کے جانشین بھی آپ ٹھہرے۔
مجاہداول آزاد کشمیر کے چار مرتبہ صدر اور ایک مرتبہ وزیرآعظم منتجب ہوئے آپ پاکستان کی قومی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بھی رہے اور عالمی رابطہ اسلامی کے ممبر بھی رہے۔

بطور صدر آپ نے کئی کام کئیے آزاد جموں و کشمیر میں قراداد ختم النبوت پاس کروائی علماء مشائخ کی سیٹ تجویدالقرآن ٹرسٹ کا نفاذ قاضی کورٹس محکمہ امور دینہ محکمہ اوقاف و زکوت محکمہ سوشل ویلفیئر محکمہ اکلاس جموں و کشمیر لبریشن سل کا نفاذ آزاد کشمیر کے اندر تعلیمی اصلاحات اور 70 کا تعلیمی پیکیج وغیرہ کا نفاذ کا سہرا آپ کے سر جاتا ہے۔

آپ نے پاکستان کی سیاست میں بھی عملی رہنما کے طور پر حصہ لیا پاکستان نیشنل الائینس میں کلیدی کردار آپ کا اور مرحوم ذوالفقار علی بھٹو جیسے لوگ بھی آپ کی خدمات کے محترف رہے۔
بظاہر اور دلی طور پر آپ بھٹو صاحب کی پھانسی کے مخالف تھے اور جنرل ضیاء کو آپ نے خط بھی لکھا جس پر
واضح انداز میں آپ نے پھانسی کے نقصانات بھی بتائے-

لیکن اس وقت کے سربراہ نے آپکی بات نہیں مانی جس پر
آپ کا اور ضیاء کا اختلاف بھی ہوا اور آپکو 18ماہ کی جیل بھی دیکھنی پڑی اور آپ گرفتار رہے۔
یہاں لوگ کہتے ہیں مسلم کانفرنس ملٹری کے دور میں آتی ہے اگر ملٹری کی ہی بات ہوتی تو ایوب سے لے کر ضیاء تک مجاہداول جیل نہ جاتے ابڈو کمیشن مسلم کانفرنس کی قیادت پہ نہ بنتا۔

بھٹو مرحوم کے اقتدار جانے سے لے کر نواز شریف معذول کے لیڈر بننے تک آپ کا اہم کردار رہا اور مثبت کردار رہا پاکستان کے استحکام کے لئیے۔ میاں محمد نواز شریف کو سیاست میں لانے اور سیاست کو کامیاب کروانے پنجاب کے وزیراعلی سے ملک کا سربراہ بنوانے تک مجاہداول کا اہم کردار رہا ہے جس کے گواہ آج بھی لوگ موجود ہیں لیاقت جتوئی چوہدری ،شجاعت، بیگم کلثوم نواز، راجہ ظفرالحق جاوید ہاشمی، سردار سکندر حیات خان اور بڑے نام۔
مجاہداول رواداری حکمت اور نظم و ضبط کے بڑے ہی پابند تھے۔

کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور خاص کر فتنہ انکار سنت کے نام سے آپ نے ایک عظیم کتاب لکھ کر حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرپورنسبت ظاہر کی ہے جس کا صلہ آج آپ کو دوسرے جہاں میں مل رہا ہوگا۔

مجاہداول دینداری میں بھی ہر اول دستے کی ماند رہے آپ نے جہاد کیا تو اسلام کے عین اصولوں کے مطابق اور آخر وقت تک اللہ اور اللہ کے بنی صلم اور انکے نیک بندوں سے تعلق جوڑے رکھا۔

یہ آپ ہی کی شخصیت ہے اور اللہ نے آپکی پیدائش کا دن بھی جمعہ رکھا اور وفات کا دن بھی جمعہ۔
آپ دنیا میں بھرپور سیاسی دینی معاشی انگز کھیل کر 22 رمضان المبارک 10 جولائی 2015 کو اس دنیا فانی سے
-رخصت ہوگئےاناللہ وانالیہ راجعون

کل دس جولائی 2018 کو آپکی تیسری برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی- مرکزی دعائیہ تقریب آپ کے مزار بمقام غازی آباد میں ہوئی جہاں مجاہداول کے عقیدت مند شریک ہوئے-اس کے علاوہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام کشمیرسنٹرراولپنڈی میں بھی برسی کا انعقاد کیا گیا- جہاں قائدین نے مجاہداول کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔
اللہ پاک مجاہداول کے درجات بلند کرے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب کرے۔آمین