اور کلثوم نواز رخصت ہو گئیں!

پیش رفت/عمر منہاس

تین بار خاتون اول اور 47سال تک نواز شریف کی شریک حیات رہنے والی محترمہ کلثوم نواز لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں گزشتہ روز انتقال کر گئیں۔ کلثوم نواز نے تقریباً ایک سال تک کینسر کا مقابلہ کیا ۔ اس دوران پاکستان میں سپریم کورٹ نے نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس کا فیصلہ سنایا۔۔۔اوراسی دوران نا اہل ہوئے ۔ میاں نواز شریف کی خالی کردہ نشست پر کلثوم نواز نے انتخاب لڑالیکن بیماری کے باعث الیکشن کمپین میں حصہ نہ لے سکیں ۔

کلثوم نواز کو عام طور پر اسی حوالے سے جانا جاتا ہے کہ وہ نواز شریف کی اہلیہ تھیں مگر سیاست میں ان کا اہم کردار بھی رہا ہے۔ کلثوم نواز ابتداء میں تو عملی سیاست سے دور رہیں لیکن جب نواز شریف پر مشکل وقت آیا تو انہوں نے چند دنوں کے اندر اپنی پہل کاریوں سے پاکستان کی سیاست اور بین الاقومی میڈیا میں وہ جگہ بنا لی جس کے لیے سیاستدانوں کو ایک عمر صرف کرنا پڑتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے ان کا ساتھ چھوڑا تو کلثوم نواز سڑکوں پر نکلیں ( ہمارے ہاں ایسے بہت کم ہوتا ہے کہ اقتدار کی چھتر چھایا ختم ہو جائے تو لوگ استقامت سے کھڑے رہیں اور اپنے اس دوست کا ساتھ دیں جس کا ستارہ گردش میں ہو) اور عملی سیاست میں حصہ لیا۔ نہ صرف پارٹی کی صدارت سنبھالی بلکہ اپوزیشن کو بھی متحد کیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ کہا جانے لگا کہ مشرف حکومت نواز شریف سے زیادہ کلثوم نواز سے گھبرائی ہوئی ہے۔

12اکتوبر 1999 ء کو جب پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو نواز شریف سمیت شریف خاندان کے دیگر افراد کو جیل جانا پڑا۔ اس وقت کلثوم نواز نے پارٹی سنبھالی ۔ انہوں نے سخت پابندیوں میں پورے ملک کے دورے کیے۔ انہوں نے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ملکر اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آڑ ڈی) کو بھی فعال رکھا۔ ایک طرف اپوزیشن کو سرگرم رکھا تو دوسری طرف پارٹی کو متحد رکھنے کے لئے بھی جدو جہد کی۔ ان کی راہ میں سب سے زیادہ روڑے اٹکانے والوں میں مسلم لیگ ن کے بعض سر بر آوردہ رہنما بھی شامل تھے۔ جنہوں نے ان کے ہر جلسے اور بیان کو اپنے شوہر کی رہائی کے لیے ایک وفا پرست خاتون خانہ کی آہ و زاری قرار دیا۔ بعض مسلم لیگی رہنما اتنے مشتعل ہوئے کہ انہیں مسلم لیگ ن کی بنیادی رکنیت سے خارج کرنے کی بات کی گئی جو چند دن پہلے ہی کلثوم نواز کو دی گئی تھی۔

مسلم لیگ کے جید رہنما اس بات پر متفق تھے کہ ان لوگو ں میں فوجی حکومت کا مقابلہ کرنے اور کسی قسم کی تحریک چلانے کی سکت نہیں ۔ ان میں سے اکثر کا خیا ل تھا کہ ’نواز شریف‘ ایک بھاری بوجھ ہیں جسے اگر فوراً اتار پھینکا جائے تو ان لوگو ں کے اقتدار کی کشتی ایک بار پھر آمریت کے سمندر میں رواں دواں ہو سکتی ہے اور وہ ’جمہوریت کی بحالی‘ کے دعوے دار ہو سکتے ہیں۔(اس بات کا تذکرہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کی کتاب ’جبر اور جمہوریت ‘ میں بھی کیا ہے ) دوسری طرف کلثوم نواز یہ سمجھتی تھیں کہ جنرل مشرف کی فوجی حکومت سے براہ راست ٹکر لیے بغیر نہ تو پاکستان میں جمہوریت بحال ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے قیدی شوہر کو انصاف مل سکتا ہے۔

پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد میں بیگم کلثوم نواز کو بار بار پابندیوں کا سامنا رہا لیکن وہ نہایت ہوشیاری سے ان پابندیوں کو ناکام بناتی رہیں۔ ایک بار جب انہوں نے لاہور سے پشاور تک کاروان تحفظ پاکستان کا اعلان کیا تومشرف حکومت نے ان کی رہائش گاہ کا محاصرہ کر لیا۔ بیگم کلثوم نواز کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب تو ہو گئیں مگر پولیس نے ان کو کلمہ چوک پر روک لیا۔اور آگے بڑھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جس پربیگم کلثوم نوا ز نے خود کو گاڑی میں لاک کر لیا اورگاڑی سے اترنے پر تیار نہ ہوئیں۔ اس پر ایک دیو ہیکل کرین کی مدد سے گاڑی کو زنجیریں پہنا کر فضاء میں لہرا دیا گیا۔صحافیوں نے دیکھا کہ ڈرائیونگ سیٹ پر فیصل آباد کے صفدر رحمان،فرنٹ سیٹ پر بیگم کلثوم نواز، پچھلی نشست پر بیگم تہمینہ دولتانہ اور جاوید ہاشمی موجود تھے۔ بیگم کلثوم نواز کو گاڑی سے نکالنے کی بے حد کوشش کی گئی ۔کلثوم نواز کو گاڑی سے نکالنے میں ناکامی پر سائلنسر میں کاغذ پھنسا کر گاڑی کا انجن بند کر دیا گیا۔ جس سے گاڑی کا اے سی بھی بند ہو گیا۔ لیکن سخت گرمی اور گاڑی کی گھٹن میں دس گھنٹے خود کو محبوس کر کے انہوں نے وقت کی قوتوں کو پیغام دے دیا کہ ان کے آہنی عزم کو شکست نہیں دی جا سکتی ۔کلثوم نواز کے ساتھ پیش آئے اس واقعہ کو عالمی میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔

تمام تجزیہ نگار اور ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بیگم صاحبہ نے اس مشکل دور میں پوری بہادری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا حتیٰ کہ جنرل مشرف کو اس بات کا ادراک ہو گیا کہ شریف خاندان کو قید و بند میں رکھنا ان کے لیے خطرناک ثابت ہو گا۔ چنانچہ پھر وہ واقعہ پیش آیا جسے ڈیل یا جدہ روانگی کا عنوان دیا جاتا ہے۔ سوچیے! اگر بیگم کلثوم نواز 1999ء کے بعد میدان میں نہ نکلتیں ، جنرل مشرف کے اقتدار کے خلاف جدوجہد نہ کرتیں تو کیا آنے والے برسوں میں مسلم لیگ( ن) کا کوئی نام لیوا بھی ہوتا۔۔۔گزشتہ برس ایک بار پھر جب نواز شریف کی سیاست پر برا وقت آیا تو ایک بار پھر وہ مزاحمت کا وہی کردار ادا کرنے کے لیے تیار تھیں لیکن بیماری نے انہیں مہلت نہ دی ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی آنے والی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے (آمین)