قلم کی طاقت/محمد حنیف تبسم

مقام مصطفیٰ کیا ہےمحمدﷺ کاخدا جانے

ربیع الاول شریف یہ وہ مقدس خوشیوں اور محبتوں کا مہینہ ہے جس میں محبوب خدا تخلیق کائنات و یتیموں کے والی غلاموں کے مولیٰ غربا و مساکین کے ملجا ء کمزوروں کے ماویٰ ، بیوگان کے سہارا ، مظلوموں مجبوروں ،مقہوروں اور بے آسروں کے آسرا بے کسوں کے حامی گرے اور پسے ہوئے لوگوں کے د ستگیرغریبوں کے حقیقی غم خوا آفتاب عالم تاب سراج منیر و رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفیﷺ12 ربیع الاولء بروز سوموار اس دنیا میں ظاہری طور پر جلوہ افروز ہوئے یوں تو آقا ﷺ کا نور مبارک کائنات کی تخلیق بلکہ حضرت آدم کی تخلیق سے دس ہزار سال قبل معرض وجود میں آ گیا تھا لیکن بظاہر یعنی یہ ماہ آقا ﷺ کے میلاد کا مہینہ ہے۔

آقاﷺ کے اس دنیا میں تشریف لانے پر خوشیوں کا مہینہ ہے اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنے تمام قارئین کو کائنات کی سب سے بڑی خوشی عیدمیلاد النبی ﷺکی مبارک باد دیتے ہوئے یہ دعا کرتا ہوں کہ یا رب ہم سب کو اپنے محبوب کی پیدائش والے دن کی خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ ان کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما ۔اس موقع پر چند سطور آقا کے میلاد کی عظمتوں و برکتوں پر لکھنے کی جسارت تو نہیں بلکہ آقا و مولا کے بھکاریوں کی فہرست میں کسی نہ کسی جگہ پر ادنیٰ سی جگہ پانے کی جسارت کر رہا ہوں کیونکہ جس ہستی کا مداخ خواں خود رب العزت ہے تو پھر اس ہستی ﷺ کی تعریف و توصیف ہم سے کیسے بیان ہو سکتی ہے اس لئے اپنے ایک شعر کے ساتھ آقا ﷺ کے دربار میں حاضری دے رہا ہوں
آپ ﷺ کی تعریف کیا لکھوں یا رسول اللہ ﷺ
میرے پاس نہ تو ہاتھ نہ قلم یا رسول اللہ ﷺ
قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کی عظمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ــ ” و رفعنا لک ذکرک ”
اور ہم نے آپ ﷺ کے ذکر کو بلند کر دیا ۔اب اللہ تعالیٰ جس کو ذکر کو بلند کرے تو کس کی ہمت ہے کہ اس ذکر کو گرا بھی سکے تاریخ شاید ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا کونہ نہیں جہاں روزانہ پانچ وقت اذان و اقامت میں با آواز بلند نبی کریم ﷺ کی عظمت کی شہادت نہ دی جاتی ہو حدیش میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبریل امین سے اس آیت کو دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے تو میرے ساتھ آپ ﷺ کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ صرف حضور ﷺ کو اللہ پاک نے سب سے زیادہ ارفع و اعلیٰ مقام عطا فرمایا ہے ۔اس لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
خدا کی عظمتیں کیا ہیں محمد مصطفیﷺ جانے
مقام مصطفی ﷺ کیا ہے محمد ﷺ کا خدا جانے
تمہارے لیے رسول ﷺ کی زندگی حسین و بہترین نمونہ ہے ۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنے محبوب ﷺ کو پیدا نہ فرماتا تو کائنات کی کسی شے کی تخلیق نہ کرتا گویا دو جہاں آقا کے مرہون منت ہیں۔ اس لیے اس موقع پر بھی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
محمد ﷺکی جلوہ نمائی نہ ہوتی
تو دارین میں روشنائی نہ ہوتی
اس ماہ زیادہ سے زیادہ آقا کے میلاد کی خوشیاں منائیں با وضو ہوکرعقیدت واحترام سےآقاﷺ پردرود و سلام کے نذرانے نچھاور کریں اور رسول پاک ﷺ کی تعلیمات جو انہوں نے رہتی امت کے لئے چھوڑی ہیں ان پر عمل پیرا ہوں کیونکہ سیدہ آمنہ کے لعل ﷺ کی خمیر ہی رحمت سے اٹھایا گیا۔غریب و کمزور اور مظلوم طبقوں کی نصرت و حمایت کرنا اور ان کی ہمدردی و خیر خواہی کرنے کا سچا جذبہ ان کی ﷺ جبلت و فطرت میں تھا۔ وہ ساری زندگی غریبوں اور کمزوروں کے لیے جیتے رہے۔ زندگی بھر کوئی مال جمع نہ کیا جو آیا غرباء پر ہی تقسیم کر دیا کمال شفقت سے دنیا کے ٹھکرائے ہوئے راندے ہوئے پسے ہوئے اور ذلت گرے ہوئے لوگوں کو معاشرے میں سر بلند کیا ان کا بول بالا کیا غریب انسان کو عزت نفس بخشی انہیں انسانیت کا درجہ دیا ان کے حقوق متعین کیے ان کے حق میں آواز بلند کی انہیں آزادی بخشی ان پر ہونے والے مظالم کو ختم کیا ان کی معاشرتی حیثیت کو بلند کیا ان کی ضروریات و حاجات کا اہتمام کیا ان کی ہر طرح عزت و افزائی کی لہذا ہمیں چاہیے کہ رسول پاکﷺ کی تعلیمات اور اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور آپ پر ہر وقت درود و سلام کے نذرانے بھیجتے رہیں ۔کیونکہ اسی میں دو جہاں کی بھلائی نپہاں ہے ۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ دور میں گلی گلی محلے محلے شہر شہر نگر نگر قریہ قریہ آق ﷺ کے میلاد کی تقریبات منعقد کروائیں ۔در و بام کو جھنڈیوں اور بجلی کے قمقموں سے سجائیں ۔کیونکہ یہ سب اظہار محبت کے مظاہر ہیں اور کیا پتہ یہی مظاہر ہی عقیدت اور یہی غلامی رسول پاک ﷺ ہماری نجات اور بخشش کا سامان بن جائے ۔

سلام اس پر جو دنیا میں ہمیشہ خاک پر سویا سلام اس پر جو اس امت کے غم میں عمر بھر رویا
سلام اس پر کہ جس نے گمراہوں کی راہنمائی کی سلام اس پر جس نے ہر بُر ے سے خود بھلائی کی
سلام اس پر جس کا مشغلہ حاجت روائی تھا سلام ا س پر کہ جس کا مرتبہ مشکل کشائی تھا