زاہد عباسی کی رحلت!

’گئے تم ایک مگر یوں کہ کر گئے تنہا
تمہارے ساتھ گئیں خوبیاں مقدر کی‘‘

زاہد حسین عباسی ایک تاریخ اور تحریک کا نام تھا، طویل بیماری کے بعد گذشتہ دنوں وفات پا گئے۔ اپنے ہونہار ،قابل اور انتہائی مہربان شفیق ملن سار فرزند عاصم زاہد عباسی اسلام آباد میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابسطہ ہیں۔مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب G-6/2 کی ارم کیفے کے ساتھ ایک چھوٹا سا پراپرٹی کا دفتر بنا تو ایک غیر مسلم ڈیوڈ (Rent ) کا کام کرتا تھا۔جس کے ساتھ عاصم زاہد عباسی نے پراپرٹی کا کاروبار شروع کیا تو پہلے مکان کی ڈیل ہونے پر مرحوم زاہد حسین عباسی نے مجھے بتایا کہ آج ’’عاصم ‘‘نے پہلا مکان کرایہ پر لگایا اور کاروبار کا آغاز کیا تھا۔اس دن زاہد صاحب بہت خوش ہوئے۔

مجھ سے سیاست ،علم ،تاریخ ،ادب اور شاعری پر بہت بات کرتے تھے۔مجھے کافی عرصے سے باقاعدہ کالم لکھنے کا اعزاز حاصل ہے جو کہ گذشتہ تقریباََ 11 سالوں سے ’’نوائے وقت‘‘ میں ’’من کی باتیں‘‘ کے عنوان سے تحریر کرتا ہوں۔الحمد اللہ آج تک تقریباََ 750 کالم صرف ’’نوائے وقت‘‘ کے لئے لکھ چکا ہوں۔ جس کی اب کتابی شکل بھی تیار کر رہا ہوں۔میرا پیشہ نہیں بلکہ شوق اور شناخت ہے چونکہ میرے والد محترم مرحوم محمد صفدر قریشی جو کہ ہوٹل ،ریسٹورنٹ اور بیکری کے کاروبار سے وابسطہ تھے ان کو لکھنے پڑھنے اور اخبار کے مطالعے کا شوق تھا۔سیاسی ،سماجی اور کاروباری شخصیت کے مالک تھے۔اللہ سبحان وتعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے،(آمین)۔

میرے مرحوم والد زاہد حسین عباسی اور ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ بہت قریبی تعلق تھااور پیر بھائی بھی تھے۔ڈافرے والے پیر صاحب حضرت بابا جی اور حضرت کاکا جی زراعت فارم والے ،ہمارا مشترکہ پیر ہیں۔میرے والد صاحب زاہد حسین عباسی کے دادا جان مرحوم گل احمد خان صاحب کے بارے میں اکثر ذکر کرتے تھے۔زاہد صاحب کے والد تایا جان،چچا جان مری میں ہمارے پاس اکثر آتے اور قیام کرتے تھے۔مرحوم نذیر صاحب اکثر مجھے میرے والد اور اپنے خاندان کے درینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔زاہد حسین عباسی شاید 1965 کے ایام میں اسلام آباد آگئے تھے۔فیڈرل گورنمنٹ کالج نمبر 1 کے بانی اور صدر تھے۔پھر مقیم احمد خان ،جبار مفتی اور ڈاکٹر بابر اعوان کے ساتھ بہت مراسم تھے۔G-6/2 کے مسجد دارالاسلام جہاں زاہد حسین عباسی کا جنازہ پڑھایا گیاوہاں ان کے اسکول کے ساتھ محمد طارق صاحب جو کہ CDA اور بحریہ ٹاؤن کے بلڈنگ کنٹرول کے ڈائریکٹر تھے۔آج کل بحریہ ٹائون سے وابسطہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسجد دارالسلام کے ملحقہ اسکول میں زاہد صاحب کے ساتھ پڑھتے تھے۔اسی مسجد کی جگہ احمدیہ جماعت خانہ تھا’’جو کہ مرزائیوں کا مرکز تھا‘‘ غالباََ 1970 کی دہائی میں زاہد حسین عباسی کی قیادت میں اس کو جلایا گیا اور ختم کیا گیا۔

آج وہاں مسجد قائم ہے۔جہاں مرحوم زاہد حسین عباسی کا جنازہ پڑھایا گیا،زاہد حسین عباسی کے دادا ٹھیکیدار گل احمد خان رئیسِ کشمیر تھے۔مہاراجہ ہری سنگھ کے دربار میں ان کی کرسی لگتی تھی۔جب مہاراجہ دھیر کوٹ سے نیلا بٹ ان کی رہائش گاہ آیا تو ان کے گھر قیام کیا۔گل احمد خان صاحب نے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کو حضرت بابا جی صاحب ڈافرے شریف کے پاس لے کر آئے تو سردار عبدالقیوم خان کلین شیو ایک ماڈریٹ نوجوان تھے۔جو روشن خیالی سے صوفی ازم اور روحانیت کی جانب حضرت پیر بابا جی سرکار کی وجہ سے آئے۔

اس میں مرحوم گل احمد خان کا بہت بڑا بنیادی کردار تھا۔23 اگست1947 کی تحریک بھی نیلا بٹ سے شروع ہوئی اور تحریک آغاز جہاد کیلئے جو تاریخ جلسہ نیلا بٹ کے مقام پر کی گیا اس کے دعوت نامے مرحوم زاہد عباسی کے والد مرحوم بابو عارف حسین عباسی سے اپنے ہاتھ سے لکھ کر تقسیم کرائے تھے۔کتنے عظیم الشان،تاریخ ساز شخصیت تھے۔اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس ادا کرے اور ان کی مغفرت کرے۔1958 کو ( KLM تحریک)کشمیر لبریشن موومنٹ کے تحت مجاہد اول سردار عبدالقیوم نے سیز فائر لائن کو توڑنے کا اعلان کیا اور تحریک کا آغاز کر دیا۔

سیز فائر لائن کی جانب مارچ کی، مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کو گرفتار کر کے راولپنڈی جیل کے Death سیل میں قید کر دیا اور بغاوت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ ٹھیکیدار گل احمد خان اپنے اور سردار عبدالقیوم خان کے مرشد حضرت بابا جی سرکار کے پاس گئے اور رونا شروع ہو گئے اور کہا کہ ایک ہی ہماری برادری میں سیاسی شخصیت تھے ۔نوجوان جدوجہد کر رہا تھا،اس کو پھانسی کی سزا ہو گئی۔حضرت بابا جی سرکار اردو بولتے تھے ،جلال میں کہا کہ ایسی کوئی گولی نہیں بنی جو کہ سردار عبدالقیوم کی جان لے۔

مزید پڑھیں:
مجاہد اول کے ساتھی کشمیری رہنماسردارزاہد عباسی نےتمام رازوں سے پردہ اٹھا دیا

وہ (مجاہد اول )آئے گا مگر ہم یعنی (سرکار حضرت بابا جی)نہ ہوں گے۔پھر ایسا ہی ہوا پاکستان کی مرکزی حکومت ختم ہوئی، مجاہد اول کی سزا بھی ختم ہوئی اور ان کو رہائی ملی،مگر حضرت بابا جی سرکار وصال کر گئے۔زاہد حسین عباسی کی زندگی اگر صرف ایک لفظ میں بیان کی جائے تو مجاہد اول سردار عبدالقیوم کے ’’دیوانے‘‘تھے ،عشق کی حد تک ان کی شخصیت سے پیار اور محبت کرتے تھے۔بلکہ راولپنڈی اسلام آباد میں زاہد حسین عباسی کی وجہ شہرت اور تعارف مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کی ذات ہی تھیں۔

زاہد حسین عباسی نے ’’تحریک علم و عمل‘‘ کے نام سے حصول علم کے لئے آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے تعلیم عام کرنے کی کوششوںکا آغاز کیا ۔زاہد حسین عباسی آزاد کشمیر کی غربت اور پسماندگی کے خاتمے کے لئے ’’ٹورازم‘‘کی پروموشن کے لئے بہت متحرک تھے۔ آزاد کشمیر کے دریائوں کو قدرتی خزانہ قرار دیتے تھے۔آزاد کشمیر کے نیل نگوں پانی کو عرب کے پیٹرول کا متبادل قرار دیتے تھے۔مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے اکثر انٹرویو ریکارڈ کرتے تھے۔اپنی جدوجہد پر کتاب بھی لکی۔ان کی سیاست کا آغاز اور انتہا سردار عبدالقیوم خان تھے۔
’’اللہ سبحان وتعالیٰ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘‘
’’بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