اظہارخیال/سید خرم علی

دو تصویریں دو کہانیاں

زیرِ نظر تصاویر دو جگہوں کی ہیں ایک میں ویران لق و دق صحرا میں موجود صرف ایک درخت کو بچانے کے لیے پوری سڑک کا نقشہ بدل دیا گیا جو کہ ایک انجینئیر کی نظر میں اور ایک ڈرائیور کی نظر میں نقصان دہ بھی ہے بالخصوص ایسی روڈ پر جہاں سپیڈ ایسی ہو کہ موڑ کاٹنے سے ایکسیڈینٹ کے چانسز بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن آفرین ہے ایسے لوگوں پر اور ان کی پلاننگ پر کہ زندگی کے لیے ضروری ایک آس کو بھی بچایا گیا ہے جو یقینا ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ پلاننگ میں صرف وقتی ضرورت کو پورا نہیں کیا جاتا بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کا سوچا جاتا ہے۔

دوسری تصویرآزادکشمیرکی ہے جہاں ایک ہیوی ٹرانسمیشن لائن کو گزارا جارہا ہے۔ یاد رہے اس منصوبے کے باعث پہلے ہی صدیوں سے بہتے ایک دریا (دریائے نیلم) کو بھی قربان کر دیا گیا ہے۔ اس تصویر میں بجلی کی اس ہیوی ٹرانشمیشن لائن کو گزارنے کے لیے دنیا کے انتہائی قیمتی درختوں کو قتل کردیا گیا۔ جیسے دریائے نیلم کے خشک کرنے سے وہاں موجود انسانی، حیواناتی، نباتانی اور آبی زندگی کا قتلِ عام کیا گیا ہے ایسے ہی اس منصوبے کی ناقص پلاننگ کی وجہ سے ایسے درختوں کو بھی بے دریغ کاٹ دیا گیا ہے جن کو اس سائز تک پہنچنے کے لیے کم از کم ایک صدی کا سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔

deforestation-in-kashmir-&-global-warming

دوسری تصویر کے ضمن میں ایک بات اور یاد کرواتا چلوں کہ یہ اسی ملک کے ساتھ متصل علاقہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے ممالک کی فہرست میں ٹاپ پے آتا ہے اور2025 تک شدید حشک سالی کا شکار ہونے والا ہے۔

جس ملک کے پالیسی سازوں اور منصوبہ سازوں کو ایسی پلاننگ کرنی چاہیے کہ اس ملک کے درختوں کو محفوظ کیا جائے اور دریاؤں کو رواں رکھ کر مستقبل میں درپیش مسائل سے مقابلے کی تیاری کی جائے اورتمام اداروں کو پابند کیا جائے کہ اپنی ہر منصوبہ بندی میں ماحولیات سے متعلق چیزوں کو ترجیح دیں وہاں ایسے منصوبے بنائے گئے ہیں کہ جو ایک مسئلے کوحل تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ممکنہ طور پرپیدا ہونے والےبے شمار مسائل کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔

دنیا بھر میں ترقی کے سفر پر چلتے ہوئے مختلف ممالک اپنے ہر منصوبے میں ماحولیاتی پالیسیوں کو ہمیشہ مدِ نظر رکھتے ہیں اور اگر کرہ ارض کو بچانا ہے اور اپنی آنی والی نسلوں کے لیے کچھ چھوڑ کر جانا ہے تو یہ ضروری بھی ہے۔

اب پاکستان میں ماضی بعید کی غلطیوں پر رونے کا تو کوئی فائدہ نہیں لیکن ماضی قریب کی غلطیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسے تمام منصوبے بنائے خواہ وہ سیاست دان تھے یا افسر شاہی ان کے خلاف تحقیقات کر کے مجرم قرار دیتے ہوئے درختوں اور دریاؤں کے قتلِ عام کے جرم میں بھاری جرمانے اور عمر قید کی سزا دی جائے تاکہ موجودہ اور آنے والے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو لگام رہے۔

کشمیر میں ہونے والے موجودہ جرم یعنی نیلم جہلم پراجیکٹ کی منصوبہ سازی میں ماحول کو نقصان کرنے کے عوض واپڈا اور دیگر اداروں، کمپنیوں اور پلاننگ ڈیپارٹمنٹس کے خلاف سخت ایکشن لے کر سزائیں اور جرمانے عائد کیے جائیں تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے ورنہ ایسے منصوبے کہیں ہڑپہ اور موہنجو ڈارو جیسی تہذیبوں کے ساتھ ایک اور تہذیب کو ریت کے نیچے دفن نہ کر دیں۔