عمران خان….100 دن

عمران نے پاکستانی قوم کو شعور دیا ،بیدار کر دیا،اپنے حقوق کی سمجھ آگئی۔اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ دھاندلی ہو گئی،اگر ساری اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو جائیں تو اپنا وزیر اعظم اور حکومت بنا سکتی ہیں۔PTI کی مخالف تمام جماعتوں کے ووٹ PTI کے حاصل کردہ ووٹوں سے زائد ہیں۔اگر ووٹوں کی بڑی تعداد ضائع ہوئی تو سوشل میڈیا پر مہم بہت چلی جو کہ PMLN اور PTI کی تھی۔یعنی PTI والے کہتے تھے کہ شیر کے نشان پر مہر لگائیں اور ’’بلا‘‘ پر کراس لگائیں،اپنی نفرت کا اظہار کریں(جس سے ووٹ ضائع ہوئے)۔

اس طرح PMLN والے کہتے کہ ’’بلا‘‘ پر مہر لگائیں اور ’’شیر‘‘ جو کہ PMLN کا نشان تھا اس پر کراس لگائیں ،اس لئے ان دونوں جماعتوں کے ووٹ مسترد ہوئے۔اس پر تو الیکشن کمیشن ضرور تحقیقات کرائے کہ ووٹ مسترد کیوں اور کس پارٹی کے ہوئے۔ویسے غیر جانبدارانہ تجزئیے کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں 1970 کے بعد انتہائی منصفانہ اور پر امن الیکشن ہوئے۔

ایک عام رائے عوام میں بہت مقبول ہوئی تھی کہ PPP اپنے پانچ سال لگا چکی اور PMLN بھی اور اب PTI کی باری ہے۔اپنی کارکردگی پر سندھ میں PPP ،پنجاب میں PMLN اور KPK میں PTI کامیاب ہوئی۔حکومت سازی کے عمل میں PMLN کی اصل قیادت جس کا حقیقی ووٹ بنک ہے وہ اڈیالہ جیل کے اندر ہیں۔ان کی بالکل خواہش نہیں تھی کہ PMLN پنجاب میں حکومت بنائے۔عمران خان نے قوم کو خوشخبری دی تھی کہ کامیابی کی صورت میں پہلے 100 دنوں کا ایکشن پلان ہے،70 سالوں سے محروم اور مایوس قوم کو ’’نوید صبح‘‘ہو گی اور ’’نیا پاکستان ‘‘ بنے گا،جو کہ ایک پاکستان سب کے لئے برابر ہو گا،حقوق برابری پر ملیں گے۔اس لئے PTI اور عمران خان کی خواہش تھی کہ 14 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کا حلف لیں اور اپنے خطاب میں کہیں کہ آج نیا پاکستان بن گیا،جس کا خواب حضرت علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب نے بھی فرمایا کہ لیاقت علی خان کے بعد پاکستان میں کرپشن کا راج ہے،کیا دور بدلے گا؟ انصاف ملے گا؟ امن ہو گا؟،تعلیم ،صحت اور روزگار ملے گا؟،پاکستان اور اس کی قوم کو لوٹنے والوں کا یوم حساب ہوگا؟۔1970 کے الیکشن میں PPP کامیاب ہوئی،مغربی پاکستان موجودہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کا شعور بیدار کیا اور کہا کہ میں بھٹو ہوں تو آپ بھی بھٹو ہیں۔غریب کا بھٹو،ہاری کا بھٹو،مزدور کا بھٹو۔اپنا انقلابی منشور روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا ،حکومت ملتے ہی ہر جیالا حکمران بن گیا،ایک نیا کلچر پروان چڑھ گیا،مگر غریب تر اور امیر تر ہو گیا۔پھر نذر کیانی،خورشیدمیر،جے اے رحیم،معراج خالد اور معراج محمد خان کی جگہ نواب صادق،رہسانی نواب،جاگیر،وڈیرےPPP کے حکمران بن گئے۔مصظفیٰ کھر جیسا خاندانی جاگیردار پنجاب کا حاکم اعلیٰ بن گیا۔آج PTI نے جو شعور دیا اور پھر میڈیا بہت متحرک ہے،سوشل میڈیا بہتActive ہے۔

صرف یہ اعلان کرنا کہ صدر ہائوس،وزیراعظم ہائوس،گورنرہائوس اور وزیر اعلیٰ ہائوس میں عوامی فلاح کے کام ،کالج،یونیورسٹی اور ہسپتال بنانے سے عوام کی اشک سوئی نہ ہوگی۔ماضی میں ایسے ڈرامے حکمرانوں نے کیے تھے۔صدر جنرل ضیاء الحق نے سادگی کی مثال قائم کرنے کے لئے سائیکل چلائی مگر اس ڈرامے پر قوم کے لاکھوں روپے لگے۔’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘بھی تھا،اگر سرکاری رہائش گاہیں ہی ذریعہ آمدن ہے تو صرف ایک پنجاب کے کمشنر ہائوس ،ڈی سی ،آئی جی اور ایس پی ہائوس صرف 100 ارب کی مالیت کے ہیں،ایسا کام کریں کہ عوام ریلیف محسوس کریں۔

بجلی،پٹرول اور گیس یقینا سستا ہونا چاہئے،غیر ضروری ٹیکس ختم کریں۔عمران خان صاحب نے کہا کہ حکومت 4 ہزار ارب کےTax جمع نہیں کر سکتی ،میں 8 ہزار ارب کے Taxجمع کروں گا۔’’بسم اللہ کریں‘‘قوم سے حاصل کریں مگر جواب میں ’’قوم‘‘ کو کیا دیں گے؟۔جناب والا قوم کو صرف عزت نفس چاہئے،70 سالوں سے پاکستان کو ٹیکس دینے والوں کو کیا ملا؟۔ساری دنیا میں ٹیکس دینے والوں کو عزت اور وقار ملتا ہے ،معاشرے میں عزت ملتی ہے۔

آج پاکستان میں Tax ادا کرنے والے کا کیا مقام ہے؟،کیوں پاکستانی قوم 8 ہزار ارب سالانہ ٹیکس دے۔جناب والا ’’کفر کا نظام چل سکتا ہے،ظلم کا نہیں‘‘حضرت علیؓ کا قول ہے۔FBR کی تشکیل نو کریں،ایک طرف تو کہتے ہیں کہ 2 لاکھ سالانہ آمدن پر زیرو ٹیکس ہے۔دوسری جانب ایک مزدور 14 ہزار ماہوار کم از کم اجرت لیتا ہے وہ موبائل فون،بجلی،گیس پر ٹیکس دیتا ہے۔مارکیٹ سے ہر ضرورت کی اشیاء پر سیلز ٹیکس / ایکسائز ادا کرتا ہے۔یہ کون سا انصاف ہے؟۔

عمران خان صاحب وزیراعظم بن کر صرف ڈائیریکٹیوجاری کریں۔کسی ترامیم قانون سازی کی ضرورت نہیں ۔FBR ٹیکس ادا کرنے والوں کو ایک Tax Card جاری کرے گا جو کہ تمام ادارے ایسے Tax Card کے حامل شخص کے ساتھ عزت اور وقار سے پیش آئیں گے۔10 ہزار سالانہ Tax ادا کرنے والے کو کم از کم کونسلر جتنے اختیارات ہوں۔ایک لاکھ روپے سالانہ ٹیکس دینے والوں کو کم از کم چیئر مین یونین کونسل جتنے ہوں۔10 لاکھ سالانہ ٹیکس دینے والوں کو MPA کے برابر عزت اور پروٹوکول ملے۔50 لاکھ سالانہ ٹیکس دینے والے کوMNA اور 1 کروڑ والوں کو Minster جتنا پروٹوکول دیا جائے۔ایک ارب روپے سالانہ ٹیکس دینے والوں کو چیف منسٹر جتنا اور 50 ارب سے زائد ٹیکس دینے والوں کو صدر اور وزیر اعظم جتنی عزت اور وقار ملے پاکستان میں ان کو رول ماڈل بنایا جائے۔بڑے شہروں کو ان کے نام دیے جائیں،ان کے مجسمے بنائے جائیں۔اگر ووٹ کو عزت مل سکتی ہے توTax Payer کو عزت دیں۔صرف 1 سال میں 8 ارب جمع ہو جائیں گے.