سید رضوان حیدر بخاری

سیاسی جماعتوں کی اے پی سی کی پاکستان دشمنی

اقتدار کےبیوپاریوں،ہوس زر کے پجاریوں اوراختیارات کے بھکاریوں کو آل پارٹیز کانفرنس بلاتے ہوئے شرم نہیں آئی اور یہ کیوں نہ ڈب مرےچلو بھر پانی میں جب قانون ختم نبوت میں چھیڑ چھاڑکی گئی اس وقت اے پی سی بنانے کی توفیق کسی سیاسی مچھیرے، کسی علاقائی وڈیرےیا کسی پارٹی کے سپیرے کو کیوں نہ ہوئی?مساجد،چوک چوراہوں،گلیوںاور بازاروں میں دھماکے ہوتے رہے۔ افواج پاکستان کے سپوت،پولیس کے جوان اورمیری پاک دھرتی کے بےگناہ مردو زن اور ہزاروں نوجوانانِ پاکستان شہید ہوتے رہے تب کسی لیڈر اور پاکستان کےسیاسی خیر خواہ کو اے پی سی بنانے کی توفیق نہیں ہوئی۔

امریکی ڈرون حملوںکے خلاف اور پاکستانی مفادات کے خلاف اس کے اقدامات پر ان سب کی ملی غیرت کہاں مری ہوئی تھی کہ اے پی سی نہ بنا پائے۔ممتاز قادری کی پھانسی رکوانے یااسکی سزا کا محرک بننےوالی عورت کی سزا پر عملدرامد کروانے یا سلمان تاثیر کےگستاخانہ بیان پر اے پی سی میں شامل سوکالڈ علما کا جذبہء ایمانی ڈولنے کے اسباب کیا تھے کہ اے پی سی نہ بن پائی۔کشمیر پر انسانیت سوز مظالم،برما کی حالتِ زار،فلسطینیوں کی بے بسی، بوسنیا،چیچنیا،اورنبی پاک کے خاکوں کے مقابلے کروانے والےها لینڈکے خلاف تو کبھی ایسا اتفاق واتحاد تو دیکھنے کو نہیں ملا نہ ان فصلی بٹیروں کو اے پی سی بنانے کا خیال آیا۔

کراچی کی بوری بند لاشوں،سیالکوٹ کے بےگناہ بچوں ،ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کے خلاف تو اے پی سی نہ بن پائی۔رائو انوار کےانکشافات،ڈاکٹر عاصم کے اقبالی بیانات،لوائی صاحب کےکارناموں یا ڈالر گرل کی جگ ہنسائی اور معصوم غریب پاکستانی عوام کی دولت سے دیار غیر میں محلات و سرمایہ کاری ، پاکستان میں ظلم و ستم اور ناانصافی پاکستانی معیشت کو ڈبونے والے ،سوئس اکاؤنٹ کهلوانےوالے دهری شہریت بنوانے والےملک پاکستان کے معزز اداروں کو اپنی انگلیوں پر نچانے والوںاور اساس پاکستان کے منکرین اور غداران پاکستان کے خلاف قیام پاکستان سے لے کر اج تک اے پی سی کیوں نہ بن پائی۔

روشنیوں کے شہر کراچی بلکہ پورے پاکستان کوڈاکو راج سے بچانے کے لیے اداروں کو مضبوط ،غیر جانبدار اوربااختیار بنانےکے لیے اے پی سی بناتے ہوئے کیوں موت نہ پڑی۔ ملک کو غریب سے غریب تر بنانے لاکھوں پڑے بےروزگار نوجوانوںکو روزگار دلوانے اس ملک کےمزدور ،کسان،بچے بوڑھے اوردهکانوں کی خود کشیاں رکوانے کیلئے اے پی سی کیوں نہ بنائی۔پانامہ کا ہنگامہ اور 4حلقوں کو چار سال لٹکا کر اس ملک کو اپنی اپنی ڈگڈگی پر نچانے پر انہیں خدا کا خوف نہ آیا۔ ٹائم اور پیسہ برباد کرنے پر اے پی سی کا خیال نہ آیا۔ اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکو کہ آپ کی موجودگی میں اس ملک میں یہ کچھ ہوتا رهاآج تک کسی کے منہ میں زباں یہ کسی کے جسم میں جاں نہ تھی کہ اس طرح کھڑے ہو کر اس ملک کو سوارنے کی بات کرتے۔

آج جو علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ اکٹھے ہو کر الیکشن کمیشن کو برا بھلا کہہ رها ہے اسے بنانے والا کون ہے؟ معزز چیف جسٹس پر انگلیاں اٹھانے والو ان کا نام کس کس کی مشاورت سے تجویز ہوا تھا۔ افواج پاکستان پرالزامات کی بارش کر کے اپنی ناکامی اور نااہلی پر پردہ ڈالنے والے یہ بتائیں کہ موجودہ سپہ سالار کس کی مشاورت سے تعینات کئے گئے ۔آج جو لوگ اداروں میں نقص نکال رہے ہیں ان اداروں کو درست کرنا کس کی ذمہ داری تھی ان اداروں کی خرابی اور زبوں حالی کا سہرا کن لوگوں کے سر ہے۔جناب اآپ سب لیڈر اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔

اس پاک دھرتی میں آگ کو ہوا دے کر اس آگ کے شعلوں سے اپنے اپنے ڈرائینگ رومز میں بیٹھ کر لطف اندوز ہونے والے نامراد سیاستدان اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بہتری کےلئےاے پی سی آج سے پہلے کیوں نہ بنا سکے نگران حکومت کے تخلیق کار کون تھے ماضی میں سابقہ صدر مشرف نے ڈیم بنانے کی بات کی تو یہی لوگ تھے جو مرنے مارنے پر اتر آئے تھے”شرم ان کو مگر نہیں آتی”۔ آج کس منہ اور کس مقصد کے لئے اے پی سی بنا لی۔

جناب والا!” اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے” اور ویسے بھی “اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت” آپ سب لوگ ہمارے ساتھ ساتھ اللہ کےسامنے بھی مجرم ہیں ۔آپ سب لوگ اپنے آپ کو سیاستدان کہتے اور سمجھتے ہواور اس ملک سے سیاسی کھلواڑکرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔ اس ملک نے آپ کو نام دیا، عزت دی ،وقار دیا.زرا سوچو آپ نے اس ملک کو کیا دیا ؟اپنے آپ کو علماء کی صف میں کھڑا کرتے ہوئے یہ کبھی نہ سوچا کہ آج تک ناموس رسالت کیلئے کیا کچھ کیا؟ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شپ میں شہیدائے کشمیر کی قربانیوں کے عوض آپ نے کیا گل کهلائے؟ بین الاقوامی فورم پر آزادی کشمیر کے لئے اپنی زمہ داری نبھائی؟ کیا کیا خود سوچو جب تک ہر آدمی اپنا احتساب نہیں کرے گا یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

اے پی سی کے تخلیق کار شاید یہ بھول گئے کہ ان کی وجہ سے جمہوری نظام کا استحکام نہیں بلکہ استحکام پاکستان کو بھی خطرہ ہے۔ ان کے پارلیمنٹ میں نہ ہونے سے جمہوریت ڈیریل نہیں ہو گی بلکہ اور زیادہ مضبوط و مستحکم ہو گی۔ انشاءاللہ پاکستانی عوام نے ان لوگوں کو پالیسی میکر بنایا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ منی میکر بنے رہے۔ اب اس پاک ایوان نمائندگان سے اللہ نے اگر ان کے شامت اعمال کی وجہ سے نکال باہر کیا تو یہ “چور مچائے شور”والے کام کر رہے ہیں۔

میں بحیثیت پاکستانی شہری اربابِ اختیار خصوصاً محترم چیف جسٹس آف پاکستان سے استدعا کرونگاکہ اس دفعہ ایوان اقتدار میں آنے والوں کا سیاسی شجرہ اچھی طرح چیک کیا جاتا مخلص اور دیانتدار اشخاص کو ہی یہ منصب سونپا جائے جو پاکستان دشمن تھے اور ہیں یاپاکستان دشمنی پر آمادہ ہیں ان سے اس ملک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات دلا کر مملکت خداداد پر احسان عظیم کیا جائے۔ایک اور بات جس کی طرف محترم چیف جسٹس کی توجہ دلانا از حد ضروری ہے وہ یہ کہ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کرنسی ایک روپے سے کم مارکیٹ میں دستیاب نہیں تو پھر مختلف اشیاء کی قیمتوں پر 99_95 پیسے یا خصوصاً پٹرولیم کی قیمتیں 79_65 پیسے یا90_4 پیسے یا جو بھی ہو روپے سے کم 30پیسے سے لے کر95پیسے تک کیوں لکھ کر اس سادہ لوح عوام کو لوٹا جا رہا ہے۔

جنابِ محترم آپ سے امید ہے اسی لیے اس ضروری مسئلے پر خدا راہ سومو نوٹس لے کر پاکستانی عوام کی دار رسی فرمائی جائےاورآخری گزارش کہ تمام سیاسی لوگوں سماجی افراد اور دیگر تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کا بلا تخصیص احتساب کر کے ملک کو کرپشن سے پاک کر کے نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ اے پی سی کے تخلیق کاروں کی نزدیک قطعہ یہ وہ ناداں ہیں جو ہر بات میں آجائیں گےمجھ کو معلوم ہے جذبات میں آ جائیں گے۔
حیثیت” ان” کو دکھانا ضروری تھی رضواں
دیکھ کے آئینہ “اوقات ” میں آ جائیں گے