ایک پٹواری…!

فیلڈ مارشل ایوب خان کو چکوال کے نواحی قصبے خان پور کی شکارگاہ بڑی پسند تھی۔ جونہی صدر صاحب کے شکار کا بگل بجتاڈپٹی کمشنر جہلم نوابزادہ یعقوب خان ہوتی محکمہ مال چکوال کو انتظامات کا حکم صادر کرتے ۔ چکوال کے پٹواری اور تحصیلدار اس مملکت خدادا کی اعلیٰ ترین روایات کے عین مطابق اپنے سرکاری فرائض چھوڑ کر وی وی آئی پی شکار اور (ذاتی خرچے پر) کھانے کے انتظامات میں جت جاتے۔ کیونکہ ماضی ہو یا حال یہی وطن عزیز کے آئین اور قانون کا اصل چہرہ بھی ہے اور سرکاری ملازمین کی نوکریوں کی ضمانت بھی۔

صدر ایوب خان اپنے رفقاء کے لشکر کے جلو میں صبح سویرے پہنچتے، ریسٹ ہائوس میں ناشتہ کرتے ، دن بھر شکار سے لطف اندوز ہوتے ، کھانا تناول فرماتے اور واپس چلے جاتے۔ ۔ چوہدری شاہ نواز خان اس وقت موضوع خان پور میں پٹواری تعینات تھے۔ یہ 1963ء کی بات ہے جب صدر ایوب خان کو اس ملک سے کرپشن کے خاتمے کا شوق پیدا ہوا ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک انسپکشن ٹیم تشکیل دی جس میں اعلیٰ فوجی و سول آفیسران شامل تھے۔ اس ٹیم کے ساتھ چند غیر ملکی صحافی بھی ہوتے تھے۔ یہ لوگ سرکاری دفتروں میں گھس جاتے اور اپنی چھڑیاں میزوں پر مار مار کر افسروں اور اہلکاروں سے سخت باز پرس کرتے ۔

اس انسپکشن ٹیم نے ملک کے طول و عرض میں کھلی کچہریاں منعقد کیں، لوگوں کی شکایات سنیں، بد عنوانیوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کے علاہ سرکاری افسروں کی تذلیل بھی کی۔کرنا خد ا کا یہ ہوا کہ اسی صدارتی شکارگاہ موضوع خان پور میں اسی کرپشن دشمن ٹیم نے کھلی کچہری کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ مقامی انتظامیہ کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ حسب روایت پٹواریوں نے مروجہ طریقہ سے ٹیم کے کھانے پینے وغیرہ کا بندوبست کیا۔ کھلی کچہری نے جلسہ عام کی شکل اختیار کر لی۔ پولیس ، محکمہ مال اور دیگر سرکاری اداروں کے خلاف لوگوں نے شکایات کے انبار لگا دے۔ یہ کچہری بخیرو عافیت علاقے کو کرپشن سے پاک کرکے اختتام پذیر ہو جاتی اگر آخر میں غلام رسول نامی ایک شخص اپنی شکایت نہ کرتا۔

اس نے مطالبہ کیا کہ گائوں کے واحد قبرستان کی جگہ اب ناکافی ہو چکی ہے لہٰذا گائوں میں ہندوئوں کی جو متروکی پراپرٹی موجود ہے اس کو قبرستان کے لیے وقف کیا جائے۔ اس نے مزید کہا کہ مذکورہ پراپرٹی کے بارے میں پٹواری حلقہ صحیح نہیں بتائے گا اس لیے اس کو زرا’’ رگڑا‘‘ دے کر پوچھیں۔ حلقہ پٹواری شاہ نواز خان کھڑے ہوئے۔۔ٹیم کے انچارج بریگیڈئیر مفظر نے پہلے پٹواریوں کی شان میں چند قصیدے پڑھے ، انہیں چور اور رشوت خور قرارد یتے ہوئے پٹواری شاہ نواز کو حکم دیا کہ وہ غلام رسول کی بات کا جواب دے۔ پٹواری نے عرض کیا کہ یہ زمین صوبائی حکومت کے فلاں حکم کے تحت فلاں مہاجر کو الاٹ ہو چکی ہے۔ پھر ٹیم سے استفسار کیا کہ اب مجھے بتایا جائے کہ مجھے رگڑا کیوں دیا جائے گا۔

اس بات پر بریگیڈئیر مظفر اور سرکل پٹواری کے درمیان تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ بریگیڈئیر صاحب نے حکم دیا بیٹھ جائو، پٹواری صاحب نے کہا نہیں بیٹھتا۔ بریگیڈئیر صاحب نے پوچھا کیا کرو گے انہوں نے جواب دیا شکایت کروں گا۔ آپ بد عنوانی کے خلاف میری ایک شکایت نوٹ کریں۔ بریگیڈئیر مظفر نے پوچھا ! تم نے کس کے خلاف شکایت کرنی ہے ؟ پٹواری سرکل نے کہا صدر ایوب خان کے خلاف۔۔۔محفل میں سناٹا چھا گیا۔ بریگیڈئیر مظفر نے پوچھا کہ صدر صاحب کرپٹ ہیں۔ پٹواری نے کہا جی ہاں وہ بد عنوان ہیں وہ بل نہیں دیتے۔ وہ اب تک بارہ مرتبہ اس علاقے میں شکار کے لیے آئے ۔ ایک دفعہ ان کو کھانا علاقے کے ایک زمین دار نے دیا اور بقول ان کے آٹھ ہزار روپے(اس زمانے میں ) صرف کھانے پر خرچ آیا۔ مجھے بتایا جائے باقی گیار بار آٹھ ہزار آٹھ سو روپے کہاں سے آئے۔ کیا صدر ایوب ساتھ لائے تھے یا پھر کسی سرکاری ادارے نے دیے تھے۔ اگر آپ کو معلوم نہیں تو میں بتاتا ہوں کہ کہ کھانے کے یہ پیسے اور دیگر اخراجات ان بدعنوان پٹواریوں نے برداشت کیے تھے۔

شاہ نواز پٹواری نے کہا آپ کب سے رشوت رشوت کی رٹ لگا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں صاف بات یہ ہے کہ پٹواری چھوٹے چور ہیں اور آپ بڑے چور ہیں۔ ہمیں یہ اخراجات کرنے کا حکم اوپر سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا سو سنار کی ایک لوہار کی کے مصداق پٹواری تھوڑی تھوڑی رشوت اکھٹی کرتے ہیں اور صدر صاحب ایک ہی جست میں آکر ساری چٹ کر جاتے ہیں۔ لوگ جو پہلے ہی حکومت کے خلاف بھرے بیٹھے تھے انہیں ان باتوں سے حوصلہ ہوا اور انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیے ۔ایس پی جہلم نے اپنی فورس کے ہمرا ہ آگے بڑھ کر پٹواری چوہدری شاہ نواز خا ن کو قابو کر لیا مگر بریگیڈئیر صاحب نے حکم دیا کہ اسے سٹیج پر آنے دیا جائے۔ سٹیج پر انہوں نے پٹواری سے کہا کہ یا تو تم پاگل ہویا تمھارے گھر دانے زیادہ ہیں۔پٹواری نے جواب دیا کہ دونوں باتیں غلط ہیں اور نہ ہی میں پاگل ہوں اور نہ ہی میں امیر آدمی ہوں۔

آپ کب سے کرپشن پر لعنتیں بھیج رہے ہیں بس اسی بارے یہ ایک سچ بات تھی جو میں نے کہہ دی۔ المختصر کھلی کچہری نہایت بدمزگی کے عالم میں اختتام پذیر ہوئی اور انسپکشن ٹیم بغیر کچھ کھائے پیے چلی گئی کیونکہ وہ بد عنوانی کا قلع قمع کرنے آئے تھے آئینہ دیکھنے نہیں۔ صدر ایوب خان اس واقعے کے بعد مزید دو دفعہ چکوال شکارکھیلنے گئے مگر اس طرح کے پٹواریوں سے خرچہ تو نہ لیا گیاالبتہ گورنر امیر محمد خان کا حکم آ گیا کہ خبردار کوئی پٹواری خان پور شکار گاہ کی طرف نہ جاپائے۔ ماضی کا یہ قصہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ماضی ہو یا حال۔

اربابِ اختیار و اقتدار کی رشوت اور بد عنوانی کے خلاف کھوکھلی بڑھکوں کی حثیت محض لطیفوں سے زیادہ نہیں۔ کل بھی ان کا یہی وطیرہ تھا اور آج بھی ان کا چال چلن یہی ہے ۔ پٹواری ہی ان کے جلسوں کے لیے لوگوں اور شکاروں کا انتظام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ پٹواریوں کا مال کھاتے ہیں اور پھر ڈھٹائی سے رشوت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کرتے ہیں ۔ ملک کو بیچ کر کھا جائیں گے تو ڈکار نہیں مارتے اور کرپشن ختم کرنے پر آتے ہیں تو کلرکوں اور پٹواریوں کی۔۔۔کلرک کی رشوت والا پانچ سو کا نوٹ اینٹی کرپشن کا انسپکٹر بڑی آسانی سے پکڑ لیتا ہے مگر ان کو ثبوت نہیں ملتا تو چینی بلیک کرنے والوں کا، سراغ نہیں ملتا تو آٹا سمگل کرنے والوں کا ، ثابت نہیں ہوتے تو موٹر وے کا کمیشن اور منی لانڈرنگ کے کیس۔۔۔یہ سوئس بینکس، سرے محل،کوآپریٹو سکینڈل اور قرضے معاف کروانے والوں سے بھی بے خبر ہیں۔ یہ کمیشن مافیا کے سامنے بھی بے بس ہیں اورجعلی ادویات بنانے والوں کے آگے بھی لاچار۔۔۔یہ ٹارگٹ کلرز کے سرپرستوں سے بھی لا علم ہیں اور این آر او کی کمین گاہیں بھی ان کی نظروں سے اوجھل ، یہ نچلی سطح کی کرپشن مسخروں کی طرح اچھل اچھل کر ختم کرنے کی بڑھکیں مارتے ہیں لیکن انہیں کچھ خبر نہیں کہ جہاد افغانستان کے ڈالر اور آئی جے آئی بنوانے کے کروڑوں کہاں غائب ہوئے۔۔۔رینٹل پاور اور سٹیل ملز جیسے سکینڈلز کی رقوم کس نے ہضم کیں۔۔۔سوچیے گا ضرور!