قلم کی جنگ/عقیل احمد ترین

نئے پاکستان میں خوش آمدید

پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں وفاق ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے جا رہی ہے ، کپتان کے بھا ری مینڈیٹ کو پاکستان کی تمام سیاسی جما عتوں نے مسترد کردیا ہے ، 2018کا الیکشن تا ریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جا ئیگا کہ اس میں مذہبی جما عتیں پہلی بار اپنے اصل مینڈیٹ سے بہت کم ما رجن سے پا رلیمنٹ پہنچی ، مسلم لیگ ن جو پنجاب کی سب سے بڑی جما عت کے طور جانی جا تی تھی اس کا مینڈیٹ بھی کمپرو ما ئز ہوگیا ، پاکستان پیپلز پارٹی اور پا کستان تحریک انصاف کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جما عت انتخابات کو شفاف ماننے کو تیا ر نہیں ، سوشل میڈیا گلی محلو ں ، چوپالوں پر ن لیگ ، ایم ایم اے اور جی ڈی اے کے مینڈیٹ پر ڈاکے کی با تیں کی جا رہی ہیں.

کپتان اور اسکی ٹیم سب الزامات اور دعووں سے بے نیاز حکومت سازی کیلئے جو ڑ توڑ کرنے اور دنیا بھر سے مبا رکبا دیں وصول کرنے میں مصروف ہیں ،اچھی خبر یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت مسلسل کم ہو رہی ہے ، چین نے دو ارب ڈالرکا بیل آئوٹ پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے ، ڈیموں کی تعمیر کیلئے نجی طبقہ آگے آرہاہے ، شنید ہے کہ اوورسیز پاکستانیز عمران خان کی اپیل پر اربوں ڈالر پاکستان بھیجنے کو تیا ر بیٹھے ہیں ، عرب ممالک سے بھی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت ایک بڑی رقم آنے کو تیا ر ہے ،سٹاک ما رکیٹ میں تیزی آرہی ہے ، دوسری طرف سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کو ایسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے حق اور مخالفت میں سینکڑوں پوسٹس اور ٹویٹس ماحول کو کنفیوژکئے ہو ئے ہیں ،کپتان کو نئی حکومت کیلئے بہت سارے چیلنجز کاسامنا ہے ، سب سے پہلاچیلنج انکو اپنی ٹیم کے انتخاب کا ہوگا ، آج وہ کے پی کے جیسے نظروں سے اوجھل صوبے کیلئے حکومت نہیں بنانے جا رہے ، اب وہ وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے جا رہے ہیں جہاں پر عوام ، ملکی و غیر ملکی اداروں کی عقابی نگا ہیں ہر وقت گڑھی رہتی ہیں ،جہاں پر غلطی کا مطلب سخت سی ایکشن اور ناقابل برداشت تنقید ہے ، یہاں پر با توں سے زیادہ عمل کرنا ہو تا ہے ، کچھ کرکے ، ڈیلیور کرکے دکھانا ہو تا ہے ،اس کے بعد خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت کی بحالی اور بہتری سمیت قرضوں کی اقساط کی ادائیگی ہے جس کیلئے پہلا نا پسندیدہ کام خان کی ٹیم کو کرنا پڑے گا یعنی کہ بجلی و پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ، یقینا باہر بیٹھ کر تنقید آسان اور مسائل زدہ ریاست و اداروں کو سنبھالا دینا بہت مشکل کام ہوتا ہے

سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو موجودہ الیکشن میں توقع سے بہت کم نشستیں ملی ہیں ،ایسا کیوں ہوا ؟ کیسے ہوا ؟اور ایسا ہونے کی بنیادی وجہ کیا بنی ؟ یہ لکھا گیا تو ویسے ہی سینسر ہو جانا ہے لہذا عقل مندکیلئے اشارہ ہی کا فی ہے ،اپوزیشن جما عتیں حلف نہ اٹھانے اور نئے الیکشن کرانے کی بات کررہی ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن اپنا بڑا نقصان کرنے کے با وجود آج جس دھیمے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ نواز شریف کے بیانئے پر شہباز کا بیا نیہ حا وی ہوگیا ہے ، اپوزیشن کو جو توقع تھی کہ مسلم لیگ ن دما دم مست قلندر کریگی ایسا کچھ نہیں ہونے جا رہا، مجھے اندازہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کسی صورت بھی ٹکراو کی سیاست کی طرف نہیں جا ئیں گے ، حلف نہ اٹھانے پر دو دن کی مشاورت کو بعض تجز یہ کا روں اور سیاسی پنڈتوں نے کسی لالی پاپ سے تشبیہ دی تھی کہ شاید شہباز کو کہیں سے کو ئی آفرآئی ہے ، لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ میاں شہبازشریف فرنٹ فٹ پر آکر کبھی نہیں کھیلتے ، اسی لئے انہوں نے احتجاج اور حلف نہ اٹھانے جیسی انتہا کی طرف جانے سے وقتی طور گریز کیا۔

نیا پاکستان تو بن گیا ہے ، ہم اسکو کھلے دل سے خوش آمدید بھی کہتے ہیں ، یہ ادارے بھی ہما رے ہیں ،یہ سیاستدان بھی ہما رے ہیں ،سیاست کا یہ کھیل ہے کہ کل آصف علی زرداری اندر تھے آج میاں نواز شریف اندر ہیں ، اور نجانے پا نچ سال بعد انہی دنوں کوں اندر اورکون با ہرہوگا ؟ میری طرح سب کونئے پاکستان میں آجا نے کے بعد بھی یہ پراناپاکستان ہی لگ رہاہے ، آج نئے پاکستان میں بھی مجھے دھاندلی ، ٹیوب پنکچر ، اور انجینئرڈ الیکشن کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں نہ صرف سنائی دے رہی ہیں بلکہ پہلے سے زیا دہ قوت کیساتھ سچ بھی ثابت ہورہی ہیں ،اس الیکشن میں پہلی با رہو ا کہ ہما رے ہم سب کے پیا رے ادارے پاک فوج کیخلاف راولپنڈی ، سرگودھا مانسہرہ اور بہت سارے شہروں میں نعرے بھی لگے ،ایسا کیوں ہوا ؟ اب چونکہ الیکشن ہو چکا جیتنے والے جیت اور ہا رنے والے ہا ر چکے ہمیں اس کے اسباب بھی کھلے دل سے تلاش کرنا ہونگے.

سوشل میڈیا نے ادارو ں اور شخصیات کیخلاف جو نفرت کا زہر بھرا ہے اسکے اثرات ابھی ہم نے دیکھنے ہیں ،اسی نئے پاکستان میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیسے آزاد اراکین کو حکومت سازی کیلئے دس دس کروڑ میں خریدا جا رہاہے ؟ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کیسے ایک نئے ایم این اے کے ڈیرے پرجشن کیلئے اندھا دھند فا ئرنگ ہو تی ہے اور پھر جب وہا ں پولیس پہنچتی ہے تو ایس ایچ او سمیت کیسے انکو پھینٹی لگائی جا تی ہے ؟ میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو اب بہت سارے محاذوں پر لڑناہوگا ، میری دعا ہے کہ میرے نوجوانو ں کی امیدوں پر عمران خان پورا اتریں کیونکہ عمران خان نے قوم کی یوتھ میں تبدیلی کا جوتصور بٹھایا ہے اگر وہ اسکو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے تو سب کچھ داو پر لگ جا ئیگا۔

جیسا کہ میں ابتدا میں یہ لکھ چکا ہوں کہ حکومت سازی کا مرحلہ بہت کٹھن ہے ، عمران خان کو بہت سارے سخت اور تلخ فیصلے لینا ہو نگے ، جو ان کے ارد گرد ان کے لاڈلوںکیلئے بھا ری ہو سکتے ہیں ، اب وہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نہیں بلکہ ایک ایٹمی قوت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم بن رہے ہیں ، لہذا اب بہت سارے معمولات بدل جا ئینگے ، پروٹوکولزکا حصار بہت سارے پرانے دوستوں کو ان سے الگ کر دیگا ، یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دوست قربانیوں کا صلہ مانگنے یا ملنے کے منتظر ہوتے ہیں اور اگر ان کو وہ نہ ملے تو معاملہ بگڑ جا تا ہے ،ابھی عمران خان کو پاکستان مسلم لیگ ق کیساتھ پنجاب میں اتحاد اور کچھ لو دو کا مشکل مرحلہ بھی طے کرنا ہے ، حلیم خان ، چوہدری سرور ، جہا نگیر خان ترین ، اور شاہ محمود قریشی سمیت سب دوستوں کو راضی بھی رکھنا ہے اور پنجاب میں حکومت بھی بنانی ہے ، اقتدار کی بندر بانٹ کنٹرول اینڈ کما نڈ کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے ، دیکھتے ہیں عمران خان اپنی ٹیم کے ان کھلاڑیوں کو جو سب کے سب چیمپئین بھی ہیں کوکیسے اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں ؟ ایک فواہ یہ بھی ہے کہ خان کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اردگرد سے ایسے چہروں کو ہٹا دیں جن پر کل کلاں اپوزیشن تنقید کرسکتی ہے، اگر ایسا ہے تو پھر معاملات میں اور ٹینشن آسکتی ہے ۔

اسمیں کو ئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کو ہیرو سے زیرو بنانے کی کوششیں کا میاب ہو گئیں، مسلم لیگ ن نے بھی میاں نواز شریف اور مریم نواز کی جیل سے واپسی تک نرم رویہ اپنانے کا عندیہ دے رکھا ہے ،اسکے باوجود یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن آج بھی پنجاب کی بڑی جما عت ہے ، اسکو عوام سے دور کرنا یاعوامی رائے کا احترام نہ کرنا مستقبل قریب میں ملک کیلئے مشکلا ت کا با عث بن سکتا ہے ، جناب عمران خان نے کسی قسم کی انتقامی کا رروائی نہ کرنیکا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ، اب جبکہ عمران خان کو جیسے تیسے کرکے مینڈیٹ مل گیا ہے تو اسکا احترام بھی لازم ہے ، اللہ رب العزت نے کپتان کیلئے عز ت کا سامان کیا ہے تو سب کو اس عزت کا پاس رکھناہو گا ،اگر کہیں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ پڑا تو میرے ایک دوست الطاف بٹ کےمطابق “کیونکہ یہ مخلوق خدا کی رائے کا معاملہ تھا تو اگر اس میں ہیر اپھیری کی گئی تو اللہ خود اسکاحسا ب کتاب کر لے گا” ،اور میرے اللہ کا لیا گیا حساب بہت بھا ری اور تکلیف دہ ہوتا ہے ، اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن اپنی حریف پاکستان پیپلز پارٹی کیساتھ پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے بات چیت کررہی ہے ، اس وقت جو سب سے چھا فا رمولہ بن سکتا ہے وہ یہ ہے کہ مرکز میں ن لیگ اپوزیشن بلا ول بھٹو کو دے اور پنجاب میں حکومت لے لے لیکن یہ سب اسلئے بھی مفروضے ثابت ہو نگے کیونکہ بقول ایک دوست کہ الیکشن سے پہلے پی پی پی سے معاملات طے کر لئے گئے تھے لہذا آج بھی پی پی پی کا جھکا ئو ن لیگ کی طرف نہیں ہوگا لیکن کیونکہ سیاست میں حرف آخر کچھ بھی نہیں ہوتا اسلئے ممکن ہے پی پی اور ن لیگ مل بیٹھیں۔