Mathira Khan

متھیرانے ایک بار پھرپاکستانیوں کو شرمندہ کر دیا

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس کی معاشرت میں کچھ ایسے اصول و ضوابط ہیں جن پر عمل کرنا ہر فرد کے لیۓ لازمی ہے مشرقی اقدار کے سبب عام گھرانوں میں شادی اور اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے یہی سبب ہے کہ عام طور پر ہمارے گھرانوں میں مانع حمل اشیا اور وقفے کے طریقوں میں بات یا تو چوری چھپے کی جاتی ہے یا پھر بہت ڈرتے ڈرتے کی جاتی ہے
مگر گزرتے وقت میں آنے والی بہت ساری تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی اب یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بھی اب کنڈوم کے اشتہارات نہ صرف بننے لگے ہیں بلکہ یہ اشتہارات کبھی کبھار سوشل میڈیا کے علاوہ ٹیلی وژن پر بھی ڈرتے ڈرتے نظر آ ہی جاتے ہیں. کنڈوم کے اشتہارات جن کا سلسلہ ساتھی سے شروع ہوا تھا اب ایک پرائيوٹ کمپنی جوش کے کنڈوم تک جا پہنچا ہے وقتا فوقتا جوش کے اشتہارات عوام کی نظر سے گزرتے رہتے ہیں جن میں جوش کے ساتھ متھیرا کا ہونا بھی لازمی ہوتا جا رہا ہے یہاں تک کہ اگر یہ کہا جاۓ کہ متھیرا جوش کی برانڈ ایمبسٹر کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا.
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اس کا ایک بڑا مسلہ ہے ایسے حالات میں مانع حمل اشیا عصر حاضر کی اہم ضرورت ہیں مگر ان کے اشتہارات کو اس طرح جنسی ترغیب کے لیۓ استعمال کرنا ایک مناسب عمل نہیں ہے. ان اشتہارات کو مثبت سوچ اجاگر کرنے کے لیۓ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان کے ذریعے عوام الناس تک ان کی افادیت کو پہنچایا جا سکتا ہے جب کہ موجودہ صورتحال میں یہ اشتہارات صرف اور صرف لوگوں میں جنسی خواہش کی ترغیب کا ذریعہ رہ گیا ہے