وزیراعظم فاروق حیدرکا امتحان

ہمارے وزیراعظم صاحب جب فرماتے ہیں کہ، “گلگت بلتستان کو بھی آذادکشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جانا چاہئیے ” تو بہت ساروں کا ماتھا ٹھنک جاتا ہے…آذادکشمیر کا سیٹ اپ ہے کیا ؟ بھلا گلگت والوں کو ایک ریمورٹ کنٹرول سیٹ اپ کی کیا ضرورت ہے؟ اگر وزیراعظم کی مراد یہ ہے کہ گلگت والوں کا بھی ایک عدد نمائشی قسم کا وزیراعظم اور صدر ہونا چاہیے تو اس پر عرض یہ ہے کہ جغرافیائی اور تاریخی حوالے سے گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور بجائے اس کہ کے کشمیر کے دو خطوں میں الگ الگ وزرائے اعظم اور صدور ہوں کیوں نہ ان دونوں حصوں کو ملا کر ون یونٹ میں پرو دیا جائے اور آبادی اور وسائل کے اعتبار سے تمام حصوں کو کشمیر اسمبلی میں مساوی نمائندگی ملے۔

پھر جب بھارتی تسلط والا کشمیر آذاد ہو جائے تو کشمیر کی تمام اکائیوں کو یکجا کر دیا جائے۔ اگر گلگت بلتستان کو آذادکشمیر طرز کا سیٹ اپ دینے سے وزیراعظم کی مراد اس علاقے کی پسماندگی اور محرومیوں کو دور کرنا ہے تو میں کہوں گی کہ اس لحاظ سے گلگت بلتستان اور آذادکشمیر کا دکھ سانجھا ہے۔ آذادکشمیر میں دودھ و شہد کی ایسی کوئی نہریں نہیں بہہ رہیں جن سے گلگت بلتستان محروم رہ گیا ہے۔

ہاں مظفرآباد کی حکمران اشرافیہ اور بیوروکریسی نے ہر دور میں اقتدار کی رنگ رلیاں ضرور منائی ہیں، اس بجٹ کا مختصر ترین حصہ بھی عوام تک نہ پہنچنے دیا جو وفاق سے ملتا رہا۔۔۔تو جناب وزیراعظم سے گزارش ہے کہ وہ مبہم اور غیر ضروری بیانات سے گریز کرتے ہوئے وہی کام کریں جس کی توقع ان سے کی جا رہی ہے۔ بہتر ہے کہ گڈگورننس پر توجہ دیں اور عوام کو راحت پہنچانے کے لئے بھرپور اقدامات کریں۔

فی الحال تو گزشتہ تالپوری حکومت کے متنازعہ تعلیمی پیکیج اور پبلک سروس کمیشن کی تحلیل کے بعد انہوں نے جو محاذ کھول لیا ہے یہ ان کے لئے ٹسٹ کیس ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے حقوق کے لئے لڑنے کہ ان کے دعووں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے ریاست کا مالی کوٹہ بڑھائے جانے کے حوالے سے مطالبات اور مشاورت سے جو مختلف وزیراعظم ہونے کا تاثر انہوں نے دیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوششیں کہاں تک ثمر آور ثابت ہوں گی۔

بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ جناب فاروق حیدر خان جارحانہ کھیل رہے ہیں اور اگر ہر بال پر باؤنڈری لگانے کی کوشش کرتے رہے تو عین ممکن ہے کہ سیاست کی نا ہموار پچ پر اپنی وکٹ ہی نہ گنوا بیٹھیں کیونکہ انکا رویہ خود پارٹی کے اندر کے لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن عام ایک آدمی کو محض اس بات سے غرض ہے کہ جناب وزیراعظم سنبھل کہ کھیلیں یا جارحانہ کھیل عوام کے حق میں نتیجہ خیز ہونا چاہیے۔

اگر وہ ہر موقع پر گڈگورننس کی باتیں کرتے ہیں تو پھر گڈ گورننس کا نہ صرف آغاز کریں بلکہ اس کے لئے مضبوط بنیادیں بھی فراہم کریں۔ حالیہ کچھ دنوں میں وزیراعظم کی طرف سے تالپوری حکومت کی طرف سے دیا گیا نام نہاد تعلیمی پیکیج کی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے منسوخی اور پبلک سروس کمیشن کی تحلیل کے بعد نئے کمیشن کی تشکیل کے اقدامات ذرائع ابلاغ میں زیر بحث ہیں۔

اس ضمن میں وزیراعظم اور ان کے قریبی حکومتی زعما کا موقف یہ ہے کہ جب پہلے سے موجود تعلیمی اداروں کے لئے فزیکل انفراسٹریکچر اور سٹاف موجود نہیں ہے تو نیا تعلیمی پیکیج لانے اور سکولوں اور کالجوں کی اپگریڈیشن کے ہوائی اعلانات سراسر عوام کو لبھانے کی سیاسی گیم تھی۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پچھلے پانچ سال تالپوری ٹولے نے میرٹ کے قتل عام، اقرباپروری، لوٹ مار اور تباہ کن نمائشی اقدامات سے پہلے سے خستہ حال انتظامی ڈھانچے کی کمر توڑ کہ رکھ دی۔

سینکڑوں سکول اور کالجز ایسے ہیں جہاں آدھے سے زیادہ ٹیچنگ سٹاف دستیاب نہیں ہے، لائبریری، کمپیوٹر لیب، پینے کا صاف پانی اور دیگر لوازمات دستیاب نہیں ہیں، زلزلے سے مکمل یا جزوی طور پر تباہ حال سکولوں کی تعمیرنو کا کام تاحال شروع نہ ہو سکا، تعلیمی اور دیگر اداروں میں تقرریاں سراسر سیاسی بنیادوں پر کی گئیں۔ جگہ جگہ لنک روڈز کی تختیاں تو آویزاں ہیں لیکن محکمہ شاہرات کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔۔۔ظاہر ہے جو نمائشی اقدامات جیالوں کو نوازنے اور کمیشن کھانے کے لئے کئے گئے ان کا ریکارڈ کیوں رکھا جاتا۔۔۔اور اس سب کے لئے تالپوری ٹولے کو جوابدہ بنایا جانا چاہئیے۔

ایک صورت تو یہ ہے کہ قومی اور عوامی نوعیت کی پالیسیاں وسیع تر اتفاق رائے یعنی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنیں تاکہ حکومتوں کا بدلنا ان پر اثرانداز نہ ہو لیکن یہاں اس طرح نہیں ہوتا ۔ سیاستدان اور مافیا نما سیاسی جماعتیں اپنے کام کو بہترین جبکہ دوسرے کے کام کو بدترین قرار دیکر مسترد کر دیتے ہیں۔ مخالفت برائے مخالفت کا اصول رائج ہے۔۔۔مخالفت یا حمایت میرٹ پر نہیں ہوتی بلکہ سیاسی مخاصمت پر ہوتی ہے۔ اب موجودہ حزب اقتدار نے تعلیمی پیکیج اور پی ایس سی کالعدم قرار دیا ہے تو حزب اختلاف اس کو سیاسی انتقام قرار دیکر عدالت پہنچ گئی ہے۔۔۔ایسے میں بے خبر عوام کے لئے کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔

البتہ ذاتی تجربات، مشاہدات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اصل صورت حال کی جانچ کر سکتے ہیں۔ جن والدین کے بچے بوسیدہ خیموں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔جو لوگ سرکاری ہسپتالوں میں ذلیل و خوار ہوتے ہیں یا جن کو گھروں کے آس پاس ہسپتال یا طبی مراکز کی سہولت نہ ہونے کے سبب میلوں کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ جو پتھریلی سڑکوں پر ہچکولے کھاتے ہیں ، جن کے گھروں میں بے روزگاری اور غربت نے ڈھیرے ڈال رکھے ہیں ، جو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلتے ہیں اور دیگر کئی مسائل سے دو چار ہیں وہ چاہیں تو اپنے ووٹ کا درست استعمال کر کے سیاسی مداریوں سے چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

جو چیز عوام بہتر اور منظم انداز میں کر سکتے ہیں وہ اجتماعی سوچ اور اجتماعی سوچ کو زورآور مطالبات میں ڈھالنا ہے۔ تعلیم، صحت ، روزگار، انصاف ہر انسان کی بنیادی ضرورت اور مسئلہ ہے لیکن ان مسائل سے زیادہ لوگ اس پر گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں کہ فلاں بندہ کونسے مسلک سے تعلق رکھتا ہے، کونسی مسجد میں جاتا ہے، کن لوگوں کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ لوگوں کو دوسروں کے ذاتی معاملات میں تو دلچسپی ہے لیکن اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ انکی نسلوں کا مستقبل کیا ہو گا۔

قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم صاحب گڈگورننس کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس کے لئے بنیادیں وہ کیسے فراہم کریں گے؟ احتساب جو گڈگورننس کا لازمی جزو ہے یہاں بااثر لوگوں کے معاملے میں اس کا سرے سے تصور ہی موجود نہیں ہے۔ اب جن الزامات کے تحت پی ایس سی اور تعلیمی پیکیج کالعدم قرار دیا گیا کیا محض کالعدم قرار دینے سے احتساب اور قانون کے تقاضے پورے ہو جائیں گے؟ جو لوگ اختیارات کا غلط استعمال کرتے اور اداروں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں ان کی سزا کیا ہے؟ کیوں نہیں ایسے لوگوں پر انتخاب لڑنے اور دیگر اعلی عہدوں تک رسائی تک تاحیات پابندی عائد کی جاتی؟ کیوں نہیں ان کو حوالات میں بند کیا جاتا؟

اگر اس سلسلے میں قوانین موجود نہیں ہیں تو قوانین بنائے جائیں اور موجود قوانین میں پائے جانے والے سقم بھی دور کئے جائیں۔ اہم سوال تو یہ بھی ہے کہ میرٹ اور شفافیت کہ حوالے سے جناب فاروق حیدر خان کی سوچ اور دائرہ کار کا اطلاق خود انکی اپنی پارٹی معاملات میں بھی ہو گا۔۔۔۔ خود انکی پارٹی کے اندر اہم ترین تقرریوں کے حوالے سے کیا میرٹ ہے؟ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کہ حوالے سے ان کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟
کیا وہ اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے انصاف کر پائیں گے؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں