syed-nazir-gilani

کشمیر

امریکہ کی کشمیر میں منتظم برائے رائے شماری بننے کی خواہش

امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے امریکہ کے اقوام متحدہ میں مندوب ایمبیسڈر Warren Austin کو 26اپریل 1948 کو بھیجے گئے Confidential برقئے میں کشمیر کی رائے شماری کے لئے Plebiscite Administrator کی کوالیفیکیشن کی وضاحت کی ہے ۔

اس وضاحت کے مطابق:

“Dept considers that Kashmir Plebiscite Administrator must be man of outstanding qualifications with established reputation India and Pakistan”.

اس برقئے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ Kashmir Plebiscite Administrator کی امید واری میں دلچسپی رکھتا تھا ۔

رائے شماری کے ایڈمنسٹریٹر کی امیدواری کے سلسلے میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس ٹیلیگرام میں لکھتا ہے:

“In view delicacy Brit position designation Brit national probably impracticable. Dept is therefore willing have US national designated Plebiscite Administrator.”

اتنا ہی نہیں امریکہ کمیشن کی رکنیت میں بھی برابر کی دلچسپی رکھتا تھا ۔اس دوہری دلچسپی کا اظہار اس طرح کیا گیا ہے:

“Dept does not consider it desirable for US national to serve as Plebiscite Administrator and for US to serve also as Commission member. However, if US is chosen Commission member pursuant to para 4, it may be necessary for US fill both posts”.

اقوام متحدہ میں فلسطین اور کشمیر دو تصفیہ طلب معاملات ہیں ۔ کشمیر Equality اور Self-Determination کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصول سے متعلق ایک معاملہ ہے اور اس کے حل کیلئے اقوام متحدہ نے ایک میکانزم ترتیب دیا ہے ۔

اقوام متحدہ نے بھارت اور پاکستان کو فریق تسلیم کیا ہے اور ان کے Respective claims ہیں۔ جب کہ Principality کشمیریوں کے title to self determination کو حاصل ہے ۔

بدلتے حالات میں ضروری ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر میں تاریخی امریکی رول کو اقوام متحدہ کے علاوہ امریکی عوام اور ان کے تھنک ٹینکس تک پہنچا ئیں۔ کشمیریات کی صحیح سمجھ کے بغیر قضیہ کشمیر کے ساتھ وابستگی بے مقصد اور نقصان دہ ہے ۔

اسرائیل کے خلاف سیکیورٹی کونسل کی قرارداد اور امریکی رول کے بعد ہمارے حوصلے بلند ہوئے چاہیں ۔

پاکستان اقوام متحدہ کا رکن ملک بھی ہے اور مسئلہ کشمیر میں فریق بھی ۔ پاکستان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت میں مدد اور وکالت کے لئے کشمیریوں کے ساتھ ایک آئینی معاہدہ بھی کیا ہے ۔

ضروری ہے کہ اسلام آباد اور مظفرآباد قضیہ کشمیر کے تمام حوالوں کا از سر نو جائزہ لیں اور کشمیر پر کام کرنے والے ملک کے اندر اور ملک کے باہر ماہرین اور دوسرے مکاتب فکر کی input کو یقینی بنائیں ۔

مسئلہ کشمیر کو سائینسی بنیادوں پر address کرنے کی کوشش میں تاخیر کی موجودہ روش بدلنے کی ضرورت ہے۔ سرینگر ، مظفرآباد، گلگت ‘ پاکستان میں آباد مہاجرین کشمیری اور Kashmiri Diaspora اور دیگر متعلقین کی بھرپور شرکت اور حمائیت نا گزیر ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں