پولیس افسر ڈی ایس پی سیدہ زرینہ بتول کو محکمہ پولیس کے کرپٹ مافیا نے دیوار سے لگادیا

سکردو(موسیٰ چلونکھا) گلگت بلتستان محکمہ پولیس کی لیڈی پولیس افسر ڈی ایس پی سیدہ زرینہ بتول کو محکمہ پولیس کے کرپٹ مافیا نے دیوار سے لگادیا جس کے باعث وہ تا حال محکمانہ ترقی سے محروم ہیں، سیدہ زرینہ بتول 1996 میں بطور انسپکٹر بھرتی ہوئیں اس دوران اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھاتی رہیں۔

بطور ٍٹریفک انچارچ سکردو کے انھوں نے ٹریفک نظام میں کئی ایک اصلاحات اور بعض ایسے اقدامات کئے جنہیں ناممکن سمبجھا جاتا تھا جس میں نیو بس اڈا سکردو کا قیام ان کا اہم کارنامہ ہے علاوہ ازیں سکردو کی بے ہنگم ٹریفک کے مسائل ان کے دور میں قابو میں آئے۔

ان کی بطور ٹریفک انچارج تعیناتی سے قبل ٹرانسپورٹر کی من مانیاں عروج پر تھیں جو اپنی مرضی سے دیو ہیکل بسیں بیچ بازار کھڑے کر دیتے جس کے باعث ٹریفک کے مسائل میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد انھوں نے ٹراسنپورٹرز کو گھٹنے ٹیکنے اور نیو بس آڈا منتقل ہونے پر مجبور کیا۔

سکردو شہر میں ٹریفک کےنظام کو راہ راست پر لانے میں میں ان کے موئثر اقدامات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ ڈی ایس پی سیدہ زرینہ بتول انتہائی قابل اور کرپشن سے پاک شخصیت کی مالک ہیں ۔ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ میں نہیں آتی پھر چاہے وہ سیاسی ہو یا مزہبی شخصیت کسی کو قانون کے مقابلے میں خاطر میں نہیں لاتیں۔

اپنے پیشے سے اس قدر فرض شناس لیڈی پولیس افسر ہونے کے باوجود محکمہ پولیس گلگت بلتستان کی جانب سے انہیں دیوار سے لگانا انتہائی افسوسناک فعل ہے ۔

بتایا جاتا ہے کہ انہیں ان کےبھائی سابق ڈی ایس پی سید مظفر رضوی کے سکردو حلقہ ون سے انتخابات میں حصہ لینے کی سزا دی جا رہی ہے ورنہ کوئی ایسی وجہ نہیں بنتی کہ محکمے کا نام روشن کرنے والی ایسے پولیس آفیسر کو اگلے گریڈ میں ترقی دینے کی بجائے راہ میں روڑے اٹکائے جائیں۔

1996 میں انسپکٹر بھرتی ہونے کے باوجود 2018 میں صرف ڈی ایس پی کے عہدے تک بمشکل پہنچ سکیں اور ان کے بیچ کے مرد پولیس افسر آئی جی اور ڈی ائی جی کے عہدوں تک پرموٹ ہو چکے ہیں

خواتین کی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں نے ان کے معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جو سمجھ سے باہر ہےاور سکردو کے باشعور طبقوں نے آئی جی گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ دبنگ پولیس افسر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھیں فورا ترقی دی جائے ۔