طلبہ یونین

آئینِ پاکستان کی شق نمبر17اے ہر شہری کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنی کوئی تنظیم یا یونین بنائےمگروہ ملکی مفاد کے منافی نہ ہو. طلبہ یونین کاکردارملکی سیاست میں بہت اہم رہا ہےاورحقیقی قیادت فراہم کرنے میں طلبہ یونین نے ایک نرسری کا کردارادا کیا اور ملکی سیاست کو درخشاں ستارے دئیے.80 کی دہائی میں ضیاء کے آمرانہ اقدامات سے پورا ملک بدظن تھا.

ایسےمیں طلبہ یونین اپنا کردارادا کررہی تھی مگرضیاء کوطلبہ یونین ایک آنکھ نہ بھاتی تھی جامعہ پنجاب میں دوشرپسند گروہوں میں تصادم ہوا اوراس تصادم کی آڑمیں ضیاء نےآمرانہ فیصلہ صادرکردیا اورپنجاب میں مارشل لا آرڈینس 1371 اور سندھ میں مارشل لا آرڈینس227 کے تحت طلبہ یونین پر پابندی عائد ہو گئی.صدارتی فرمان کی مدت 120دن ہوتی ہے اوراگر120دن میں یہ فرمان اسمبلی میں پیش کرکےقانون نہ بنوایا جائے تو یہ اپنی وقت کھودیتا ہےاورغیرفعال ہوتا ہے.ایسا ہی ان صدارتی فرمانوں کےساتھ ہوااوریہ غیرفعال ہوگئےمگرکسی نےبھی اس آمرانہ دورمیں دوبارہ طلبہ یونین کےانتخابات کابیڑانہ اٹھایا.

ضیاء دور کے خاتمے کے بعد جب محترمہ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آئیں تو انھوں نے بھی اعلان کیا کہ میں طلبہ یونین کو بحال کروں گی مگر موروثی سیاست اور بیوروکریسی کے آگے ان کی ایک نہ چلی اور وہ بھی بحال کرنے میں ناکام رہیں. ایک دلچسپ صورتحال یہ تھی کی ضیاء کے یہ فرمان صرف پنجاب اور سندھ کے لئے تھے مگر بلوچستان, خیبر پختون خواہ, گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں نافذ کر دئیے اور آج تک بحال نہ ہو سکیں.1993 میں عدالتِ عظمٰی نے فیصلہ نمبر1781 میں حکم دیا کہ فوراً طلبہ یونین بحال کی جائے اور تمام تعلیمی اداروں میں انتخابات کروائے جائیں مگر تا حال حکومتیں توہینِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہیں.

ایک اور آمرانہ دور کے اختتام پر جمہوری وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پہلے خطاب میں ہی اس بات کا اعلان کیا کہ ہم طلبہ یونین بحال کریں گے مگر ان کا یہ اعلان بھی محض اعلان ہی رہا. 23 اگست 2017 کو پاکستان کہ ایوان بالا (سینٹ) نے قرار داد نمبر 337 میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کے 1993 کے فیصلے کے تناظر میں ہم طلبہ یونین کو بحال کریں گے اور تمام تعلیمی اداروں میں انتخابات کے لئے ضروری اقدامات بھی کریں گے مگر ستم بالائے ستم کے یہ قرارداد مسلم لیگ(ن)کےچیرمین راجہ ظفرالحق نے پیش کی اور ان کی جماعت کو اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی مگر وہ بھی اسے اسمبلی میں پیش نہ کروا سکے یہاں تک کہ حکومت نے اپنی مدت پوری کر لی.

2008 میں متوقع وزیراعظم پاکستان اورچیرمین تحریکِ انصاف عمران خان کےساتھ جامعہ پنجاب میں ناخوشگوارواقع پیش آیا. اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نےعمران خان اوران کے ساتھیوں کوزدوکوب کیا. اس واقع کے بعد عمران خان نے انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام کی منظوری دی اورانصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کومنشوردیا کہ ہماری حکومت آئے گی تو ہم طلبہ یونین بحال کریں گے. دس سال کےبعداب جب کہ تحریکِ انصاف کی حکومت بننےجارہی ہےتویہ امید کی جاسکتی ہےکہ عمران خان قیادت کی اس حقیقی نرسری کوبحال کریں گے.
خرد کوغلامی سےآزاد کر
جوانوں کوپیروں کااستاد کر