syed-nazir-gilani

ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ رول

نئی اور بہتر سفارت کاری
کشمیر پر جاری سفارت کاری اور تسلسل کے ساتھ دی جانے والی جان،مال اور عزت کی قربانی کے باوجود کامیابی میں سست نتائج کی بڑی وجہ غیر معیاری علم اور معلومات کے حوالے سے بے جان سفارت کاری اور غیر موثر سیاست ہیں ۔

امریکہ، روس،چین،برطانیہ کے علاوہ کچھ اور ممالک کے حمایتی حوالوں کو ہم Recycle کرنے کے اہم رول کو نبھانے میں غفلت کے مرتکب ہوئے ۔

27 اگست 1951 میں امریکہ کے State Department نے ایک میمورنڈم “Kashmir Dispute:Future Action” تیار کیا ۔ اس کا بنیادی مقصد مہاراجہ کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ عارضی الحاق کو ICJ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں چیلنج کرنا تھا تاکہ ہندوستان کے بنیادی دعوے کو ہی یکسر مسترد کردیا جائے ۔
“The State Department memorandum argued that a court finding that the accession was invalid would ‘knock out’ one of India’s principal arguments supporting it’s occupation of Kashmir”.

1951کےبعد کی سفارت کاری اور سیاست سے اس امر کی کہیں گواہی نہیں ملتی کہ ہم نے امریکہ کو اقوام متحدہ میں یا کسی دوسرے فورم پر اس میمو رنڈم کی طرف کبھی توجہ دلائی ہو ۔ اس بات کی بھی کوئی شہادت نہیں ملتی کہ ہم نے کبھی کشمیر،پاکستان یا کسی اور جگہ اس حوالے سے اظہار خیال کیا ہو۔ کم علمی کی انتہا یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہونٹ ہی سی ڈالے ہیں۔

امریکہ میں نئی انتظامیہ کے آنے سے سفارتکاری کی نئی ابتدا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ 27اگست 1951کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کشمیر پر اس میمورنڈم کی طرف دلانا آسان بھی ہے اور ضروری بھی ۔

کشمیر کیس کو از سر نو سمجھنے اور پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس کیس کو A4سائیز فائل سے آزاد کرنے اور ماہرین کی ایک نمایندہ ٹیم کے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے ۔

حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور کشمیریوں( Civil Society) کے نمائندوں اور کشمیر یات پر کام کرنے والے ماہرین کے لئے لازم ہے کہ وہ ایک ٹھوس اور مشترکہ حکمت عملی کو وضع کریں ۔

کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اگر عددی اصول پر طے ہونا ہے تو یہ ضروری ھے کہ ہم کشمیر میں نسل کشی نہ ہونے دیں ۔ کشمیر میں ہونے والے ہر قتل کا مقصد حق خودارادیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں