نقطہ نظر/امجد شریف

مقامِ شانِ مصطفیٰﷺ اور ہمارے رویے

اللہ بخشے اشفاق احمد مرحوم کو بڑے صاحبِ علم بزرگ تھے۔ وہ کہا کرتے تھے”جو لوگ اسلام کو گالی دینا چاہتے ہیں لیکن کسی ڈر یا عوامی دباو کے باعث ایسا نہیں کر پاتے وہ مولوی کو گالی دے کر اپنی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔” یہ بات بہت حد تک درست ہے۔

اس کی وجہ یہ کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ سید مودودی، عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا امین اصلاحی اوردورِ قریب میں شاہ احمد نورانی جیسے عالم دین کا خلا کوئی پُر نہ کرسکا اورجو دین کی کسی درجہ خدمت کرنے والے موجود بھی ہیں۔ اُنھوں نے بھی اپنا کام چھوڑدیا۔ جس کے نتیجے میں اُن لوگوں نے علماءِ کرام کا منصب سمبھال جو کسی طور بھی اس کے اہل نہ تھے۔اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فساد پھیلا، خون بہا،امت مزید ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی گئی۔ نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگا، اس فساد اور شرپسندی نے منبرِرسولؐ کے تقدس کو بھی مجروع کیا مسجدو محراب میں جاگیردارانہ کچر فروع پانے لگا اور گمند و مینار سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے لگے۔ایک دوسرے پر کفر کے فتوے، بات بے بات دائرہ اسلام سے اخراج کی دھمکیاں جاری ہونے لگی، نبیؐ مہربان کی شان میں گستاخی جس کا تصور(ایمان کے لحاظ سے)کمزور سے کمزور مسلمان بھی نہیں کر سکتاکے فتوے ذاتی دشمنی، کسی عداوت اور فرقہ بندی کی بنیاد پر دئیےجانے لگے۔

ان سب رویوں کے باعث پچھلے چند ماہ سے سوشل میڈیا پر کئی دوسرے فتنے بھی سر اٹھانا شروع ہوئے، کئی ایک (نبوت) کا خودساختہ دعویٰ لے کر شوشل میڈیا پر متحرک ہیں۔ یہ گمراہ کن لوگ اپنے کسی دنیاوی فائدے کی وجہ سے نوجوان نسل کی گمرائ کا باعث بن رہےہیں۔

اللہ ہر مسلمان کو اٙن فتنوں سے محفوظ رکھے۔ فتنوں کے اِس دور میں میری علماء کرام، اہل علم، اساتذہ کرام، والدین اور اسلام کے لیے اور نبیِؐ خاتم سے محبت اور عقیدت رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور تعلیماتِ قرآن کی روشنی میں مقامِ شانِ مصطفیٰﷺ کے پہلو کو اجاگر کریں۔ سیرت نبوی کے پیغام کو عام کریں۔ عشق مصطفیٰﷺ کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ اپنے لکھنے اور بولنے میں احتیاط سے کام لینا ہوئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو عام کیا جائے تاکہ مولا کا نام لے کر مولا کی زمین پر فساد پھیلانے والا کو روکا جا سکے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روئے زمین کی ہر قوم اور ہر انسانی طبقے کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔آپؐ کے اخلاق کی تہذیب وتشکیل وحی نے کی تھی۔آپ کی عادات اور شرافت بزرگی کی جس اعلیٰ ترین سطع پر تھی ۔ اسے نبوت نے سنوار اور سدھارا تھا۔ جب معراج کی شب سب پیغمبر بیت المقدس میں جمع تھے اور صف بستہ آپؐ کے منتظر تھے۔ اس وقت ان کی امامت کا شرف بھی آپؐ کو ہی حاصل ہوا اور اسی وقت سے آپؐ امام انبیاء کہلائے۔ روزِ محشر جب سب انبیائے کرام وفد بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے تاکہ آپؐ ربّٰ کے حضور سفارش کریں تو اس وقت آپؐ ان کے خطیب ہوں گے۔

حوضِ کوثر کے ساقی بھی آپﷺ ہیں۔ جب سب پیاسے ہوں گے اور حوصِ کوثر کے سوا کوئی سہارا نہ ہوگا اس وقت چشمہِ جاں فزا کے مالک بھی آپؐ ہوں گے۔ مقامِ محمود بھی آپؐ کا ہے۔ یہ مقام صرف ایک ذات کو ہی عنایت ہوگا۔جو روزِ محشر سب سے بڑا منصب ہوگا۔جو ربّٰ تعالی آپ ہی کو عنایت کرے گا۔ آپؐ کی لائی ہوئی کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتب کے احکام منسوخ کرنے والی اور آئندہ کے لیے تمام معاملات کے احکام وقوانین واضع کرنے والی ہے۔

آپؐ کا ایک نام احمد ہے۔ یہی وہ نام ہے۔جس کا ذکر کر کے جناب عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو آپؐ کے آنے کی خوشخبری دی۔ آپؐ کا ایک نامِ مبارک عاقب بھی ہے۔ عاقب سب سے اخیر میں آنے والے کو کہتے ہیں۔آپؐ کے اور بھی بہت نام ہیں۔ جو سب کے سب آپ کے مقام اور مرتبے آپؐ کی بزرگی کو بیان کرتے ہیں۔ قرآن کریم تکمیل دین کااعلان کرتا ہے۔ آپؐ کو خاتم النبیین کا لقب دے کر مخاطب کرتا ہے۔ اسی لئے آپؐ سلسلہِ انبیاء کے خاتم اور مہر کہلائے۔
اس حوالے سے قرآن مجید بڑی صراحت و صفائی کے ساتھ مخاطب ہے کہ”محمد(ﷺ)تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں وہ تو اللہ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں۔” (سورہ احزاب)

نبی پاکﷺ نے خود ختم نبوت کی جو تشریح فرمائی ہے وہ بخاری اور مسلم میں متفق علیہ ہےکہ”میری اورانبیاء کی مثال ایسی ہی ہےجیسے ایک محل تھا۔جس کی عمارت بہت حسین بنائی گئی تھی،مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی۔اب وہ جگہ میں نے آکر بھر دی اور عمارت مکمل ہو گئی۔” اور دوسری جگہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نےفرمایا کہ ” بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کرتے تھے ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے”۔

حضور اکرمﷺ تک جس قدر انبیاء علیہم السلام مختلف ادوار میں دنیا میں تشریف لائے ان میں سے کسی کی بھی نبوت عام نہ ہوا کرتی تھی۔ ہر نبی کسی ایک خاص قوم یا کسی خاص بستی کے لیے ہوا کرتا تھا اسی لیے ضرورت ہوتی تھی کہ دوسری قوم اور دوسری بستی کے لیے دوسرا نبی بھیجا جائے۔اورجب انبیائے سابقین دنیا سے تشریف لے جاتے تو ان کے چلے جانے کے بعد ان کی شریعت میں تحریف ہو جاتی تھی اور اللہ تعالی نے کسی بھی شریعت کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی تھی یہاں تک کے دوسرا نبی آئے اور اس کو نئی شریعت دی جائے یا سابقہ شریعت کی اس کے ذریعہ سے اصلاح کرائی جائے۔ اور جو بھی انبیاء آپؐ سے پہلے شریعت لے کر مبعوث ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ نے اکمال کا شرف عطا نہیں فرمایا۔اسی لیے ان کا لایا ہوا دین غیر اکمل ہوتا تھا۔آپﷺ سے پہلے یکے بعد دیگرے انبیاء علیہم السلام آتے رہے اور سلسلۂ نبوت دراز ہوتا رہا مگر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا نبی و رسول بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپﷺ کی نبوت و رسالت بھی پوری دنیا کے لیے عام کردی۔ آپﷺ کی شریعت کو ابدی اور دائمی فرما کر اس کو رد و بدل، تحریف و تنسیخ کے عمل سے محفوظ فرما دیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی اور پھر یہ خوشخبری سنادی گئی کہ ہم نے آپﷺ پر اپنے دین کو اکمل فرمادیا۔

اس کے بعداب کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ محمد رسول اللہﷺ کے بعد اب کسی نبی نے آنا ہے یا اللہ کی وحی یاالہام کا کسی پر نزول ہونا ہے۔ یہ کشف اور یہ سلسلہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوا، جو شریعت ہم کو ملی ہے وہ آخری،ابدی،دائمی اور قیامت تک باقی رہنے والی شریعت ہے۔