Mozam khan

متحدہ عرب امارات میں سفیرنےتارکین وطن کی رجسٹریشن شروع کردی

معظم خان نےسی پیک کو امارات اورچین کیلئےزبردست منصوبہ قراردیدیا… سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر سید خالدگردیزی اورمنیجنگ ایڈیٹرشہزادخان سےتحریک انصاف گلف کے جنرل سیکریٹری راشدعلی کی موجودگی میں پاکستانی سفیرکی گفتگو

[button color=”gray”] ⁠⁠⁠تعارف: متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستان کےسفیر معظم احمدخان نے1986 میں اپنےکیریئرکاآغازکیا۔وہ بھارت۔امریکہ۔نیدر لینڈ اور کینیڈا سمیت وفاقی وزارت خارجہ میں اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔وہ وزارت خارجہ کے ترجمان بھی رہےہیں۔ [/button]

معظم احمد خان

ابوظہبی(سٹیٹ ویوز)متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستانی سفیرمعظم احمد خان نے کہا کہ سی پیک سےنہ صرف پاکستان بلکہ پورا ریجن فائدہ اٹھائےگا۔متحدہ عرب امارات سی پیک کی مخالف لابی کاحصہ نہیں ھےاوراس معاملے کولیکردونوں ممالک کےدرمیان تعلقات خراب ہونے کی باتوں میں صداقت نہیں۔اکنامک کوریڈور پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے گہرے پرانے تعلقات کومزیدتقویت بخشےگا۔کشمیر ایشو پاکستان کے لیئے اہم ترین ایشو ھےاور کشمیریوں کےحق خودارادیت کولیکرسفارتی سطح پربھارت کو شدید ترین مشکلات کا سامناکرناپڑرہا ھے۔پاکستان انسانی اقدار کی بنیاد پردنیا بھر سے کشمیریوں کےکاز کی حمایت کی امیدرکھتاہے۔پاکستانی میڈیاکوآزادی کی تکریم کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خودضابطہ اخلاق طےکرکے ملک وملت کاامیج بہترکرنے میں مدد کرنی چاہیئے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے پاکستان سے آئےسٹیٹ ویوز کےایڈیٹر سید خالد گردیزی سے ملاقات کے دوران کیا۔اس موقع پر سٹیٹ ویوز کے منیجنگ ایڈیٹر شہزاد خان اورتحریک انصاف آزادکشمیر کےگلف کے جنرل سیکریٹری راجہ راشد علی خان بھی موجود تھے۔

معظم احمد خان نے کہا کہ سی پیک پردوسرے ممالک کے تحفظات روائتی ہتھکنڈے ھوسکتے ہیں مگراس منصوبےسےمتحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک بھرپورفائدہ اٹھائیں گے چونکہ چین اورمتحدہ عرب امارات خطے کے سب سے بڑے ٹریڈ پارٹنر ہیں،سی پیک کے ذریعےدونوں ممالک کے درمیان کم فاصلہ تجارت ہو گی جسےنہ صرف وقت بلکہ بھاری مقدار میں خرچ بچایاجاسکےگااوردونوں ممالک کو اس بات کا بخوبی ادراک بھی ھے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی باتیں درست نہیں ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات ہیں جسکا واضع ثبوت ھے کہ اس سال تین لاکھ سے زائد پاکستانی روز گار کی تلاش میں یہاں آئے اورتقریباًتیرہ لاکھ پاکستانی یہاں موجود ہیں جو محنت اوردیانت داری کے سبب پورے ملک میں مشہورہیں علاوہ ازیں دونوں ممالک کےدرمیان تجارتی تعلقات میں بھی دن بدن اضافہ ہورہاہے۔

Mozam khan 02
سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر سید خالدگردیزی اورمنیجنگ ایڈیٹرشہزادخان پاکستانی سفیرسے گفتگو کررہے ہین

دوران گفتگو انکا کہنا تھا پاک بھارت تعلقات جتنے بہتر ھوں گےانکا دونوں ممالک اور اس ریجن کوفائدہ ھوگا تاہم کشمیر پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ھے۔کشمیر ایشو پر پاکستان نےکبھی دوہرا معیار نہیں رکھا۔دنیاکےدیگرممالک کی طرح سفارتی محاذ پرپاکستان خلیجی ریاستوں سےبھی کشمیریوں کیلئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتارہتاھے اور اس معاملے میں خاطرخواہ کامیابی بھی ہمیں حاصل ہیں ۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان کا میڈیا آزادھے لیکن اس سے کئی گنا زیادہ پاکستانی میڈیا آزاد ھے۔ ایک صحافی جب کوئی خبر دے رھا ھوتا ھےتو اسے علم ھوتا ھے کہ اسکی یہ خبرملک کے مفاد میں ھے یا نہیں۔ملکی مفاداورامیج ایسا معاملہ جو صحافی کی بنیادی ذمہ داری ھے۔صحافیوں کو چاہیے کہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ خبر دیں اور میڈیاہاؤسز کو چاہیئےکہ وہ سنسنی پھیلانے کی بجائے اپنے ملک کی بہتری کے لئے اُن تمام جگہوں کو بھی دکھائیں جہاں ٹورسٹ نہ صرف آ سکیں بلکہ خود کومحفوظ بھی محسوس کر سکیں جس سے پاکستان کےہرخاص و عام کو فائدہ پہنچے اورملک کاامیج  بھی بہترہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میراخیال ہےکہ پاکستانی میڈیا کوآزادرہنا چاہیے لیکن میڈیااگرقومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ازخودکوڈ آف کنڈیکٹ طے کرکےاپنا کام کرے گا تو اس سےملک کا امیج بہتربنانےمیں مدد ملے گی۔انھوں نے کہا کہ دبئی میں ایکیسپو2020 سے پاکستان کوفائدہ اٹھاناچاہیے۔

Rashid copy
تحریک انصاف گلف کے جنرل سیکریٹری راجہ راشد علی سفیر سے گفتگو کررہے ہیں

ایکسپو2020 کی وجہ سے روزگار کےمواقع پیدا ھوں گے اور پاکستانیوں کی بھرپور شرکت سےدنیاکےدیگرممالک کےساتھ تجارت کرنےکیلئے کاروباری حضرات اپنےتعلقات استوار کرسکیں گے۔ ہرسال بڑی تعدادمیں پاکستانی یہاں روزگارکی غرض سے آتے ہیں اوربہترروز گارحاصل کرتے ہیں اسی طرح دوطرفہ سرمایہ کاری کومزیدبہترکیا جاسکےگا۔ایک سوال کے جواب میں معظم خان کا کہنا تھاکہ ہفتہ میں ایک بار ابوظہبی پاکستان ایمبسی اوردبئی پاکستان قونصلیٹ میں تارکین وطن کے مسائل کےحل کےلئے کھلی کچہری کا اہتمام کیا جاتاہے۔پہلے یہ سلسلہ صرف ابوظہبی تک محدودتھا اب دبئی قونصلیٹ میں بھی کھلی کچہری کا آغاز کردیا گیا ھے۔ان کھلی کچہریوں کا مقصد یہ ھے کہ لوگوں کے مسائل فوری طورپرحل کئےجا سکیں اورلوگوں کو اس ملک کے قوانین سےروشناس کرایاجا سکے۔انہوں نے تمام پاکستانی تارکین وطن سے گزارش کی کہ وہ خودکوپاکستانی قونصلیٹ میں رجسٹرڈ بھی کروائیں تاکہ کسی ناگہانی آفت کے وقت اُن سے رابطہ ممکن ہو سکے۔

انہوں نےکہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے یہاں کے سرمایہ کاروں کوراغب کرنے میں سفارتخانہ پوری کوشش کررہاہےجسکے نتائج جلد نظرآناشروع ہونگے۔

ایک سوال کےجواب میں سفارتکارکاکہناتھاکہ سابق سفارتکاراورصدرآزادکشمیر مسعودخان قابل انسان ہیں۔وہ صدرکی حثیت سےبین الاقوامی سطح پرتنازعہ کشمیر کو لیکر جو کردار ادا کرسکتے ہیں وہ انہی کاخاصہ ہے۔ کشمیری کمیونٹی کوانکی سپورٹ کرنی چاہیئے اور حکومت کو ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاناچاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں