عدالت سے ضمانت نہیں کراؤں گا،12 ویں مرتبہ جیل جانے کو تیار ہوں، سردارخالد ابراہیم

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ و ممبر قانون ساز اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود توہین عدالت کیس میں کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا، نہ ہی میرا کوئی وکیل ضمانت کرائے گا۔ میں اب بھی اسی موقف پر قائم ہوں جو میں نے بحیثیت ممبر اسمبلی ایوان میں خطاب کرتے ہوئے اپنایا تھا۔

سردرا خالد ابراہیم خان نے سٹیٹ ویوز کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال پر کہا کہ میرا موقف یہی رہا ہے کہ اسمبلی میں تقریر پر عدالت مجھے نوٹس نہیں بھیج سکتی کیونکہ ان کو یہ اختیار ہی حاصل نہیں تو توہین عدالت کا کیس کیسے چلایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جو موقف اپنایا تھا اب عدالت نے اسے تسلیم کر کے اسمبلی میں تقریر کے معاملے کو سپیکر قانون ساز اسمبلی کے پاس بھیج دیا ہے۔ سردار خالد ابراہیم خان نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ وہ اب تک 11 مرتبہ مختلف کیسز میں جیل کاٹ چکے ہیں اور اب 20 سال وقفے کے بعد 12 ویں مرتبہ بھی جیل جانے کیلئے تیار ہیں لیکن اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دوسری طرف قانونی ماہرین نے سردار خالد ابراہیم خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر موقف اپنایا ہے کہ اسمبلی میں تقریر پر سپریم کورٹ نے جو از خود نوٹس لیا وہ اس لیے غیر آئینی تھا کہ ممبر اسمبلی کو استحقاق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسمبلی میں جو مرضی تقریر کرے اس کو کوئی عدالت طلب نہیں کر سکتی، دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ آزادکشمیر سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار بھی نہیں کہ وہ از خود نوٹس لے سکے۔اس لیے سپریم کورٹ کو یہ بتانا چاہیے کہ انہوں نے از خود نوٹس لینے اور اسمبلی میں تقریر پر نوٹس جاری کر کے غیر آئینی قدم کیوں اٹھایا۔

قبل ازیں سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی فاروق احمد طاہر بھی یہ موقف دے چکے ہیں کہ آزادکشمیر کے عبوری آئین کے تحت ممبر اسمبلی جو بھی تقریر کرتا ہے اسے آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے جسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ۔ فاروق طاہر نے کہا تھا کہ میں نے ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان کی وہ پوری تقریر سنی ہے جس کے حوالے سے انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا یا ان سے جواب مانگا گیا ہے لیکن مجھے ان کی کوئی ایسی متنازعہ بات نہیں لگی جو توہین عدالت کے زمرے میں بھی آتی ہو۔