syed-nazir-gilani

موسیٰ علیہ السلام کی امت کا اعتماد

یہودی قوم کی شعوری بیداری
کشمیری قوم کی خود فریبی

1979 کے بعد اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے خلاف پاس ہونے والی قرارداد مذمت نے سیاسیات عالم میں ایک نمایاں تبدیلی کی ابتداء کی ہے ۔

اسرائیل پہلی بار امریکی ویٹو کے بےجا اور یقینی بچاؤ سے محروم ہوا۔ اس قرارداد کے کامیابی کے ساتھ پاس ہونے سے ایک طرف موسیٰ علیہ السلام کی امت کا اعتماد ایک قابل تقلید مثال ہے اور دوسری طرف اس کا غرور اور فلسطینیوں کو بزور ظلم اور طاقت کے زیر کرنے کا نشہ قابل اعتراض اور قابل مذمت بھی ہے۔

دونوں واوین میں ہمارے لئے ایک روشن دلیل بھی ہے کہ شائید کشمیری قوم کی سست روی اور پسپائی کی خاص وجہ قوم کی خود فریبی نہ ہو ۔

اسرائیل کو قرارداد 2334 کے کامیاب ہونے سے دو بڑی مشکلات کا سامنا ہے ۔ یہ درج ذیل ہیں ۔

1. It condemned Jewish settlements in the occupied Palestinian territories as constituting a flagrant violation of international law.

2. It demanded that States “distinguish their relevant dealings, between the territory of the State of Israel and the territories, occupied since 1967”.

سیکیورٹی کونسل کے ایوان میں لمبےوقفے تک خوشی کے اظہار اور تل ابیب میں بے چینی اور شدید افسردگی کی اپنی اپنی جائیز وجوہات ہیں ۔

یہ۔قرارداد اسرائیل کے گلے میں خطرے کی گھنٹی اور پھانسی کا پھندا ہے۔ دو خطرات تو بالکل عیاں ہیں:

1. Prosecution at the International Criminal Court

2. States may impose sanctions against Israeli settlers and goods produced in the settlements.

اسرائیل کی پریشانی اور بوکھلاہٹ اس بات سے عیاں ہے کہ کرسمس کے تہوار کا لحاظ نہ رکھتے ہوئے اس نے اس تہوار کے دن اسرائیل مخالف قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالنے والے ممالک China, Egypt , Uruguay, Spain Japan, , Ukraine, France, Britain, Russia, Angola, کے سفراء کو وزیراعظم اسرائیلی نیتن یاہو نے ذاتی طور پر طلب کر کے احتجاج کیا اور دھمکی دی:

“Those who work with us will benefit because Israel has much to give to the countries of the world. But those who work against us will lose because there will be diplomatic and economic price for their actions against Israel”.

یہ امر قابل ذکر اور باعث صدافسوس بھی ہے کہ مصر جو ابتدائی طور پر اس قرار داد کا محرک تھا اسرائیل اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دباو کے سامنے ڈھیر ہوگیا اور قرارداد کی تحریک کے عمل سے پیچھے ہٹ گیا۔

البتہ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کی تاریخ نے ایک نئی کروٹ لی اور نیوزی لینڈ، سینیگال، وینزویلا اور ملائشیا نے اس قرار داد کو دوبارہ پیش کیا ۔ اور منظور کرایا ۔

اسرائیل کو امریکی سفیر کو بلا کر تنبیہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تاہم اس نے نیوزی لینڈ اور سینیگال سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ۔

کراسمس کے دن احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے بلائے گئے سفراء نے اس اقدام کو بہت ناپسند کیا ہے ۔۔برطانیہ کے سفیر نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ :

“What would they have said in Jerusalem if we summoned the Israeli ambassador on Yom Kippur”.

اسرائیل نے اپناسارا غصہ اوبامہ اور اس کی انتظامیہ پر نکالا ہے۔اور اس کا اظہار بھی کیا ہے:

“We have no doubt that Obama administration initiated it, stood behind it, coordinated it’s versions and insisted upon its passage”.

اسرائیل نے امریکہ کی پہلی دفعہ تبدیل کی گئی حکمت عملی کو اسرائیل کی پیٹھ میں چھرا گھومپنے کا اقدام قرار دیا ہے ۔

اسرائیل جو بھی دلیل پیش کرے یا جتنا بھی شورمچا ئے وہ عالمی سطح پر اٹھایا گیا یہ قدم اور جاگی ہوئی انسانیت کو اب روک نہیں سکتا ۔

اسرائیل کے خلاف منظور ہونے والی قرارداد کشمیری قوم کے لئے ایک گائیڈ لائن ہے اور ان کشمیریوں کے لئے ایک طمانچہ بھی جو اپنی ایک نسل کی قربانی دینے اور عزت و وقار کے تار تار کروانے سے فارغ ہونے کے دوسرے دن بعد ہی اقوام متحدہ کی قرار داد وں اور حق خودارادیت کو فرسودہ اور ناقابل حصول قرار دے رہے تھے ۔ فلسطینیوں نے ایسا کبھی نہیں کہا ۔

مفاد پرستوں کے اس ٹولے نے آوٹ آف بکس حل تلاش کرنے کی دکان سنبھال لی اور بالآخر اللہ کے غضب کی زد میں آکر شرم سار ہوئے ۔

بندوق کے بعد امن اور ڈائیلاگ کی دکانوں کے سودے سلف کے ساتھ ساتھ یہ لوگ مظفر آباد – سری نگر تجارت کے ٹرکوں پر بھی قابض ہو گئے ۔

وادی میں بھارتی افواج نے جوان نسل کو بینائی سے محروم کرنے کی بھرپور کاروائی کی اور پوری قوم کو کرفیو کے طویل اندھیرے میں قید رکھا اور اس پار ہم بے معانی دکھلاوے کے احتجاج کئے اور اپنے مقصد اور مفاد کی خاطر نمائشیں لگا تے رہے۔

بھارتی قابض افواج کے ساتھ ساتھ کشمیر یوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے جو اس قوم کے مجرم ہیں ۔ مجرموں کی اس فہرست میں دوست نما بے شمار پاکستانی بھی شامل رہے ہیں ۔

کشمیر ی قوم کو اسرائیل کے خلاف پاس ہونے والی قرارداد 2334 سے ایک سبق حاصل کرنا ہوگا ۔ مصر کی گبھراہٹ اور دوسرے ممالک کا رول بینلاقوامی سیاسیات کو سمجھنے کی ایک بڑی دلیل ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں