سردار علی شاہنواز نے پولی تھین کے استعمال پر پابندی کیلئے آواز بلند کردی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)ماہرین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولی تھین کے استعمال پر پابندی لگاتے ہوئے کپڑے کی تھیلیوں کو مارکیٹ میں لانے کیلئے کردار ادا کرے۔ دوسری طرف ماحولیات کے بچاو اور زمینوں کے بنجر ہونے کے خدشے کے تحت ناروے کی حکومت نے پلاسٹک شاپر کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے، نئی قیمتوں کے مطابق جو شاپر آدھے کروان کا خریدا جاتا تھا اس کی قیمت اب دو کراون تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہم جلد ہی متبادل مہیا کر کے پولی تھین یعنی پلاسٹک شاپر سے جان چھڑا لیں گے۔

کشمیر سکینڈے نیوین کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسرادر علی شاہنواز خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور آزادکشمیر کی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پلاسٹک شاپر کا متبادل لائیں اور ان کے استعمال پر پابندی لگا دیں۔ سردار علی شاہنواز خان نے کہا کہ ناروے حکومت نے پولی تھین کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ کر کے پلاسٹک شاپنگ بیگ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی ہے۔یہ اقدام قابل ستائش ہے۔

علی شاہنواز خان کا کہنا ہے کہ شاپنگ بیگ کے طور پر استعمال ہونے والا یہ پلاسٹک ایک پولیمر ہے جو کہ ایک یا مختلف کیمیائی اجزاء سے مل کرتیار کیا جاتا ہے۔پلاسٹک کی عموماً دو اقسام استعمال کی جاتی ہیں، جن میں سے ایک قدرتی ہے، جو درختوں اور جانوروں سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پلاسٹک کی دوسری قسم لیبارٹری یا فیکٹری میں تیار کی جاتی ہے۔قدرتی پولیمر کی پہلی قسم کے دائرے میں نشاستہ یا اسٹارچ اور سیلولوس، جبکہ دوسری قسم میں پروٹین شامل ہے، جس میں لکڑی، ریشم، چمڑا وغیرہ آتے ہیں۔ قدرتی پولیمر کی تیسری وہ قسم ہے جس میں ڈی این اے اور آر این اے آتے ہیں، جو ہمارے نشوونما کے ضامن ہیں مصنوعی پولیمر دراصل لیبارٹریز میں تیار کیا جانے والا پلاسٹک ہے۔سردار علی شاہنواز خان نے پلاسٹک شاپر کے نقصانات کو دیکھتے ہوئے ہی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شاپر پر پابندی لگائے اور کپڑے کی تھیلیوں کو عام کرنے میں پرائیویٹ سیکٹر کی معاونت کرے۔

دوسری طرف سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”پلاسٹک کے شاپنگ بیگز میں ایک ایسا خطرناک کیمیکل پایا جاتا ہے جو خواتین میں ایک بیماری پیدا کرتا ہے جس سے ان کے ہاں قبل از وقت بچے پیدا ہونے لگتے ہیں، اور قبل از وقت پیدائش بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس کے علاوہ ایسے بچے ذہنی و جسمانی معذوری کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔“ یہ تحقیق ٹیکساس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ حاملہ خواتین پلاسٹک کے شاپنگ بیگز کا جتنا زیادہ استعمال کرتی ہیں ان کے ہاں بچے کے قبل از وقت پیدا ہونے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہو جاتے ہیں۔سائنسدانوں کا مزید کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگز کی وجہ سے زمین کی زرخیذی بھی متاثر ہوتی ہے جس سے سبزیوں اور فصلوں کی پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