Syed Zahid Hussain Naeemi

وقت ایک سا نہیں رہتا…!

’’جی جہاں وقت ایک سا نہیں رہتا‘‘۔ یہ اُس کہانی کا عنوان تھا جو میں نے تیسری جماعت کی اُردو میں پڑھی تھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک فقیر کسی امیرزادے، صاحب ثروت اور اعلیٰ شان شخص کے پاس ضرورت کی غرض سے حاضر ہوتا ہے، وہ اُسے دھکے دے کر باہر نکال دیتا ہے۔ اُس فقیر کی حالت بہتر ہو جاتی ہے، اب اُس کے پاس دولت کی ریل پیل ہے اور ایک دن اُس کے پاس ایک فقیر حاضر ہوتا ہے جسے دیکھ کر یہ شخص حیران و پریشان ہو جاتا ہے کہ یہ تو وہی شخص ہے جس کے پاس کچھ عرصہ پہلے دولت و ثروت، شہرت و عزت تھی، لیکن اُس کے تکبر و غرور کے باعث آج اس حال میں ہے اور اب وہ بھی فقیر و مسکینی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہ دنیا عبرت کی جگہ ہے جس نے عبرت حاصل کی کامیاب ہو گیا جس نے عبرت حاصل نہ کی وہ پچھتایا۔ یہاں بادشاہ فقیر ہوتے دیکھے، بلکہ تخت سے تختہ دار پر چڑھتے دیکھے گئے۔

میاں نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اُنہوں نے عبرت حاصل نہ کی۔ رضا شاہ پہلوی بادشاہ ایران، ظاہر شاہ بادشاہ افغانستان، دائود خان صدر افغانستان، صدام حسین صدر عراق، کرنل قذافی صدر لیبیا، مصر کے صدر حسینی مبارک اور کئی دیگر حکمرانوں کے ساتھ کیا ہوا؟ یہ تو سب کچھ میاں نوازشریف کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ پاکستان کے وزیراعظم ذوا لفقار علی بھٹو کے ساتھ کیا ہوا؟ یہ کیا میاں نوازشریف نے نہ دیکھا؟ بینظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ، یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کس طرح گئی اور خود میاں نوازشریف صاحب کا اپنا دورِاقتدار جب وہ وزارت عظمیٰ پر متمکن تھے، اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ لیکن وہ یہ سب کچھ بھول گئے۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ’’کہو وہ اللہ ہے ملک کا مالک جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے، وہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے، سب چیز اُس کے ہاتھ میں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ (القرآن)

اللہ تعالیٰ نے غوروفکر اور عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی ہے، لیکن انسان ہے جو نہ غور و فکر کرتا ہے اور نہ عبرت حاصل کرتا ہے۔ میاں نوازشریف سے بھی ایسا ہوا وہ اپنے بیانیے میں کہتے رہے کہ مجھے ’’خدائی مخلوق نے نکالا‘‘ اور ’’مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نکالا‘‘۔ وہ یہ بھول گئے کہ اقتدار سے محروم کرنا صرف اللہ کی ذات کے اختیار میں ہے، نہ کوئی خلائی مخلوق اور نہ کوئی اور پھر ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔ یہ کس کو چیلنج ہے؟ کیا کبھی اس جملے پر غور کیا؟

میں نے اپنے ایک پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ میاں نوازشریف اللہ کے عتاب کا شکار ہوئے ہیں۔ عزت، شہرت، اقتدار سب جاتا رہا، میرے خیال میں اس کی کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ وہ جماعت ہے جو پاکستان کی بانی جماعت ہے۔ اس جماعت نے اس ملک کو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا تھا۔ دو قومی نظریہ کا سیدھا اور سادھا مطلب اسلام کی بنیاد پر اس ملک کی تعمیر کرنا تھی، لیکن اقتدار ملنے کے بعد مسلم لیگ کی قیادت نے بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اس ملک کو سیکولر بنانے کی کوش کی۔ دو قومی نظریہ کو بھولا دیا اور اسلام کا دور دور تک کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا۔ نہ ایوانوں میں، نہ حکمرانوں میں، ملک میں پہلی بار ڈاکٹر طاہر القادری نے آئین کی تشریح کی اور قوم کو امین و صادق کی اصطلاح سے متعارف کرایا۔ آئین کی دفعہ 62، 63کا عوام و خواص کو علم ہوا۔

