وادی نیلم اور گریس کی حالت زار

وادی نیلم کشمیر کی ایک خوبصورت ترین وادی ہے۔ٹھنڈی آب و ہوا۔ خوبصورت پہاڑ، بہتے چشمے، سرسبز و شاداب درخت،آلودگی سے پاک و صاف فضاخلق خدا کو تخلیق کائنات کا پیغام دی رہی ہے۔وادی کے چشموں کی بات اگر کروں تو انکی مٹھاس اور زائقہ کو شیریں اور شبنم سے تشبیہ دینا میںفخر محسوس کرتا ہوں۔وادی نیلم کا آغاز چلہانہ سے شروع ہوتا ہے اور تاوبٹ گریس تک دریا نیلم کے کنارے کنارے دلکش نظاروں کی وادی ہے۔

وادی نیلم زمینی نوعیت کے اعتبار سے کافی مشکل اور پھیلی ہوئی وادی ہے۔وادی کوتین بڑے حصوں میں چلہانہ سے آٹھمقام ، آٹھمقام سے کیل اور پھر کیل سے تاوبٹ دیکھا جائے تو تینوں حصو ں کی اپنی الگ زمینی نوعیت پائی جاتی ہے۔ان تنیوں حصوں میں گریس جو کہ کیل سے تاوبٹ تک کا ٹکڑا ہے آبادی کے لحاظ سے کافی گنجان ہے۔

یہاں قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ کافی مقدار میں سر سبز و شاداب جنگلات بھی پائے جاتے ہیں۔ٹوریسٹ کے حوالے سے ایک خوبصورت حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ 1947 ؁ء سے لیکر ابھی تک گریس اور وادی نیلم سے کافی مقدار میں قدرتی وسائل(لکڑی،قیمتی جڑی بوٹی،قیمتی پتھر وغیرہ) سے نہ صرف پورا آزاد کشمیر مستفید ہورہاہے بلکہ پاکستان کے تمام صوبے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

گریس میں مختلف زبانیں (کشمیری، شینا ، گوجری اور ہندکو)بولی جاتی ہیں۔لوگوں کے زرائع آمدن کھیتی باڑی، گھریلو دستکاری اور ملازمت ہے۔گریس کی کثیر تعداد نوجوان پاکستان آرمی میں اپنی عسکری خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ایک اچھی تعداد نے ملکی دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا اور جام شہادت نوش فرمائی ہے۔ گریس آزاد کشمیر کا سب سے دور دراز اور انتہائی پسمندہ علاقہ ہے۔ یہاں تقریباً 4-5 ماہ شدید برف باری کی وجہ سے روڈ بلاک رہتی ہے ۔

بدقسمتی سے گریس کے لوگ اس دور جدید میں بھی کسم پرُسی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔جہاں طبی سہولیات کا فقدان، تعلیمی اداروں کی کمی اور موجود تعلیمی اداروںمیں جدید تعلیمی سہولیات کا نہ ہونا ، روڈ کی حالت زار، اگر ان تمام مشکلات پر قلم اٹھایا جائے تو ہر آنکھ اشک بار ہوگی ، ہر زخم درد زہ ہوگا، زخموں پر لگا مرہم تازہ لہوبھائے گااور ستم ظریفی سہنے والے اپنوں کی تلاش میں پھر سے ذہنی مریض بن جائیں گے۔

در در ٹھوکریں کھا کر اپنوں کی لیے جمع پونجی لیکر جاتے ہوئے خستہ حالت روڈ پر ملاقات کے خواب ادھورے چھوڑجاتے ہیں۔باپ اپنی لخت جگر کے ہاتھوں کی مہندی دیکھ نہیں پاتا، نوجوان اپنے مستقبل سنوارنے کی تمنا ہی چھوڑ جاتے ہیں۔بیماردوران سفر ہی زندگی کی سانس کھو بیھٹتا ہے۔

گریس کی حالت زار پر تبصرہ کرنا اتنا آسان نہیں۔ہر لمحہ درد ہی درد ، آنسوں ہی آنسوں ملتے ہیں۔گریس کا دور دراز ہونے کی وجہ سے سیاسی عمائدین کا آنا جانا بہت کم رہتا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ وہاں موجود لوگ بھی اپنی حالت زار کو لیکر ایوانوں میں نہیں پہنچا پاتے ہے جو اس علاقے کی پسمندگی کی وجوہات ہیں۔ گریس سے کیل تک مسلسل 4 گھنٹے گاڑی پر زندگی اور موت کی جنگ لڑتے سفر کرنے کے بعد کیل پہنچ پاتا ہے۔

