Syed Zahid Hussain Naeemi
اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

قیامِ پاکستان….پس منظروپیش منظر

اب جب 14 اگست 2018ء یومِ پاکستان کے طور پر منایا جا رہا ہے، تو پاکستان کی عمر 71 سال ہو چکی ہے۔ یعنی وہ خواتین و حضرات جنہوں نے 1947ء میں آنکھ کھولی وہ بھی 71 سال کے ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قیامِ پاکستان کے پیس منظور اور پیش منظر کو نظرانداز کر دیا گیا اور پھر بھولا دیا گیا۔ 71 سال کی عمر پانے والے خواتین و حضرات بھی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے دلخراش و دلدوز واقعات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ ہاں نئی نسل نے انپے بزرگوں کی زبانی پاکستان کی کہانی ضرور سنی ہو گی۔ وہ خواتین و حضرات بھی موجود ہیں، جنہوں نے دلخراش و کرب و مصائب کی گھڑیاں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں، جن کی آنکھوں کے سامنے اُن کے پیاروں کو ابدی نیند سلا دیا گیا تھا۔ وہ کبھی کبھی اُس منظر کو خواب میں دیکھتے ہیں تو بڑبڑا کر اٹھ جاتے ہیں۔ ایسی کئی داستانیں اُنہوں نے اپنے دل میں چھپا رکھی ہیں، جو کبھی کبھی اخبارات کے ذریعے قارئین تک پہنچ پاتی ہیں۔ لیکن وہ نوجوان نسل جو 30 سال یا 40 سال کم و پیش اوپر نیچے عمر کی ہے، اُسے کیا خبر کے ان کے بزرگوں نے کس مشکل سے پاکستان کو حاصل کیا؟

پاکستان صرف ایک رات میں نہیں بنا اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے۔ آج جب پاکستان کے حالات دیکھے جاتے ہیں تو اکثر لوگوں کو کہتے سنا جاتا ہے کہ ابوالکلام آزاد کا فلسفہ وحدت ہندوستان بالکل درست تھا۔ کچھ لوگوں کو کہتے سنا گیا بلکہ بعض نے لکھا بھی ہے کہ پاکستان سے زیادہ تو مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ جتنے منہ اُتنی باتیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیامِ پاکستان کی ضرورت مسلمانانِ برصغیر کو کیوں پیش آئی؟ کیا حصول پاکستان کے لئے کوشش کرنے والے اکابرین اقتدار کے بھوکے تھے؟ یا پھر ان کو کسی دولت و شہرت کی ضرورت تھی؟ ایسا تو ہرگز نہ تھا۔ یہ سب کچھ تو اُنہیں پہلے بھی حاصل تھا۔ پھر علماء و مشائخ کی ایک بڑی جماعت نے یہ کیوں کہا کہ اگر قائداعظم بھی حصولِ پاکستان سے الگ ہو جائیں تو ہم ضرور پاکستان حاصل کرکے رہیں گے۔ جیسا کہ امیر ملت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری نے فرمایا تھا۔ اس جملے کا بھی ایک پس منظر ہے۔ اُنہوں نے اپنی بصیرت اور نگاہ ولایت سے دیکھ لیا تھا کہ پاکستان کا قیام مسلمانانِ برصغیر کا مقدر بن چکا ہے اور اس ریاست کے قیام کے لئے تائید الٰہی حاصل ہے۔

یہ ریاست بن کر رہی گی۔ اس لئے اس کے قیام کے لئے ہر طرح کی قربانی دینی ہو گی، لیکن یہ ریاست کیوں ضروری ہے؟ ہندوستان کی غالب اکثریت دیوی دیوتائوں کی پوجاری ہے، وہ ہندو ہوں یا سکھ۔ وہ پارسی ہوں یا مجوسی، وہ بدھ ہوں یا پھر عیسائی یا کوئی اور یہ کبھی ایک نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ایک رہ سکتے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر میں بلاامتیاز مسلم و غیرمسلم رعایا کی خدمت کی۔ مسلمانوں سے بھی زیادہ غیرمسلموں کو مراعات دی گئیں۔ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ مغلیہ حکمرانوں کے رعایا کے ساتھ انصاف کرنا ہر ایک کی زبان پر تھا۔ شہنشاہ جہانگیر کا انصاف تو مشہور تھا کہ اُس نے اپنے محل کے باہر زنجیر لٹکا رکھی تھی ،کوئی بھی کسی بھی وقت وہ زنجیر ہلاکر اپنی فریاد بادشاہ کو کر سکتا۔

شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کا انصاف بھی مشہور ہے۔ جس کا اعتراف غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔ اکبر بادشاہ نے رواداری کی تمام حدود کو پھلانگ دیا تھا کہ جب اُس نے دین اکبری یا دین الٰہی کی بنیاد رکھی، اس کے باوجود ہندوئوں کی نفرت میں کمی نہ آئی۔ وہ مسلسل مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں برابر کے شریک رہے اور مغلیہ حکمرانوں کی سلطنت کے خاتمہ کے لئے بیرونی قوتوں فرانسیسیوں اور انگریزوں کا ساتھ دیا۔ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی مسلمان کو ہندو برداشت نہ کر سکے۔ حکمرانوں کی رواداری اور بھائی چارے کی کوششوں کے باوجود مسلم اور غیرمسلم ایک نہ ہو سکے۔ اس لئے کہ یہ صرف دو قویں نہ تھیں بلکہ دو نظریات تھے۔ ان دو نظریات کی بنیاد اُس وقت پڑی تھی جب شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یوں ایک جماعت رحمانی اور دوسری جماعت شیطانی کہلائی۔ اب رہتی دنیا تک ان کا ٹکرائو رہے گا۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں نمرود ہو یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں فرعون۔ حضرت محمدﷺ کے مقابلے میں عتبہ، شیبہ، ابوجہل ہوں یا پھر امام حسینؓ کے مقابلہ میں یزید۔ وہ معرکہ حق و باطل بدر، حنین ہوں یا پھر معرکہ کربلا، حق باطل کے یہی ترجمان ہیں، جو رحمانی اور شیطانی جماعت کی ترجمان کرتے رہیں گے۔

برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی شمع کے فیروزاں ہونے سے یہاں کے بت پرستوں کا ایک اللہ کے آگے جھکنا اس رحمانی جماعت کی فتح تھی جو صوفیاء کی صورت میں برصغیر میں تشریف لائے تھے۔ پہلے غیرمسلم کے مسلمان ہونے سے ہی پاکستان کی بنیاد پڑ گئی تھی۔ جیسا کہ خود قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے بھی کہا تھا۔ اس لئے نظریہ پاکستان دراصل نظریہ اسلام ہے، جس کو حضرت مجدد الف ثانی نے دین الٰہی کا رد کرکے اُجاگر کیا تھا۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔ آج تک یہ نعرہ زبان خاص و عام ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ 28 لاکھ مسلمانوں کو صرف اس لئے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا کہ وہ یہی نعرہ لاالہ الا اللہ کو بلند کر رہے تھے۔ مسلمان بیٹوں کی سکھ اور ہندوئوں نے عصمت دری کرکے اُن کو قتل کر دیا۔ ان کی چھاتیاں کاٹ ڈالیں۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دئیے گئے۔ باپ کے سامنے بیٹی کی، بھائی کے سامنے بہن کی، شوہر کے سامنے بیوی کی عزت تار تار کر دی گئی۔ مسلمان خواتین نے دریائوں اور نہروں میں چھلانگیں لگاکر اپنی عزتیں بچائیں اور جانیں دیں۔ سینکڑوں کو ہندوئوں اور سکھوں نے اپنی بیویاں بنا لیا۔ مسلمان مردوں کو گاجرمولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔ لٹے کٹے قافلے پاکستان پہنچے۔ ہزاروں قربانیوں کے بعد پاکستان کی سرزمین آزاد اسلامی ریاست مسلمانانِ برصغیر کو ملی۔ وہ اس کرب سے گزرنے کے بعد بھی خوش تھے کہ اُن کی آئندہ نسلیں آزادی کی سانس لیں گی۔ وہ اسلام کے سائے میں زندگیاں گزاریں گے۔

افسوس صد افسوس ہر سال 14 اگست بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، لیکن یہ ملک کیوں بنایا گیا، یہ سب کو معلوم ہے، لیکن اُس نظریہ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کیا یہ آزادی ہے کہ انڈیا کے گانوں پر رقص کیا جائے؟ کیا یہ آزادی ہے کہ پاکستانی پرچم کے کپڑے بنا کر شرم و حیا کو تار تار کیا جائے؟ پاکستانی پرچم کے کپڑے پہن کر قوم کی راہ چلتی بہو، بیٹیوں کی کی عزت سے کھیلا جائے۔ کیا یہ آزادی ہے کہ ہمارے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل یومِ پاکستان کے نام پر فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو فروغ دیں۔ شامِ آزادی کے نام پر حکمرانوں سمیت شراب و رقص کی محافل کو پاکستانی ثقافت قرار دیں۔

افسوس صد افسوس کہ ہم نے پاکستان کے پس منظر کو بھولا دیا ہے اور جو اس کا پس منظر تھا، اس سے انحراف کر دیا ہے۔ کیا خدا سے کیا ہوا وعدہ ہم نے پورا کیا۔ ہندوانہ ثقافت کو فروغ دے کر ہم نام کا یومِ پاکستان منا رہے ہیں۔ کیا یہ عذاب الٰہی کو دعوت نہیں ہے؟ آج پاکستان جن گوناگوں مسائل کا شکار ہے، اُس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ قول و فعل میں تضاد ہے۔ اگر ایک طرف یومِ پاکستان اور دوسری طرف اسی کی خلاف ورزی۔ گھر سے لے کر ایوانوں تک ہم کہاں کھڑے ہیں، سوچنے کا مقام ہے۔