قومی احتساب بیورو، قابل تعریف کارکردگی

تیری رحمتوں کا نزول ہو…مجھے محنتوں کا صلہ ملے
مجھے مال و زر کی حوس نہ ہو…مجھےبس تورزق حلال دے

احتساب سب کے لئے اور سب کا ،پاکستان میں ہمیشہ سے کہا گیا کہ احتساب سیل نیب یا پھر بدعنوانی ،اقراء پروری کے خلاف کوئی بھی حکومتی ادارہ بنا اس کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان رہی ہے۔ سیاسی اور جمہوری حکومت ہو ،امریت کے زیر سایہ حکومت ہو یا پھر مارشل کا دور ہو۔ ہمیشہ کہا گیا کہ سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لئے ایسے ادارے بنتے ہیں۔گذشتہ دنوں میڈیا پر تقریباََ تمام سیاسی جماعتوں کے قابل ذکر مرکزی راہنمائوں جس میں پانچ سابق وزیراعظم اور وفاقی وزراء بھی شامل ہیں،71 لوگوں کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے، اس میں حکمران بھی شامل ہیں۔ قومی اسمبلی میں بھی قائد حزب اختلاف جناب شہباز شریف پروڈکشن آرڈر پر آئے اور صرف اپنی ذاتی کیس اور نیب کے خلاف تقریر کرتے رہے۔

اپنے خطاب میں کہا کہ صاف پانی پروجیکٹ میں 56 کمپنیوں کے حوالے سے 25 سالہ پرانا معاملہ آج نیب کو نظر آیا، مگر جناب عزت مآب شہباز شریف صاحب تقریباََ 10 سال سے پنجاب میں آپ کی حکومت تھی اور 10 سال قبل کا جنرل مشرف کا دور 12 اکتوبر1999 سے2008 تک کو نکال کر اس سے قبل بھی پنجاب میں آپ کی حکومت تھی۔ جس دور میں نہ تھے اس میں آپ ہی بڑی پارٹی میں تھے،سچ تو یہ ہے کہ نظر تو آپ کو بھی نہ آیا۔بات چونکہ نیب کی ہو رہی ہے تو آج کل جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی بہت اعلیٰ اور نمایاں رہی اب چونکہ عدلیہ سے تعلق والے قانون سے آگاہی اور علم رکھنے والے سپریم کورٹ کے سینئر جج صاحب کی قیادت میں نیب کی وجہ سے اندرون ملک اور بیرون دنیا میں پاکستان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان میں کرپشن کے خلاف اقدامات سے شفاف پاکستان کی جانب ایک قدم ہے۔

پاکستان کی عوام نے بھی نیب کی کارکردگی پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔’’ Accountability for All ‘‘ کے سلوگن سے قومی احتساب بیورو جناب جسٹس جاوید اقبال چیئر مین نیب کی قیادت میں پاکستان سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑنے اور لوٹی ہوئی دولت کو برآمد کر کے ملزمان کو بلا امتیاز قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔اس حوالے سے جو سروے گیلانی ریسرچ فائونڈیشن کے تحت گیلپ انٹرنیشنل سے منسلک ادارے کی جانب سے 8 تا 15 اکتوبر 2018 کو پاکستان کے چاروں صوبوں کی شہری اور دیہی آبادی کے 1523 مردوخواتین سے کئے جانے والے سروے کے مطابق 59 فیصد نے نیب کی حالیہ کارکردگی پراعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نیب کی بہتر اور موثر کارکردگی سے پاکستان میں کرپشن کرنے کا تناسب کم ہوا ہے۔پاکستان دنیا میں کرپشن کے حوالے سے 140 نمبر پر تھا جو کہ اب کرپشن کے کم ہونے سے 107 نمبر پر آ گیا ۔نیب کے موجودہ چیئر مین جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں صرف 12 ماہ میں بد عنوان عناصر سے 2580 ملین کی لوٹی رقوم برآمدگی ہوئی،503 افراد کی گرفتاری ہوئی اور440 ریفرنس دائر ہوئے۔کارکردگی کو جدت دینے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈیجیٹل فارنسک لیب کا قیام،نیب کی کارکردگی بہت بہتر ہے۔آج پوری پاکستان میں نیب کی کارکردگی بہتر ہوئی ۔عوام الناس فراڈ،بدعنوانی کرپشن کے خلاف بلا خوف نیب میں جاتے ہیں۔یقینااس میں بہت کمی ہو ئی ہو گی مگر قانون سازی کی ضرورت ہے۔نیب کی پراسیکیوشن میں کمی ہوئی ہو گی ،اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔عوام میں آگاہی بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔کرپشن،بدعنوانی اور رشوت کے اثرات کے حوالے سے ضرور آگاہی اور اس کے آئندہ نسلوں پر پڑنے والے اثرات ،نقصانات،بیماریاں،خاندان کی ذلت و رسوائی اور سماجی رابطوں میں ہونے والی برائیوں سے آگاہ کرنا ہو گا۔اسلام آباد میں سی ڈی اے کا ادارہ، چونکہ عوام کا اس سے روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔

اپنے مکان ،پلاٹ،دوکان اور پلازے سے لے کر قبر کے حصول کے لئے روزانہ سینکڑوں لوگ آتے ہیں۔اسی سی ڈی اے میں بہت جلیل قدر افسران رہے جن کی زندگیوں سے انسان سبق سیکھتا ہے۔سی ڈی اے کا پہلا چیئر مین جنرل یحییٰ خان تھے جب کہ سیکریٹری ضمیر جعفری تھے جو کہ شاعر ادیب اور کالم نگار بھی تھے۔ان کے فرزند میجر جنرل احتشام ضمیر ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی بھی تھے۔مگر مرحوم ضمیر جعفری ایسے با اصول اور صاحب کردار تھے کہ اسلام آباد کو بنانے والوں میں شامل تھے،مگر شاید سی ڈی اے سے ذاتی پلاٹ تک حاصل نہ کیا مگر اولاد سرخرو ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے عزت شہرت سب کچھ دیا اور انشاء اللہ ،اللہ تعالیٰ کے حضور بھی سرخرو ہوں گے۔ہم صرف چند سالوں کی خوشیوں کے لئے ہمیشہ کے لئے دکھ ،پریشانی اور تکالیف کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس لئے رزق حرام کے اثرات سات نسلوں تک جاتے ہیں۔میرے ایک شریف النفس دوست جو کہ گریڈ 21 کے سرکاری ملازم ہیں،بہت اعلیٰ کردار اور اوصاف کے مالک ہیں۔رزق حلال پر یقین رکھنے والے ڈی ایم جی گروپ سے تعلق ہے۔اسلام آباد میں جب چند سال قبل اسسٹنٹ کمشنر لگے تو میریٹ ہوٹل ان کے ایریا میں تھا،اکثر صحافی / کالم نگار ان سے درخواست کرتے کہ جناب والا آج آپ سے چائے پینی ہے اور امید لگاتے کہ اسسٹنٹ کمشنرصاحب کسی 5 سٹار میں لے کر جائیں گے یا پھر کم از کم اسلام آباد کلب میں مگر موصوف ایک جھونپڑے پر لے کر جاتے اور بہت تعریف کی کہ یہاں کی ڈرائیور ’’چائے‘‘ کا مزہ ہی اور ہے۔میں نے پوچھا کہ ’’کھوکھے‘‘ پر کیوں جاتے تھے؟، تو کہا کہ میری جیب میں صرف پچاس روپے تھے۔یقینا ماننے کو دل نہیں کرتا مگر حقیقت یہی ہے۔

اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر کا ریڈر ہزاروں کماتا/ رشوت لیتا ہے،مگر ایسے درویش صفت انسان جو کہ ولی اللہ کی طرح ہیں ،موجود ہیں۔ مجھے ایک دن اس سرکاری آفسر نے کہا کہ دل کرتا ہے کہ ریڑھی لگائوں ،میں نے کہا کیوں اتنا بڑا عہدہ،عزت اور وقار؟،کہنے لگے کہ حرام کھاتا نہیں ،تنخواہ سے گذارہ نہیں۔اتنے تو ریڑھی لگا کر بھی کما لوں جتنے اس تنخواہ سے حاصل ہوتے ہیں۔جناب چیئر مین نیب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی موقع دیا ہے،آپ کی کارکردگی پر ساری قوم آپ کو مبارکباد پیش کرتی ہے،اگر مجھے کوئی پوچھا کہ پاکستان کا کوئی ایک بڑا مسئلہ جو کہ حل ہو جائے تو ملک ترقی کرے گا۔تو میرے نذدیک وہ صرف ’’کرپشن کا خاتمہ‘‘ ہے،جہاں کرپٹ لوگوں کو بے نقاب کیا جائے وہاں نیک اور رزق حلال کمانے والوں کو رول ماڈل بنائیں،’’ Accountability for All‘‘۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقصد میں کامیاب کرے، کرپشن فری پاکستان ہو۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال سے گذارش ہے کہ پاکستان میں ایسے رزق حلال کمانے بےشمار’’ہیرے‘‘ ہیں، کم از کم ان کو عزت اور احترام دینا چاہئے،’’رول ماڈل‘‘ بنائیں۔ان کی تصاویر اکیڈمیوں،اسکول،کالج اور دفاتر میں لگائیں۔امید ہے کہ چیئر مین صاحب توجہ فرمائیں گے۔