میاں نوازشریف نے اعلان کیا کہ ہم کثرت رائے سے ان دفعات کو تبدیل کریں گے۔ یعنی پاکستان کے آئین کی شقوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر کوئی لوچا لفنگا پاکستان کا حکمران بن سکے گا۔ اس لئے اُنہیں یہ موقع ہی نہ ملا وہ ایسا کر سکیں۔ اُنہوں نے توہین رسالت قانون میں ترمیم اور ختم نبوت کے سلسلہ میں تبدیلی کا ارتکاب بھی کیا۔ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ خود پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں سلمان تاثیر ممتاز قادری کے ہاتھوں قتل ہوا۔ پیپلز پارٹی نے نہایت چالاکی سے یہ مقدمہ مسلم لیگ کے کھاتے میں ڈال دیااور میاں صاحب کے دوراِ اقتدار میں اُسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہ وہی مسلم لیگ تھی جس نے غازی علم الدین کا مقدمہ لڑا تھا۔

علامہ اقبال اور قائداعظم نے غازی علم الدین کا مقدمہ لڑا تھا۔ یہ الگ بحث ہے کہ ممتازقادری کا فعل درست تھا یا غلط، مگر جو لوگ ممتاز قادری کے لئے سڑکوں پر نکلے تھے، اُن کا موقف یہ ہے کہ یہ فیصلہ بھی امریکا اور یورپ کی ایماء پر کیا گیا۔ انہی عدالتوں نے توہین رسالت مقدمہ میں آسیہ عیسائی خاتون کو موت کی سزا سنائی تھی۔ اس طرح چند ایک اور عیسائیوں کو توہین رسالت میں سزا ہو چکی تھی۔ انہیں راتوں رات امریکا پہنچایا گیا۔ عملدرآمد ہوا تو صرف ممتاز قادری کی سزا پر اور یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے ممتازقادری کو سزائے موت دی۔ تو میاں نوازشریف خاموش رہے اور انہی عدالتوں نے میاں نوازشریف کو سزا سنائی تو پکار اٹھے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔

خیر بات لمبی ہو گئی، بتانا یہ تھا کہ ’’وقت ایک سا نہیں رہتا‘‘ میاں نوازشریف کل تک حکمران تھے، آج اڈیالہ جیل میں ہیں۔ اُنہوں نے یہ بیانات دئیے ہیں۔ ’’جیل میں سہولیات نہیں ہیں، اے سی نہیں ہے، آرام کرنے کا انتظام نہیں ہے، جیل حکام کا روّیہ اچھا نہیں ہے، باسا کھانا دیا جاتا ہے‘‘، بلکہ اخبارات میں باسا کھانا، قیمہ بھی دکھایا گیا، نوازشریف نے اعلان کیا کہ ’’یہاں جتنے بے بس، مجبور قیدی ہیں ان پر عائد جرمانے کی رقم وہ ادا کریں گے تاکہ اُن کی سزا میں تخفیف ہو۔ اُن کو سہولیات مہیا کریں گے‘‘۔ مریم نواز بھی جس کرب کی زندگی جیل میں گزار رہی ہیں، میڈیا پر اس کی تفصیل آ چکی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو انہیں کیوں غریب غربا نظر نہیں آتے، جن کو باسی روٹی بھی میسر نہیں وہ کیوں یاد نہیں آتے، جو فٹ پاتھ پر رات گزارتے ہیں، وہ کیوں یاد نہیں آتے، جن کے پیارے پولیس گردی میں مارے جاتے ہیں وہ کیوں یاد نہیں آتے، جو ہسپتالوں کے باہر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں وہ کیوں نہیں آتے، جو کچرے میں اپنی روزی تلاش کرتے ہیں۔ جن کے ووٹوں سے یہ اقتداروں کے ایوانوں میں جاتے ہیں، اقتدار کے بعد انہی کے لئے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن خدا کی قدرت ایوان اقتدار سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی جانا پڑتا ہے۔ گرمی کے باعث جیل میں بے ہوشی کے دورے بھی پڑتے ہیں۔ مچھر بھی کاٹتے ہیں۔ پنکھے کی ہوا بھی نہیں ملتی۔ باسی کھانا بھی ملتا ہے، بلکہ بعض دفعہ یہ بھی نہیں ملتا۔ چکی بھی پسنی پڑتی ہے۔ فرش پر لیٹنا بھی پڑتا ہے۔ اس لئے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا۔ یہ داستان عبرت ہے، اُن لوگوں کے لئے جو ملک خداداد پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کے بجائے ایک سیکولر ریاست بنانا چاہتے ہیں، اُن کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ کاش کے حکمران مذکورہ عنوان پر غور کرتے۔