وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی ٹھان لی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔گزشتہ روز وزیراعظم کی زیرصدارت گلگت بلتستان اصلاحات کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں اصلاحات کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کیں.

جنہیں وزیراعظم نے منظورکرتے ہوئے گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ بنانے کی منظوری دے دی ہے اوراس کے متعلق اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دیکر مطمئن کرنے کیلئے پاکستان کے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی۔

سرتاج عزیز کمیٹی نے جن سفارشات کو آرڈر 2018 میں شامل نہیں کیا تھا ان کو اب شامل کر کے گلگت بلتستان کو عبوری سوبہ بنایا جائے، کمیٹی میں یہ بات زیر بحث رہی کہ آئینی صوبے کے علاوہ باقی تمام طریقے آزمائے جا چکے ہیں لیکن گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت اور عوام مطمئن نہیں ہو سکے ہیں۔ آئینی اصلاحات کیلئے قائم کمیٹی ذیلی نے اپنی سفارشات وفاقی کمیٹی کو پیس کر دیں ،وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کی زیر صدارت اجلاس میں گورنر گلگت بلتستان ،وفاقی وزیر قانون ، اٹھارنی جنرل و دیگر حکام شریک ہوئے۔

رواں سال ماہ مئی میں مسلم لیگ ن کے دور میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان اصلاحات آرڈر 2018 کی منظوری دیتے ہوئے گلگتی حکومت کو مزید اختیارات دیئے گئے تھے ان نئی اصلاحات کے تحت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا نام تبدیل کرکے گلگت بلتستان اسمبلی رکھا جانا تھا تاکہ یہ اسمبلی ملک کی دیگر صوبائی اسمبلیوں کی طرح تمام معاملات پر قانون سازی کرتی ۔

ان اصلاحات کے تحت گلگت بلتستان کو ایکنک این ایف سی اور دیگر وفاقی اداروں میں خصوصی نمائندگی دینے کا بھی کہا گیا تھا جبکہ چیف کورٹ گلگت بلتستان کا نام گلگت بلتستان ہائی کورٹ رکھنے کی منظوری بھی دی گئی اور قرار دیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام اب پاکستان کی ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اپنے مقدمے لڑ سکتے ہیں۔

اصلاحات کے آرڈر 2018 کو گلگت بلتستان کے لوگوں نے مسترد کرتے ہوئے ہفتوں تک پہیہ جام اور شتر ڈون ہڑتالیں کر کے مسترد کر دیا تھا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی پیش رفت پر آزادکشمیر کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی نے کہا کہ ساری دنیا بلخصوص یو این ریزولوشن کے تحت پوری ریاست جمون کشمیر کا فیصلہ رائے شماری کے زریعہ ہونا ہے-

تاہم سلامتی کومنسل کے تحت فیصلہ ہونے تک گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو صوبہ اور پاکستان مین شامل کئے بغیرپاکستان کے آئین میں ترمیم کرکے ان کو پارلیمنٹ سمیٹ مرکز کے ہر قانون ساز، پالیسی اور فیصلہ سا ز ادارے مین نمائینگی دی جاسکتی ے – ARJK نے 2012- 14 مین یہ تجاویز پیش کی تھین تاکہ ریاست کے ان دون حصون کو بہ یک وقت ایک قسم کے نظام مین لایاجائے- یہی سفارشات سرتاج عزیز کمیٹی نے مارچ 2017 مین کی ہین -جو اعلی سطح کی سرکاری رپور ٹ ہے –

منظور گیلانی نے کہا کہ میں گلگت بلتستان کے بھائیون کو اس کامیابی پر مبارک دیتا ہون جو ایک واضع موقف بھی رکھتے تھے اور اس کو حاصل بھی کیا، اگر آزاد کشمیر کو نظر انداز کیاگیا ہے تو یہ یقینآ آزاد کشمیر حکومت اور آزاد کشمیر کے لیڈرون کی ناکامی اور سلامتی کونسل کی قراردون کی خلاف ورزی ہے- سرتاج عزیز کمیٹی کی رپور ٹ کی سفارشات کا متعلقہ حصہ شامل کیا جاتا ہیے-