پولیس توجہ چاہتی ہے

اس وقت ملک میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن جاری ہے جس میں فوج ، سول آرمڈ فورسز ، انٹیلی جینس ایجنسیوں کیساتھ پولیس بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہیہے ۔ یہ عام حالات نہیں بلکہ جنگی ماحول ہے جس میں ان اداروں کے آفیسرز اور دیگر اہلکاران ہمہ وقت مصروف عمل نظر آتے ہیں ۔ ا ن کی عیدیں بھی یونیفارمز میں گزرتی ہیں اور تاریک راتوں میں ان کی آنکھ دفاع وطن کے لئے کھلی ہوتی ہے۔

جنرل راحیل شریف کے دور پر غور کریں کہ انہوں نے اپنے دور میں عیدین فیلڈ میں گزاریں ۔ وہ سانحات میں قوم کیساتھ رہے اور اپنی سیکورٹی کی پرواہ کئے بغیر آگے ر ہے جنرل راحیل شریف کا ایسا کرنا اپنی سپاہ کے مورال کو بلند کرنا تھا تا کہ سپاہ یہ جان لے کہ ان لمحات میں قیادت ان کیساتھ کھڑی ہے ۔ جنرل کیانی کے دور میں ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے جہاں اپنی فوج کے مورال کو بلند رکھا وہاں پولیس کے مورال کو بلند کرنے لئے پشاور میں ایک پولیس دربار سے بھی خطاب کیا ۔ مورال ایک جذباتی کیفیت کا نام ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتی ہے ، اس کے بڑھنے سے انسان میں کام کرنے کی صلاحیت اور لگن میں دوگنا اضافہ ہوتا ہے ، اس کی تعریف مختصر الفاظ میں یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ مورال میدان جنگ میں لڑائی کا ایک ایندھن ہے ۔

تمہید با لا ایک تناظر میں پیش کی گئی ۔ حال ہی میں فوج ، رینجرز ، فرنٹئیر کانسٹبلری اور پولیس میں تباد لہ جات ہوئے ہیں ۔ کراچی کے کور کمانڈر نہ صر ف پاکستان بلکہ د نیا کی ایک بڑی اور بہترین انٹیلی جینس ایجنسی ( آئی ایس آئی ) کے سربراہ کے طور پر چنے گئے اور ان کی جگہ ایک ہائی پروفائل جنرل کراچی کے کور کمانڈر بنا دئیے گئے ۔ اسی طرح کراچی رینجرز کے ڈی جی تبدیل ہو گئے اور انہیں بھی جی ایچ کیو سٹاف میں اعلیٰ عہدہ مل گیا ۔ ان کی الواداعی تقریب میں رینجرز کے جوانوں نے رقص کیا اور جوش جذبات میں اپنے کمانڈر کو کندھوں پر اٹھا لیا ۔ فرنٹئیر کانسٹبلری بلوچستان کے ڈی جی کو ترقی دیکر کور کمانڈر بنا دیا گیا اور ان کی الوداعی پارٹی بھی اپنے جوانوں کے جوش اور بلند مورال کا مظہر تھی لیکن صوبائی حکومت نے سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ، اگر چہ یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ خود چھٹی پر گئے ہیں لیکن قوم آج کل تھوڑی بیدار ہے اور بخوب سمجھتی ہے کہ ایک پولیس آفیسر کن حالات میں خود رخصت لیتا ہے ۔

اگرچہ پولیس گروپ میں کامریڈ شپ یا بھائی بندی (جسےمعروف اصطلاح میں “Esprit de corps” ) کہتے ہیں, اس طرح موجود نہ ہے جیسے فوج میں ہے لیکن پولیس والے بھی تو انسان ہیں ، جذبات رکھتے ہیں ، کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ اسی آپریشنل ایریا میں فوجی کمانڈر کس شان سے آ اور جا رہے ہیں اور ان کے کمانڈر ز کیساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے کیونکہ پچھلے عرصہ میں ایس ایس پی راؤ انوار کو بھی معطل کر دیا تھا جنہیں اگرچہ ایک انکوئری رپورٹ میں کلین چٹ مل گئی لیکن اس عرصہ میں وہ جس زہنی کرب سے گزرے ہیں ، اس کا ازالہ کون کرے گا ۔

امن و امان لے حوالے سے پولیس پر بھاری زمہ داریاں ہیں لیکن اس کو وہ مقام نہیں مل رہا جس کی وہ صحیح حقدار ہے حا لانکہ دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں ان کا خون بھی شامل ہے ۔ کسی سیاستدان یا وڈیرے کی بات نہ مانی تو وہ بڑے سے بڑے پولیس آفیسر کو بھی کھڈے لائن لگوا دیتا ہے ۔ چوک ؍ چوراہوں پر غنڈے پولیس والوں کی پٹائی کر دیں تو قانون حرکت میں نہیں آتا چونکہ مجرم با اثر ہوتے ہیں ۔ جبکہ کسی فوجی کیساتھ ایسا ہو جائے تو مجرم چاہے کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو اسے قانون کی گرفت میں لایا جاتا ہے ۔

میاں نواز شریف کے ایک سابقہ دور حکومت کی بات ہے جب ایک ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے اسلام آباد کے دامن کوہ کے علاقے میں فوج کے ایک حاضر سروس کرنل کو یرغمال بنانے کی کوشش کی جس پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کو جی ایچ کیو طلب کیا تھا اور آگے کیا ہوا ، مو ضوع سخن نہیں ۔ پولیس کلچر میں خرابیاں ضرور ہیں لیکن ان کو ٹھیک کرنے کی زمہ داری حکمرانوں پر ہو تی ہے اور اگر حکمران خود پولیس کو گھر کی لونڈی بنا دیں ، ماور ا ئے قانون ان سے کام لیں تو پھر اس پر پولیس کو معتوب ٹھہرانا درست نہیں ۔ ایک مثال بر محل ہے ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ لاہور میں ایک سیاسی ورکر کو کسی جرم میں پولیس اٹھا کر لے گئی لیکن چند ہی لمحوں بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب(جو اب اس دنیا میں نہیں ) خود تھانے پہنچ گئے اور اپنی ’’ للکار ‘‘ سے ملزم کو رہا کرا دیا ۔

پولیس نظام میں بہتری سے معاشرے میں بہتری آئیگی لیکن اگرسٹیٹ کو ہی برقرا رہا تو بہتری کی توقع کیسے کی جائے گی ۔ ہم پولیس کو اس کے رویے اور رشوت کلچر کی وجہ سے پسند نہیں کرتے لیکن دوسری طرف یہ دیکھیں کہ پبلک سیکٹر میں اس سے بڑھ کر کچھ ہو رہا ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ معزز کہلاتے ہیں ۔ بلوچستان کے ایک سابق سیکریٹری خزانہ کے گھر سے اتنی رقم برامد ہوتی ہے کہ رقم گننے والی مشین بھی جواب دے جاتی ہے لیکن وہ اس رقم کا عشر عشیر جمع کر ا کر ’’پاک ‘‘ ہو جاتا ہے ۔ حکومت کو چائیے کہ پولیس نظام کو بہتر کرے ، یاد رہے کہ یہ بھی ایک فورس ہے اس لئے ان کے مورال کا خاص خیال رکھا جائے اور اسی طرح باوقار بنایا جائے جیسے انگلینڈ پولیس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں