نقطہ نظر/بیرسٹرحمید باشانی

نئی صف بندی میں ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

خارجہ امور بارے پڑھنا عام آدمی کے لیے اکتا دینے والاکام ہے۔ صحافی اور دانشور کے لیے بھی اس موضوع پر لکھنا آسان نہیں۔ لکھنے والے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کے دل میں بقول فیض حرف حق کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہوتا ہے، اور انہوں نے اپنے دل کی خلش مٹانے کے لیے اس کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ دوسرے وہ جو حرف حق کے چکر میں نہیں پڑتے۔ انہوں نے وہ حرف لکھنا ہوتا ہے، جو عوام کو پسند آئے، یا کم از کم وہ پڑھنے پر مجبور ہوں۔ یہ مقبولیت کے قائل ہوتے ہیں۔ خواہ سنسنی پھیلا کر ملے یا عوامی جزبات کی ترجمانی سے۔ تیسرے وہ ہوتے ہیں، جنہوں نے اہل حکم کی ترجمانی کرنی ہوتی ہے۔ ان کا قلم اہل حکم کی سوچ سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ان کواہل حکم کے اشارے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، وہ اہل حکم کی مرضی اور منشا کو خود ان سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ بڑے نپے تلے الفاظ میں اہل حکم کی منشا کو اپنے الفاط میں پیش کر تے رہتے ہیں۔

اہل قلم کی ایک قسم وہ بھی ہے، جن کے دل میں صرف غصہ، بغض اورتعصب پر مبنی خیالات ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے لوگوں یا ملکوں میں صرف کیڑے نکالتے ہیں۔ ان کو نیست و نابود کرنے کا عہد دہراتے ہیں۔ یہ لوگ طعنہ بازی اور گالی گلوچ کو رائے سازی سمجھتے ہیں۔ اور متعصب خیالات کے اظہار کو کالم اور تجزئیے کا نام دیکر ادارتی صفحات کو رونق بخشتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے اخبارات کے ادارتی صفحات پر اس طرح کہ کالم کم ہی نظر آتے ہیں، جو ہمیں اکثر واشنگٹن پوسٹ ، نیویارک ٹائمز، لی موند ، فارن پالیسی ، گارڈین یا پیپلز ڈیلی وغیرہ میں نظر آتے ہیں۔

چنانچہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد امریکی وفد کی اسلام آباد آمد اور اس کے اثرات و نتائج پر سوائے ایک آدھ کے کوئی سنجیدہ تحریر نظر نہیں آئی۔ گاہے انگریزی اخبارات میں خارجہ امور پر کوئی پر فکر یا با معنی مضمون سامنے آتا ہے، مگر یہ رائے عامہ پر اثر اندوز نہیں ہوتا کہ عوام انگریزی اخبارات کم ہی پڑھتے ہیں، اور خواص مضامین پڑھ کر اپنی رائے بنانے یابدلنے کے قائل نہیں ۔ ویسے بھی امریکہ پاکستان تعلقات کے باب میں اب ایسی کوئی گتھی باقی نہیں رہی ۔ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے کہ بعد امریکی فارن پالیسی میں راز داری کا عنصر تقریبا غائب ہے۔ صدرٹرمپ نے اپنی خارجہ تعلقات پر خیالات کا اظہار ہی اس بات سے کیا تھا کہ اس دنیا میں کوئی دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ البتہ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے دوستوں نے ہمیں لوٹ لیا ہے۔

ہمیں ہمارے اتحادی ایک مدت سے بڑی بے دردی سے لوٹ رہے ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ لوٹ مار بند کریں۔ انتخابی مہم میں یہ بات کہنا اور بات تھی۔ یا شاید ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر یہ بات کہہ دینا بڑی بات نہ سمجھی گئی ہو۔ مگر اس بات کے رد عمل میں عام خیال یہ تھا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد دنیا کی پیچیدہ سیاست کے عملی تقاضوں کے پیش نظر امریکی وزارت خارجہ اور ڈیفنس سے مشورے یا بریفنگ کے بعد صدر ٹرمپ اس باب میں اپنے خیالات اور لہجے میں نرمی پیدا کریں گے۔ مگر جب صدر ٹرمپ نے برسلز میں نیٹو کے اجلاس میں اپنے ان خیالات کا اظہار اور زیادہ کھلے ، بلکہ غیر مہذب انداز اور اکھڑ مزاجی سے کیا تو دنیا کو یقین آنا شروع ہو گیا کہ جہاں تک امریکہ کے ساتھ تعلقات کا تعلق ہے تو دنیا واقعی بدل گئی ہے، اور جتنا جلدی ہو سکتا ہے اس حقیقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ نیٹو کے اس اجلاس میں صدر ٹرمپ نے جو فرمایا شائد عام حالات میں کوئی اس پر یقین نہ کرتا، لیکن بشکریہ سوشل میڈیا اپنے اتحادیوں کے ساتھ صدر ٹرمپ کی اس جھڑپ نما ملاقات کی شہکار وڈیو انٹر نیٹ پر موجود ہے، جس پر یقین کرنے کی کوشش میں کئی لوگ اسے بار بار چلا کر دیکھ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ان قریب ترین اتحادیوں کو جو ایک وقت میں دنیا میں امریکی بالادستی کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے تھے انتہائی بد تمیزی اور رعونت سے بتایا کہ وہ ایک مدت سے امریکہ سے بہت زیادہ ناجائز فائدہ اٹھا تے آ رہے ہیں، اور اب وقت آگیا ہے کہ یہ سلسلہ بند کیا جائے۔ اس بیان میں اس نے سفارتی زبان کی شوگر کوٹنگ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس نے قریبی اتحادی ہونے، ایک جیسی اقدار کا حامل ہونے، اور ایک عظیم مقصد کے لیے باہم متحد ہونے کا معروف امریکی روایتی منتر دہرانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی ۔ اس کے بجائے اس ننے صاف صاف کہا کہ ہم جرمنی کو روس کے خلاف تحفظ دیتے ہیں، اور جرمنی روس سے تیل کی پائپ لائن جیسے معائدے کر کہ روس کے خزانے بھر رہا ہے۔ آپ کے نزدیک ایسا کرنا شائد درست ہو ، لیکن میں اسے نا قطعی طور نا مناسب سمجھتا ہوں۔ یعنی اگر اپ کو ہمارا تحفظ چاہیے تو آپ ہماری مرضی اور منظوری کہ بغیر روس سے اس طرح کے معائدے نہیں کر سکتے۔

صدر ٹرمپ نے اسی سانس میں یہ بھی واضح کیا کہ یہ جو تحفظ ہے ، یہ بھی پہلے کی طرح نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے آپ نے اپنے حصے کے اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔ ٹرمپ کی یہ باتیں جرمنوں سمیت کئی یورپی کانوں پر بم کی طرح گریں۔ مگر ان کو یقین ہو گیا کہ صدر ٹرمپ سنجیدہ ہیں۔ گو کہ یہ لب و لہجہ کسی کوبھی پسند نہیں آیا۔ اس لب و لہجے کی سب سے زیادہ خودامریکہ کے اندر سے مذمت ہوئی۔ مگر اس سے حقیقت پر کوئی فرق نہیں پڑا کہ اب امریکی پالیسی کیا ہو گی۔ جو امریکی اس پر ببلا اٹھے تھے وہ بھی اب خاموش ہیں کہ وقتی طور پر یہ پالیسی توقع سے زیادہ پھل دے رہی ہے، اور امریکی معشیت کے لیے سود مند ثابت ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کے معاشی حاصلات اتنے نمایاں ہیں کہ ٹرمپ آئنیدہ انتخابات بھی جیتنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

پاکستان کے باب میں صورت حال مختلف نہیں ہے۔ ٹرمپ اگر اپنے قریب ترین اتحادیوں کے ساتھ یہ رویہ اپنا سکتا ہے ، تو اس سے کسی قسم کی رو رعائیت کی توقع عبث ہے ۔ روس اور جرمنی کے تجارتی اور معاشی تعلق کی طرح صدر ٹرمپ چین اور پاکستان کے معاشی اور تجارتی تعلق کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور اس بات کا دبی زبان میں اظہار پاکستانی امداد اور چینی قرضوں کے تناظر میں ہو چکا ہے۔ اور آنے والے وقتوں میں اس کا کھلا اظہار بعید از قیاس نہیں۔

حاصل کلام یہ ہے دنیا میں نئی صف بندیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے زیر اثر نئی امریکی پالیسیوں کے بعد دنیا میں ملٹی پولر طاقتوں کے ابھرنے کا عمل تیز ہواہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ دنیا میں واحد سپر طاقت کی جگہ طاقت امریکہ ، روس اور چین کے درمیان تقسیم ہو رہی ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے پاکستان میں کچھ تجزیہ کار پاکستان کے لیے زیادہ جگہ اور امکانات دیکھتے ہیں۔ یہ امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، اگر پاکستان ماضی کی طرح اپنے سارے انڈے ایک ٹوکری میں رکھنے کی پالیسی کے بجائے ایک متوازن پالیسی اختیار کرے۔

اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ میں جب تک فارن پالیسی صدر ٹرمپ اور ان کے ہم خیال لوگوں کے زیر اثر رہے گی، پاکستان کے لیے امریکی امداد یا قرضوں کے امکانات محدود ہی رہیں گے ۔ اس معاملے میں وہی دلیل دہرائی جائے گی، جو نیٹو میں دہرائی جا چکی ہے کہ ہم پاکستان کو اتنی امداد د یا قرضے دے رہے ہیں، اور پاکستان سی پیک کے منصوبوں اور قرضوں کے زریعے چین کو فائدہ دے رہا ہے، جو امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ اور یہ کہ پاکستان ہم سے لے تو رہا ہے، مگر بدلے میں وہ دینے کوتیار نہیں جس کی ہم توقع رکھتے ہیں۔ جب کہ امریکہ اب لین دین ، حساب کتاب اور سودا کاری کے باب میں اپنی تاریخ کی سخت ترین ،یک طرفہ اور بے رحم پالیسی پر عمل پیرا ہے.