نیلم گریس میں اتنی آبادی ہونے کے باوجود وہاں ایک ہسپتال کا بھی نہ ہونا، سپیشلیسٹ کی عدم تعیناتی اور تو اور میڈیکل آفیسر کا بھی نہ ہونا جہاں ایک لمحہ فکریہ ہے وہاں اشرف المخلوقات کے ساتھ ایک مذاق کرنے کے مترادف ہے۔

ایک دو نام نہاد BHU جن میں نہ دوائی، نہ ڈاکٹرز نہ سٹاف !کون مسیحا بنے اس پستی کا۔مریض کے بیمار ہونے پر اسے اس حال میں چھوڑا جاتا ہے کہ وہ کسی طرح اپنی سانسیں پوری کرے ،اپنے اقرباء کے سامنے تڑپ تڑپ کر موت کی کشمکش میں رکھا جاتا ہے۔۔۔۔اور کر بھی کیا سکتے ہیںنہ راستہ ہوتا ہے نہ دوائی ہوتی ہے نہ ماہر ڈاکٹرز ہوتے ہیں تو پھر دعاوں کے مرہون منت ہی چھوڑا جاتا ہے۔پاکستان آرمی کی جانب سے مفلوجی کی اس حالت زار پر خدمات قابل تحسین ہیںجو مشکل حالات کے باوجود فرسٹ ایڈ دیتے ہیں اور اپنے سورس پر ہیلی کواپٹرکے زریعہ مریض کو منتقل کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہیں۔ہزاروں اولادیں ماوں کی دوران زچگی شہادت پر ممتا سے محروم ہوئے ہیں۔زندگی کے لیے بوند بوند کو ترستے ہیں۔

وقت حاضر میں جہاں الیکڑانک میڈیا، پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا معاشرے میں اپنا پورا کردار کرتے ہیں۔ وہاں گریس جیسے علاقے کی حالت زار کی تصویر کشی کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ ایوانوں تک اس آواز کو پہنچانے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ریاست کے اسی ستون کی وساطت سے گریس کی پسی ہوئی عوام کی یہ آواز کہ ہمارا قصور کیاہے ! اس دور جدید میں گریس میں میڈیکل سہولیات میسرنہیں، میڈیکل آفیسر ، گائینی کالوجسٹ نہیں، ادویات کا نام و نشان نہیں، مریض کی ترسیل کے لئے ایمبولینس نہیں،کسی مریض کے اپریشن کی ضرورت پڑھے تو موت و زندگی کی کشمکش پر چھوڑا جاتا ہے، روڈ کی یہ حالت کہ موت کا نوالہ لیے منتظر ہے، آخر کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔

1947 سے لیکر ابھی تک بہت سے سیاسی رہنماوں نے اعلانات کیے ، وعدے کیے ، یقین دہانی کرائی ، لیکن ابھی تک گریس اسی کسم پرسی میں زندگی بسر کر رہا ہے۔کچھ عرصہ پہلے عزت مآب وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ گریس میں ایک ہسپتال بنایا جائے گا اور سردیوں کے موسم میں ائیر ایمبولینس بھی مہیہ کی جائے گی جس کا عوام علاقہ مشکور ہے اور ترستی آنکھوں سے منتظر ہیں کہ کب اس ہسپتال کا کام شروع ہو گا اور آنے والی سردیوں کے موسم میں ائیر ایمبولنس کا آغاز ہوگا۔

نیلم کی روڈ کا کام کسی حد تک مظفر آباد سے کیل تک تو کیا گیا ہے لیکن دل شکستہ ہیں کہ کیل سے تاوبٹ تک کب روڈ بنانے کی باری آئے ۔جب بھی روڈ پر کام کیا جاتا ہے تو کیل تک ہی بجٹ پورا ہو جاتا ہے ،گریس کی عوا م اخبارات اور خبروں میں روڈ کا کام سن سکتی ہے لیکن ترستی آنکھوں سے نہ تو ابھی تک دیکھ سکی ہے اور نہ سفر کر سکی ہے۔قائد کشمیر جناب راجہ فاروق حیدر خان صاحب سے عوام گریس کی پر زور اپیل ہے کہ ہمارے حال پر رحم فرماتے ہوئے تاوبٹ سے کیل روڈ کو کشادہ کروائی جائے اور عوام علاقہ گریس کی زندگیوں کو آسان بنانے میں مدد کی جائے۔۔