آگہی/عمرفاروق

مولاناسمیع الحق ایک روشن چراغ جو ہمیشہ کےلئے بجھ گیا

مولاناسمیع الحق قیادت وسیادت،صحافت وخطابت، خوداعتمادی وخودداری،سوز دروں و درد فزوں کے ساتھ ساتھ مجاہدانہ کردار اور حوصلہ مندانہ عزم واستقلال جیسے بیش بہا کمالات وامتیازات کے مالک تھے۔مولاناسمیع الحق تنہا ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل انجمن تھے ،ان کا جسد خاکی جن عناصر سے تشکیل پایاتھا ان میں قیادت و سیادت کی آمیزش بھی تھی اور علم وعمل کا امتزاج بھی،زبان و بیان کی طغیانی بھی تھی اور ادب وصحافت کی جولانی بھی،حب الہی اور عشق نبی کی آتش سوزاں بھی تھی اور اس میں جل کر خاکستر ہو جانے کا حوصلہ بھی۔

آپ کے آبائواجدادسلطان محمودغزنوی کے ساتھ جہاد کے سلسلہ میں ہندوستان تشریف لائے تھے، اور پھراکوڑہ خٹک میں مستقل سکونت اختیارکرلی۔ جامعہ حقانیہ کویہ اعزازحاصل ہے کہ علم ،سیاست اورجہادتینوں شعبے ورثے میں ملے تھے اورجامعہ حقانیہ نے ان تین شعبوں میں بھرپورکام کیا مولاناسمیع الحق کی زندگی بھی علم ،سیاست اورجہادسے مزین تھی ،مولاناسمیع الحق جہاں ایک عظیم دانشور ،ہوش مند لیڈر،بلند پایہ خطیب اور سحر انگیز انشا پرداز تھے ،وہیں ایک صاحب طرز ادیب،ایک درمند انسان اور ایک عاشق سرگشتہ بھی تھے ۔

اللہ تعالی نے انھیں وہ تمام صلاحیتیں اورکمالات بدرجہ اتم عطا فرمائے تھے جو ایک قومی درجے کے بلند پایہ رہنما کے لیے لازم و ضروری ہوتے ہیں، ان میں خلوص کا بحر بیکراں موجزن رہتا تھا، خطابت کی جادوگری ہو یا صحافت کی سحر آفرینی وہ ہر میدان کے مرد میدان تھے ، ان کی شخصیت میں دلآویزی کے ساتھ ساتھ پارے کی سیمابی اور بجلی کی بے تابی بھی بخوبی تھی ان میں ایک منفرد قلندرانہ شان تھی کہ انھوں نے کبھی بات کہنے میں کسی کی پروا نہ کی۔

مولاناکی ایک عادت تھی کہ جوبھی مہمان ان سے ملنے جاتاتووہ مہمانوں کوجامعہ حقانیہ دکھائے بغیرواپس نہیں جانے دیتے تھے بسااوقات یہ بھی ہوتاکہ اگرکلاس کاوقت ہے تومولانامہما ن کودورہ حدیث کی کلا س میں لے جاتے اورمہمان کودرس میں شامل کرتے پھرمہمان کاطلباء سے تعارف کرواتے،آپ کاسبق پڑھانے کا اندازعام فہم اور سلیس تھا ۔ آپ کی تقریر میںتکرار نہیںہوتی۔ بلکہ ایک بہتے دریا کی طرح رواں دواںہوتی تھی۔ آپ درس میں ترقی سائنس سے پیداشدہ مسائل، جدیدسیاسی صورت حال کاجائزہ، جدید معاشی نظام کا نشیب وفراز، نئے فتنوںکے عزائم، استعماری طاقتوں ،یہودوہنود کے مذموم منصوبو، عالم اسلام کودرپیش مسائل اورپھر قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا حل خصوصیت کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ جس کا اندازہ زیرنظردرس افادات سے لگایاجاسکتاہے۔ دورہ حدیث کی کلاس سے باہرنکلیں توفضلاء جامعہ حقانیہ کی فہرست بھی دیکھنے کوملتی ہے ۔

آپ کے تلامذہ کی فہرست دیکھی جائے توتین درجن سے زائدایسے رہنماء شامل ہیں جوممبرقومی ،صوبائی اسمبلی اورسینٹ کے رکن رہے ہیں اورانہوں نے ملکی سیاست میں اہم کرداراداکیاہے بعض رہنماء وفاقی وصوبائی وزاراء بھی رہے آپ کے والدبزرگوارمولاناعبدالحق ممبرقومی اسمبلی ، مولاناسمیع الحق دومرتبہ سینٹ کے رکن اورآپ کے صاحبزادے مولاناحامدالحق رکن قومی اسمبلی رہے ہیں ،

آپ نے اپنے والدمولاناعبدالحق کی سیاسی مہم میں بھرپورکرداراداکیا جنرل محمدضیا الحق مرحوم کے دورِ مارشل لا میں آپ کو وفاقی مجلس شوری کاممبر نامزدکیاگیا ۔تو زکو وعشر، حدود، قصاص ودیت اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کانفاذ اورآئین میں بے شمار اسلامی شقوں اور دفعات کا شمول آپ ہی کی شبانہ روز جدوجہد کی بدولت ممکن ہوسکا ۔اور جب 1985ء میںسینٹ آف پاکستان کے آپ ممبر بنے۔ توآٹھ سال کی طویل تاریخی جدوجہدکے بعدسینٹ سے شریعت بل منظورکروایا۔ 1977ء میں جب تحریک نظام مصطفی شروع ہوئی۔ تو اس میںبھی آپ نے قائدانہ کرداراداکیا۔ جس کی پاداش میںآپ نے ہری پورجیل میںقیدوبند کی صعوبتیں خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔

زمانہ آپ کی شہادت سے ایک عالم ہی نہیں بلکہ سلف کی روایات کے امین بلند پایہ ادیب امن کے خیر خواہ سے بھی محروم ہو گیا۔ آپ کا تفسیری ذوق بہت اعلی تھا بیسیوں تفاسیر مطالعہ میں رہیں جس کااثر آپ کے خطبات میں نظر آتا تھا۔ آپ کا ادب کے ساتھ شغف قابل دید تھا۔ مطالعہ ایسا کہ علم کے سمندر کے سمندر پی گئے تھے۔ حالات حاضرہ، سیاست سمیت دیگر موضوعات پر بیسیوں کتابوں کا مطالعہ فرمایا۔ وسیع المطالعہ ہونے کے باوجود آخری وقت تک مطالعہ کو جاری رکھا۔آپ نے اپنے عظیم والدکی میراث کا تحفظ کرتے ہوئے دینی تعلیمات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ علم کے میدان میں تحقیق آپ کا شیوہ رہا۔ اسلام کے خلاف تہذیبی خلفشار کا انتہائی جواں مردی سے مقابلہ کیا۔

جہادِ افغانستان اورتحریک طالبان میںحضرت مولانا سمیع الحق صاحب کاکلیدی کردار کسی پر مخفی نہیں کہ انہوں نے اس جہاد میں قائدانہ کرادار اداکیا۔ اس لئے کہ تحریک طالبان میں شامل طلبا اور ان کے قائدین کے آپ نہ صرف مربی ہیں۔بلکہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم کی حیثیت سے ہزاروں کی تعدادمیں علما اور طالبان لیڈر آپ کے براہ راست شاگردہیں۔جامعہ حقانیہ کے درجنوں فضلاء افغان طالبا ن کی شوری کے رکن تھے اورہیں ۔

جن میں مولاناعبدالکبیرحقانی گورنر جلال آباد ومعاون سرپرست شوری عالی افغانستان، مولانا سعید الرحمن حقانی پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر،معاون وزیرفوائدعامہ”مواصلات وتعمیرات”، مولانااحمداللہ حقانی وزیر ”مواصلات وتعمیرات”مولاناسیدغیاث الدین حقانی وزیراوقاف، مولانامسلم حقانی معاون وزیرحج، مولاناعبداللطیف حقانی وزیرزراعت، مولانا عبدالرقیب حقانی وزیرشہدا صالحین، مولاناحفیظ اللہ حقانی سیکرٹری خارجہ و وزیر منصوبہ بندی، مولاناحاجی احمدجان حقانی وزیرپانی وبجلی، مولاناصدراعظم حقانی نائب گورنرجلال آباد، مولانانورمحمدثاقب حقانی چیف جسٹس سپریم کورٹ آف افغانستان، اور دیگربے شمارتحریک طالبان اورجہادافغانستان کے قائدین بھی آپ کے تلامذہ کی فہرست میں شامل ہیں۔

چندسال قبل جب امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیاتوآپ نے”دفاع افغانستان وپاکستان کونسل” قائم کی جس کے تادم شہادت آپ سربراہ رہے مولاناسمیع الحق افغانستان اورتحریک طالبان کے حوالے سے ایک ٹھوس موقف رکھتے تھے جس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ہوتی تھی یہی وجہ ہے کہ غیرملکی صحافیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ جب بھی پاکستان آئیں تومولاناسمیع الحق کاانٹرویوضرورکریں

غیرملکی صحافی جب تک مولاناسے ملتے نہ تھے اس وقت تک انہیں ایک ڈراورخوف رہتاتھا لیکن مولاناسے ملاقات کے بعدان صحافیوں کے خیالات یکسرمختلف ہوتے تھے چندسال قبل ایک جرمن خاتون صحافی کے ساتھ جامعہ حقانیہ میں حاضری ہوئی توہم نے مولاناسمیع الحق کے ساتھ ایک دسترخوان پرساتھ بیٹھ کرکھاناکھایاتوواپسی وہ خاتون فادرآف طالبان کے اس طرزعمل حیران تھی اوربارباراس کاتذکرہ کرتی رہی ۔

آپ علمی وتحقیقی میدان کے شہسوارتھے آپ روایتی سیاست سے بالکل ناآشناتھے اس لیے آپ سیاستدان کم اورمحقق عالم زیاد ہ تھے ، اگرچہ آپ طویل عرصہ پارلیمنٹ کی راہداریوں میں رہے مگرسیاست کی گرد آپ کے کردارکوآلوہ نہ کرسکی، آپ نے اپنی سیاسی زندگی میں بے شمار تحریکوں کی بنیادرکھی اورکامیابیاں حاصل کیں، اسلامی جمہوری اتحاد آپ نے قائم کیا جس میں نوسیاسی ومذہبی جماعتیں شامل ہوئیں۔ اورمتفقہ طورپرآپ کو اس اتحادکاسنیئرنائب صدرمنتخب کیاگیا۔ 1988ء متحدہ علما کونسل کے پلیٹ فارم پرتمام مکاتب فکر کے علما اوراکابرین کوجمع کیا۔ 1993”متحدہ دینی محاذ کی تشکیل دیا۔

یکم جنوری 1995ء کوتمام مکاتیب فکر کے علما اور ارباب مدارس کو جمع کرکے”تحریک تحفظ مدارسِ دینیہ” قائم کی۔ ملک عزیز میں فرقہ واریت کی آگ بھڑک اٹھی۔ اور حکومتی سطح پر امریکہ کے نیوورلڈآرڈر کی تکمیل کی سازشیں شروع ہوئیں۔تواس نازک وقت میںآپ ہی نے تمام سیاسی اورمذہبی جماعتوںکوایک پلیٹ فارم پرجمع کرکے1996ء میں”ملی یکجہتی کونسل”قائم کی۔

سیاست ،جامعہ کی انتظامی ذمے داریوں ،تدریس اوردیگرمشغولیت کے باوجود تصنیف وتالیف کاکام کیا اور30سے زائدکتابیں تحریرکیں جن میں بعض کتابیں چھ سے سات جلدوں پربھی مشتمل ہیں اوراسی تصنیف وتالیف اورریسرچ کیلئے آپ نے جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں شعبہ مئوتمرالمصنفین کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔ماہنامہ الحق کے جانداراداریے آپ کاعظیم شاہکارہیں ۔

مولانااان چنددینی وسیاسی رہنمائوں میں شامل تھے جواپنابیان اورپریس ریلیزخودلکھواتے تھے اورہم جیسے صحافی مولاناکی پریس ریلیزآنکھیں بندکرکے چلادیتے تھے اورمزے کی بات یہ ہے کہ مولانااپنی پریس ریلیزکے آخرمیں خبربھی دے جاتے تھے اپناموبائل خوداٹھاتے تھے اورہرایک سے بات کرتے تھے ۔ہرایک سے اپنائیت سے ملتے تھے ،وہ حقیقی معنوں میں مردمومن مردحق تھے ۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے