ریاست۔نظریات و خیالات ۔۔

حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش پرتقریبات اور سمینارز کی بھر مار ہے۔ان سرگرمیوں کے زریعے کئی لوگ اپنے اپ کو قائد اعظم کا اصل مالک اور اصل وارث ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں۔یہ ایک بھیڑ ہے جس میں کان پڑی اواز سنائی نہیں دیتی۔اس بھیڑ میں اس شخص کی اصل شناخت، اصل شخصیت گم ہو گئی ہے۔کچھ لوگ اسے ملاں سے بڑا ملاں بنا کر پیش کر رہے ہیں جس نے مذہب کے نام پر ایک ملک تخلیق کیا۔کچھ اسے اسلامی تاریخ کا عظیم ہیرو اور مدبر قرار دیتے ہیں۔

بھانت بھانت کی بولی ہے جس میں ایک کمزور سی اواز ان لوگوں کی بھی ہے جو اپنے اارد گرد دیکھ کر ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کرتے ہیں کہ جناح صاحب دراصل ایک سیکولر ادمی تھے۔اس کا ہمارے پاس ثبوت گیارہ اگست والی تقریر تھی۔اس تقریر کی اڈیو کچھ عرصہ پہلے تک ال انڈیا ریڈیو کے پاس محفوظ تھی۔اب سنا ہے وہ اڈیو گم ہو گئی ہے۔پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان یہ بحث ستر سال سے جاری ہے اور انے والے کئی برسوں تک جاری رہے گی۔بہتر ہو گا کہ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح رحمتاللہ کو چین سے ان کی اخری ارام گاہ میں رہنے دیا جائے اور اس بات پر براہ راست بحث کر لی جائے کہ کیا کسی ریاست کا کوئی سرکاری مذہب ہو نا چاہیے یانہیں۔اس کھلی بحث کے بغیر ہمارے ہاں اس موضوع پر جو کنفیوزن پایا جاتا ہے وہ دور نہیں ہو سکتا۔اور اس طرھ ہم عملی طور پر ان حالات سے گزر رپے ہیں جن سے مغرب سترویں اور اٹھارویں صد ی میں گزراتھا۔مغرب میں ریاست سے مذہب کی علیحدگی محض اتفاقی امر نہیں تھا۔ ایسا چرچ اور ریاست کے درمیان طویل لڑائی کے بعد ہی ممکن ہوا۔ طویل مزاحمت کے بعد چرچ نے پسپائی اختیار کی۔ رفتہ رفتہ یہ ایک مسلمہ اصول بن گیا۔ چند استشناؤں کے علاوہ اس اصول کو وسیع پیمانے پر تسلیم کر لیا گیا۔۔

ریاست سے مذہب کی علیحدگی کا اصول اس حد تک پختہ ہو چکا ہے کہ اب اس اصول کی خلاف ورزی اسان نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں ریاست سے مذہب کی علیحدگی ایک انتہائی مشکل اور پچییدہ مسئلہ رہا ہے۔ حلانکہ بر صغیرمیں اس تصور کو بہت پہلے پزیرائی حاصل ہو چکی تھی۔ راجوں مہارجوں اورمغلیہ دور کے بعض حکمرانوں نے اس کے عملی مظاہرے بھی کیے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان تصورات کو دھچکا لگا۔ اور ہمارے سماج میں یہ اصول پورے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ ایسا کیوں ہوا؟۔ مختلف مکاتب فکر اس سوال کا الگ الگ جواب دیتے ہیں۔ لیکن اس دلیل میں وزن دیکھائی دیتا ہے کہ اس حوالے سے سائنس دانوں، دانشوروں ، ادیبوں، اور سیاست دانوں نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس سوال پر یہ لوگ کم ہمتی اور ڈھل مل یعقینی کا شکار رہے ہیں۔ ۔ اور اس حوالے سے مغرب کے سائنس دانوں، دانشوروں ، ادیبوں، اور سیاست دانوں کی طرح ایک دیانت دارانہ اور جان دار رول ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مغرب میں ان لوگوں نے جس جرت اور دلیری سے رجعت پسند قوتوں کے خلاف کھل کر بات کی اس کے بغیر ریاست اور سماج سے چرچ کی گرفت توڑنا آسان نہیں تھا۔

اس حوالے سے ڈارون نے کلیدی کردر ادا کیا۔ اس نابغہ روزگار سائنس دان نے عقیدہ پرستوں کے کھوکھلے تصورات کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔اس نے اس حوالے سے ایک باقاعدہ شعوری کردار ادا کیا۔ بطور سائنس دان اس نے ایک ایسے دانشور کا کردار ادا کیا جس کا باقاعدہ سیاسی ایجنڈا تھا۔طویل تجربے کے بعد ڈارون اس نتیجے پر پہنچاکے عقیدہ پرستی کے خلاف براہ راست گفتگوہ اور دلائل کا کوئی فاہدہ نہیں ہے۔ عوام اس سے کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔ لہذا حق اظہار رائے کو پھیلانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کے لوگوں کے شعور میں اضافہ کیا جائے جو سانئس کے علم کو عام کرنے سے ہی ممکن ہے۔ڈارون کا زمین کو ہلا دینے والا نشونما کا نظریہ اسکی اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔اس حوالے سے ڈارون کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ مگر بات ڈارون پر ہی ختم نہیں ہوتی۔مغرب میں سائنس دانوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے سائنسی علم کو سماجی اور نظریاتی شعور میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔اس اعتبار سے آہین سٹائین نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا۔اس نے پادریوں کے کھوکھلے دلائل کا بڑی خوبصورتی سے بھانڈا پھوڑا۔ اسنے کہا کے یہ لوگ محض خوف سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔ اس طرح نٹشے ، تھامس جیفرسن اور کرٹ وینگٹ اور آرتھر کلارک نے انتہائی طاقت ور دلائل سے پاپائیت کے خلاف طاقت ور دلائل دیے اور پادریوں کے پھیلائے ہو ئے کئی فکری مظاطوں کو صاف کیا۔

اس سلسلے میں برٹینڈرسل نے حیران کر دینے والی فصاحت اور بلاغت کا مظاہرہ کیا۔اس نے عقیدہ پرستی اور ظلم کے درمیان موجود تعلق سے پردہ اٹھایا۔اس نے واضع کیا کے عقیدے کی بنیاد خوف ہے۔موت کا خوف، شکست کا خوف اور پر اسرار چیزوں کا خوف۔خوف کی کھوکھ سے ظلم جنم لیتا ہے ۔ اسی لیے ظلم اور عقیدہ پرستی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔مگر یہ صرف مغربی دانشور اور سانئس دان ہی نہیں تھے جنہوں نے یہ شعوری لڑائی لڑی ۔ حقیقت میں مغرب کے سیاسی رہنماؤں نے اس حوالے سے ایک فیصلہ کن کردار دا کیا۔ابراہام لنکن کا نام ان میں سر فہرست ہے۔اس کے دور میں امریکی سماج آج کی نسبت کئی زیادہ قدامت پسند تھا۔ چرچ کی سماج پر گہری گرفت تھی۔مگر اس شخص نے کمال جرائت سے کام لیتے ہوئے اپنا مافی الغمیر بیان کیا۔اس نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بائبل میری کتاب اور عیسائیت میرا عقیدہ نہیں ہے۔اور میں عیسائی عقیدہ پرستوں کی طویل اور پچیدہ بیانات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔اس قدرقدامت پسند سماج میں عوام کے اس مقبول لیڈر نے اپنی مقبولیت کے زور پر زبردست دراڑیں ڈالیں۔ یہ ریاست کی مذہب سے علیحدگی کی طرف ایک حیرت انگیز چھلانگ تھی۔ (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں